حدیث نمبر: 10081
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِسَخْلَةٍ جَرْبَاءَ قَدْ أَخْرَجَهَا أَهْلُهَا فَقَالَ ((أَتَرَوْنَ هَذِهِ هَيِّنَةً عَلَى أَهْلِهَا)) قَالُوا نَعَمْ قَالَ ((لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک خارش زدہ بھیڑیا بکری کے بچے کے پاس سے گزرے، اس کے مالکوں نے اس کو گھر سے نکال دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس چیز کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے کہ یہ بچہ اپنے مالکوں کے ہاں حقیر ہو گا؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جتنا یہ بچہ اپنے مالکوں کے ہاں حقیر ہے، اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔

وضاحت:
فوائد: … جب آدم علیہ السلام اور حواm نے ممنوعہ درخت کا پھل کھایا تو ان کی توبہ تو قبول ہو گئی، لیکن پھر بھی ان کو زمین پر اتار دیا گیا اور کہا گیا کہ کھوئے ہوئے ورثے کو پانے کی کوشش کریں، درحقیقت انسان جنت کو پانے کے لیے دنیا میں بھیجا گیا، نہ کہ دنیا کو سب کچھ سمجھ لینے کے لیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10081
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه الدارمي: 2737 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8464 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8445»