حدیث نمبر: 10093
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((لَا تَلَاعَنُوا بِلَعْنَةِ اللَّهِ وَلَا بِغَضَبِهِ وَلَا بِالنَّارِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی لعنت، اس کے غضب اور آگ کے ساتھ ایک دوسرے پر لعنت نہ کیا کرو۔

وضاحت:
فوائد: … لعنت سے مراد اللہ تعالیٰ کی پھٹکار، اس کی مار، اللہ تعالیٰ کی خیر و رحمت سے دوری اور اس کے عتاب و غضب کی بد دعا کرنا ہے۔
کسی معین شخص بالخصوص مؤمن آدمییا کسی مخصوص چیز کے لیے اللہ تعالیٰ کی لعنت، اس کے غضب اور جہنم کی بد دعا کرنا سخت منع ہے، کیونکہ اس بد دعا کا مطلب اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری ہے، جبکہ یہ بھی ممکن ہے کہ کافر مسلمان ہو کر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا مستحق بن جائے، بیشتر لوگ ہنسی مذاق یا سنجیدگی میں دوسرے مسلمان بھائیوں کو لعنتی جیسے قبیح القاب سے پکارنے سے اجتناب نہیں کرتے، جبکہ سیدنا ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَعْنُ الْمُؤْمِنِ کَقَتْلِہٖ۔)) (بخاری، مسلم) … مومن پر لعنت کرنا اس کو قتل کرنے کے برابر ہے۔ اگر کوئی آدمی ایسے الفاظ کہنے سے گریز نہیں کرتا تو خود اس کے ملعون ہونے کا خطرہ ہے، جیسا کہ سیدنا ابو دردائ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ الْعَبْدَ اِذَا لَعَنَ شَیْئًا صَعِدَتِ اللَّعَنَۃُ اِلَی السَّمَائِ، فَتُغْلَقُ اَبْوَابُ السَّمَائِ دُوْنَھَا، ثُمَّ تَھْبِطُ اِلَی الْاَرْضِ، فَتُغْلَقُ اَبْوَابُھَا دُوْنَھَا۔ ثُمَّ تَأْخُذُ یَمِیْنًا وَ شِمَالًا فَاِذَا لَمْ تَجِدْ مَسَاغًا رَجَعَتْ اِلَی الَّذِیْ لُعِنَ، فَاِنْ کَانَ اَھْلًا لِذَالِکَ، وَاِلَّا رَجَعَتْ اِلٰی قَائِلِھَا۔)) (ابوداود: ۴۹۰۵) … جب بندہ کسی چیز پر لعنت کرتا ہے کہ تو لعنت آسمان کی طرف چڑھتی ہے، لیکن اس کے لیے آسمان کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، پھر وہ زمین کی طرف اترتی ہے تو اس کے دروازے بھی اس کے ورے بند کر دیے جاتے ہیں۔ پھر دائیں اور بائیں سمت اختیار کرتی ہے، پھر جب کوئی گنجائش نہیں پاتی تو اس کی طرف لوٹتی ہے جس پر لعنت کی گئی ہوتی ہے۔ پس اگر وہ چیز اس لعنت کی مستحق ہو (تو اسی پر پڑتی ہے) وگرنہ وہ لعنت کرنے والے کی طرف لوٹ آتی ہے۔ (اور یوں لعنت کرنے والا خود اپنی لعنت کا حقدار بن جاتا ہے)۔
لیکنیہ بات ذہن نشین رہے کہ کسی تعیین کے بغیر کافروں، فاسقوں اور بدکاروں کے حق میں اور ان لوگوں کے حق لعنت کی بددعا کی جا سکتی ہے، جن کا جہنمی ہونا واضح ہو چکا ہے،جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے چوری کرنے والے، والدین پر لعنت کرنے والے، غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنے والے، تصویر بنانے والے، سود کھانے والے، مردوں سے مشابہت
کرنے والی عورتوں اور عورتوں سے مشابہت اختیار کرنے والے مردوں کے لیے لعنت کی بددعا کرنا ثابت ہے۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ کسی شخص کا نام لے کر لعنت کرناجائز نہیں، چاہے وہ بظاہر ظالم ہو، جھوٹا ہو، قطع رحمی کرنے والا ہو یا قاتل ہو، کیونکہ ممکن ہے کہ جس شخص پر اس کے ظلم یا جھوٹ یا کسی اور گناہ کی وجہ سے لعنت کی جا رہی ہے، اس نے اپنے گناہ سے توبہ کر لی ہو یاآئندہ کر لے گا اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے ہاں ظالم یا جھوٹا نہیں رہے گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اس گناہ کو بغیر توبہ کے معاف کر دے۔ اس لیے کسی بھی گنہگار مسلمان کے لیے، چاہے وہ کتنا ہی بڑا گناہ گار کیوں نہ ہو، اس پر اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد لعنت کرنا جائز نہیں۔ صرف یہ کہنا جائز ہے کہ جھوٹوں پر لعنت ہو، ظالموں پر لعنت ہو، ابو جہل پر لعنت ہو، منافقوں اور کافروں پر لعنت ہو،کیونکہ اس انداز میں صرف وہ لوگ داخل ہوتے ہیں جو مرنے سے پہلے اور مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے ہاں جھوٹے اور ظالم ہی قرار پاتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10093
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه ابوداود: 4906، والترمذي: 1976 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20175 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20437»