الفتح الربانی
كتاب المدح والدم— تعریف اور مذمت کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي ذَمِّ الْأَسْوَاقِ وَ أَمَاكِنَ أُخْرَى باب: بازاروں اور کچھ دوسرے مقامات کی مذمت کابیان
حدیث نمبر: 10091
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا مَرَّ بِالْحِجْرِ قَالَ ((لَا تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ أَنْ يُصِيبَكُمْ مَا أَصَابَهُمْ)) وَتَقَنَّعَ بِرِدَائِهِ وَهُوَ عَلَى الرَّحْلِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب حجر کے پاس سے گزرنے لگے تو فرمایا: ظلم کرنے والے لوگوں کی رہائش گاہوں میں نہ گھسو، مگر اس حال میں کہ تم رو رہے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ جو عذاب ان کو ملا تھا، تم بھی اس میں مبتلا ہو جاؤ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی چادر اوپر اوڑھ لی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری پر تھے۔
وضاحت:
فوائد: … حجر، ثمود کی وادی ہے، جو مدینہ اور شام کے درمیان واقع ہے، صالح علیہ السلام کو ان کی طرف مبعوث کیا گیا تھا، اس وادی میں ان پر عذاب آیا تھا، ایسے مقام سے گزرتے وقت خوف و خشیت کا عالَم طاری ہونا چاہیے، وگرنہ جو آدمی وہاں سے گزرتے وقت ان کی حالت سے عبرت حاصل کرتے ہوئے نہ رویا، تو اس نے ان کے عمل سے مشابہت اختیار کی اور اس کادل سخت ہو گیا، پس ممکن ہے کہ اس کو بھی اس قسم کے عذاب سے دوچار کر دیا جائے۔