حدیث نمبر: 10079
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الدُّنْيَا دَارُ مَنْ لَا دَارَ لَهُ وَلَهَا يَجْمَعُ مَنْ لَا عَقْلَ لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیا اس شخص کا گھر ہے، جس کا کوئی گھر نہیں ہوتا اور وہ آدمی اس کے لیے جمع کرتا ہے، جو عقل سے خالی ہوتاہے۔

وضاحت:
فوائد: … بہرحال آخرت والا گھر ہی حقیقی زندگی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَاِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ لَھِیَ الْحَیَوَانُ لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۔} … اور بے شک آخری گھر، یقینا وہی اصل زندگی ہے، اگر وہ جانتے ہوتے۔ (سورۂ عنکبوت: ۶۴)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10079
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، دويد غير منسوب، و زرعة شيخ ابي اسحاق لم يتبين لنا من ھو، ثم انه قد اختلف فيه علي حسين بن محمد ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24419 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24923»