الفتح الربانی
كتاب المدح والدم— تعریف اور مذمت کی کتاب
فَضْلُ مِنْهُ فِي مثل الدُّنْيَا عِنْدَ اللهِ وَهَوَانِهَا عَلَيْهِ باب: اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا کی مثال اور اس پر اس کا حقیر ہونا
حدیث نمبر: 10084
عَنِ الْحَسَنِ عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ سُفْيَانَ الْكِلَابِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ ((يَا ضَحَّاكُ مَا طَعَامُكَ)) قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اللَّبَنُ وَاللَّحْمُ قَالَ ((ثُمَّ يَصِيرُ إِلَى مَاذَا)) قَالَ إِلَى مَا قَدْ عَلِمْتَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ضَرَبَ مَا يَخْرُجُ مِنِ ابْنِ آدَمَ مَثَلًا لِلدُّنْيَا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ضحاک بن سفیان کلابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ضحاک! کون سی چیز تمہارا کھانا ہے؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! دودھ اور گوشت، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر پوچھا: بالآخر یہ کیا بن کر وجود سے نکلتا ہے ؟ انھوں نے کہا: جناب آپ جانتے ہی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس بیشک اللہ تعالیٰ نے ابن آدم سے خارج ہونے والی چیز کو دنیا کے لیے بطورِ مثال بیان کیا ہے۔