الفتح الربانی
كتاب المدح والدم— تعریف اور مذمت کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْي عَنِ اللَّعْنِ وَالتَّرْهِيْبِ مِنْهُ باب: لعنت کرنے سے ممانعت اور اس سے ترہیب کا بیان
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ عَنِ الْعَيْزَارِ بْنِ جَرْوَلٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ يُكَنَّى أَبَا عُمَيْرٍ أَنَّهُ كَانَ صَدِيقًا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ زَارَهُ فِي أَهْلِهِ فَلَمْ يَجِدْهُ قَالَ فَاسْتَأْذَنَ عَلَى أَهْلِهِ فَاسْتَسْقَى قَالَ فَبَعَثَتِ الْجَارِيَةَ تَجِيءُهُ بِشَرَابٍ مِنَ الْجِيرَانِ فَأَبْطَأَتْ فَلَعَنَتْهَا فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ فَجَاءَ أَبُو عُمَيْرٍ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَيْسَ مِثْلُكَ يُغَارُ عَلَيْهِ هَلَّا سَلَّمْتَ عَلَى أَهْلِ أَخِيكَ وَجَلَسْتَ وَأَصَبْتَ مِنَ الشَّرَابِ قَالَ قَدْ فَعَلْتُ فَأَرْسَلَتِ الْخَادِمَ فَأَبْطَأَتْ إِمَّا لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُمْ وَإِمَّا رَغِبُوا فِيمَا عِنْدَهُمْ فَأَبْطَأَتِ الْخَادِمُ فَلَعَنَتْهَا وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((إِنَّ اللَّعْنَةَ إِلَى مَنْ وُجِّهَتْ فَإِنْ أَصَابَتْ عَلَيْهِ سَبِيلًا أَوْ وَجَدَتْ فِيهِ مَسْلَكًا وَإِلَّا قَالَتْ يَا رَبِّ وُجِّهْتُ إِلَى فُلَانٍ فَلَمْ أَجِدْ عَلَيْهِ سَبِيلًا وَلَمْ أَجِدْ فِيهِ مَسْلَكًا فَيُقَالُ لَهَا ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ)) فَخَشِيتُ أَنْ تَكُونَ الْخَادِمُ مَعْذُورَةً فَتَرْجِعَ اللَّعْنَةُ فَأَكُونَ سَبَبَهَا۔ ابو عمیر سے مروی ہے کہ وہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے دوست تھے، ایک دن سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس کو ملنے کے لیے اس کے گھر آئے، لیکن وہ گھر پر موجود نہ تھے، پس انھوں نے اس کے گھر والوں سے اجازت طلب کی اور مشروب طلب کیا، اس کی بیوی نے لونڈی کو بھیجا کہ وہ ہمسائیوں سے کوئی مشروب لائے، جب اس نے تاخیر کی اور اس نے اس پر لعنت کی،یہ سن کر سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ چلے گئے، جب ابو عمیر آئے اور انھوں نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! آپ جیسی شخصیتوں پر غیرت نہیں کی جا سکتی، آپ نے ایسے کیوں نہیں کیا کہ اپنے بھائی کے گھر والوں پر سلام کہتے اور ان کے ہاں بیٹھتے اور پانی وغیرہ پیتے؟ انھوں نے کہا: میں نے اسی طرح ہی کیا تھا، لیکن اصل بات یہ ہے کہ تیری بیوی نے اپنی خادمہ کو بھیجا، اس نے تاخیر کی، ممکن ہے کہ ہمسائیوں کے پاس وہ چیز نہ ہو یا وہ اپنی رغبت کی وجہ سے دینا نہ چاہتے ہوں، اس لیے خادمہ سے تاخیر ہو گئی، جس کی وجہ سے تیری بیوی نے اس پر لعنت کی اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بیشک جب کسی چیز پر لعنت کی جاتی ہے تو اگر اس کو اس چیز پر کوئی گنجائش مل جائے تو ٹھیک، وگرنہ وہ کہتی ہیں: اے میرے ربّ! مجھے فلاں کی طرف بھیجا گیا ہے، لیکن اس میں تو کوئی گنجائش نظر نہیں آ رہی ہے، پس اس کو کہا جاتا ہے: تو جہاں سے آئی ہے، اُدھر ہی لوٹ جا۔ تو میں ڈر گیا کہ خادمہ معذور ہو گی تو لعنت واپس آئے گیاور میں اس کا سبب بن جاؤں گا۔