الفتح الربانی
كتاب المدح والدم— تعریف اور مذمت کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي ذَمِّ الْأَسْوَاقِ وَ أَمَاكِنَ أُخْرَى باب: بازاروں اور کچھ دوسرے مقامات کی مذمت کابیان
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ قَالَ ((لَا أَدْرِي)) فَلَمَّا أَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ ((يَا جِبْرِيلُ أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ)) قَالَ لَا أَدْرِي حَتَّى أَسْأَلَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَانْطَلَقَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ثُمَّ مَكَثَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَمْكُثَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّكَ سَأَلْتَنِي أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ فَقُلْتُ لَا أَدْرِي إِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ فَقَالَ أَسْوَاقُهَا۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سے مقامات سب سے برے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نہیں جانتا۔ پھر سیدنا جبریل علیہ السلام ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: اے جبریل! کون سے مقامات سب سے برے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی میں نہیں جانتا، لیکن میں اپنے ربّ سے سوال کروں گا، پھر وہ چلے گئے اور جتنا اللہ تعالیٰ کو منظور تھا، ٹھہرے رہے، پھر آئے اور کہا: اے محمد! آپ نے مجھ سے سوال کیا تھا کہ کون سے مقامات برے ہیں، میں نے جواب دیا تھا کہ میں تو نہیں جانتا، پھر میں نے اپنے ربّ سے سوال کیا کہ کون سے مقامات سے سب سے برے ہیں، اللہ تعالیٰ نے کہا: بازار۔
بازار، اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے ناپسندیدہ مقام ہے، بازار پر حکم لگاتے وقت کسی ایک صادق اور امین تاجر کو نہیں دیکھا، مگر وہاں کے پورے ماحول کو سامنے رکھا گیا۔