حدیث نمبر: 10086
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَرَرْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي طَرِيقِ الْمَدِينَةِ فَرَأَى قُبَّةً مِنْ لَبِنٍ فَقَالَ ((لِمَنْ هَذِهِ)) فَقُلْتُ لِفُلَانٍ فَقَالَ ((أَمَا إِنَّ كُلَّ بِنَاءٍ هَدٌّ عَلَى صَاحِبِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا مَا كَانَ فِي مَسْجِدٍ)) أَوْ فِي بِنَاءِ مَسْجِدٍ شَكَّ أَسْوَدُ ثُمَّ مَرَّ فَلَمْ يَرَهَا فَقَالَ ((مَا فَعَلَتِ الْقُبَّةُ)) قُلْتُ بَلَغَ صَاحِبَهَا مَا قُلْتَ فَهَدَمَهَا قَالَ ((رَحِمَهُ اللَّهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ کے ایک راستے میں جا رہا تھا، راستے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچی اینٹوں کا ایک گنبد دیکھا اور پوچھا: یہ کس کا ہے؟ میں نے کہا: جی،یہ فلاں آدمی کا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! ہر عمارت کو قیامت والے دن اس کے مالک پر گرا دیا جائے گا، مگر وہ جو مسجد کی تعمیر میں لگا دیا جائے، یا پھر فلاں فلاں امور میں۔ بعد میں جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسی راستے سے گزر ہوا تو وہ گنبد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نظر نہ آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: اس گنبد کا کیا بنا؟ میں نے کہا: جب آپ کی بات اس کے مالک تک پہنچی تو اس نے اس کو گرا دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ اس پر رحم کرے۔

وضاحت:
فوائد: … اس روایت کی تفصیل درج ذیل ہے: سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ خَرَجَ فَرَاٰی قُبَّۃً مُشْرِفَۃً، فَقَالَ: ((مَاھٰذِہٖ؟)) قَالَلَہُأَصْحَابُہُ: ھٰذِہٖلِفُلَانٍرَجُلٍمِنَالْاَنْصَارِفَسَکَتَوَحَمَلَھَافِیْ نَفْسِہٖ،حَتّٰی
إِذَا جَائَ صَاحِِبُھَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یُسَلِّمُ عَلَیْہِ فِی النَّاسِ، أَعْرَضَ عَنْہُ، صَنَعَ ذَالِکَ مِرَارًا حَتّٰی عَرَفَ الرَّجُلُ الْغَضَبَ فِیْہِ وَالْاِعْرَاضَ عَنْہُ فَشَکـٰی ذَالِکَ اِلٰی اَصْحَابِہٖوَقَالَوَاللّٰہِاِنِّیْ لَاُنْکِرُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالُوْا خَرَجَ فَرَاٰی قُبَّتَکَ۔ فَرَجَعَ الرَّجُلُ اِلٰی قُبَّتِہٖفَھَدَمَھَاحَتّٰی سَوَّاھَا بِالْاَرْضِ فَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذَاتَ یَوْمٍ فَلَمْ یَرَھَا قَالَ: ((مَا فَعَلَتِ الْقُبَّۃُ۔)) قَالُوْا شَکـٰی اِلَیْنَا صَاحِبُھَا اِعْرَاضَکَ فَاَخْبَرْنَاہُ فَھَدَمَھَا، فَقَالَ: ((اَمَا اِنَّ کُلَّ بِنَائٍ وَبَالٌ عَلٰی صَاحِبِہٖاِلَّامَالَا۔)) یَعْنِیْ: مَالَا بُدَّ مِنْہُ۔ … سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلے، ایک بلند گنبد دیکھا اور فرمایا: یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے کہا: یہ فلاں انصاری آدمی کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے اور اس بات کو اپنے دل میں رکھ لیا۔ جب اس کا مالک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیااور لوگوں کی موجودگی میں آپ کو سلام کہا۔ آپ نے اُس سے اعراض کیا، اُس نے کئی مرتبہ سلام کہا (لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعراض کرتے رہے)۔ بالآخر اس آدمی کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناراضگی اور اعراض کا اندازہ ہو گیا، اُس نے صحابہ سے اس بات کی شکایت کی اور کہا: بخدا! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عجیب و اجنبی محسوس کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا: آپ باہر نکلے تھے اور تیرا گنبد دیکھا تھا۔ سو وہ آدمی فوراً اپنے گنبد کی طرف لوٹا اور اُس کو گرا کر زمین کے برابر کردیا۔ (پھر) ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلے اور وہ گنبد آپ کو نظر نہ آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: گنبدکو کیا ہوا؟ صحابہ نے کہا: اس نے ہمارے سامنے آپ کے اعراض کرنے کا شکوہ کیا، ہم نے (آپ کی ناپسندیدگی کی ساری صورتحال) اس پر واضح کر دی، اس لیے اس نے اس کو منہدم کر دیا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار!ہر عمارت اپنے مالک کے حق میں وبال ہے، سوائے اس کے جس کے بغیر کوئی چارہ کار نہ ہو۔ (ابوداود: ۲/۳۴۷، صحیحہ: ۲۸۳۰)
یہ صحابۂ کرام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کا جذبہ تھا، جو چیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسند تھی، وہ ان کو بھی پسند تھی اور جو چیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ناپسند تھی، وہ ان کو بھی ناپسند تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10086
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث محتمل للتحسين لطرقه وشواھده، أخرجه ابن ماجه: 4161، وأخرجه ابوداود بنحوه: 5237 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13301 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13334»