حدیث نمبر: 10083
عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((وَاللَّهِ)) وَفِي لَفْظٍ ((وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا كَرَجُلٍ وَضَعَ إِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ ثُمَّ رَجَعَتْ إِلَيْهِ)) وَفِي لَفْظٍ ((فَلْيَنْظُرْ بِمَا يَرْجِعُ أَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ)) وَفِي لَفْظٍ ((يَعْنِي الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ)) قَالَ وَقَالَ الْمُسْتَوْرِدُ أَشْهَدُ أَنِّي كُنْتُ مَعَ الرَّكْبِ الَّذِينَ كَانُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ مَرَّ بِمَنْزِلِ قَوْمٍ قَدِ ارْتَحَلُوا عَنْهُ فَإِذَا سَخْلَةٌ مَطْرُوحَةٌ فَقَالَ ((أَتَرَوْنَ هَذِهِ هَانَتْ عَلَى أَهْلِهَا حِينَ أَلْقَوْهَا)) قَالُوا مِنْ هَوَانِهَا عَلَيْهِمْ أَلْقَوْهَا قَالَ ((فَوَاللَّهِ لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! دنیا آخرت کے مقابلے میں اس طرح ہے کہ آدمی اپنی انگلی دریا میں ڈالے اور پھر اس کو باہر نکالے اور دیکھے کہ وہ کتنے پانی کے ساتھ واپس آئی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگوٹھے کے ساتھ والی انگشت ِ شہادت کی طرف اشارہ کیا۔ سیدنا مستورد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اس قافلے کے ساتھ تھا، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک قوم کے مقام کے پاس سے گزرے، وہ وہاں سے کوچ کر چکے تھے، وہاں ایک بکری کا بچہ پڑا ہوا تھا، جس کو ان لوگوں نے پھینک دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں پوچھا: کیا تمہارا یہی خیال ہے کہ اس کے مالکوں نے اس کو حقیر سمجھ کر ہی چھوڑ دیا ہو گا؟ لوگوں نے کہا: جی اس کی کم اہمیت کی وجہ سے وہ اس کو پھینک گئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس اللہ کی قسم ہے کہ دنیا اللہ تعالیٰ کے ہاں اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10083
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه مسلم: 2858 دون قصة سخلة، وأخرج ھذه القصة الترمذي: 2321، وابن ماجه: 4111 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18021 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18184»