حدیث نمبر: 10078
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَتْ نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تُسَمَّى الْعَضْبَاءَ وَكَانَتْ لَا تُسْبَقُ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى قَعُودٍ فَسَبَقَهَا فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَلَمَّا رَأَى مَا فِي وُجُوهِهِمْ قَالُوا سُبِقَتِ الْعَضْبَاءُ فَقَالَ إِنَّ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يَرْفَعَ شَيْئًا مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا وَضَعَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک اونٹنی تھی، اس کا نام عضباء تھا، کوئی دوسرا اونٹ اس سے سبقت نہیں لے جا سکتا تھا، پس ایک دن ایک بدّو اپنے اونٹ پر سوار ہو کر آیا اور اس سے آگے گزر گیا،یہ چیز مسلمانوں پر بڑی گراں گزری، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے چہروں سے ان کی پریشانی کو محسوس کیا تو اتنے میں انھوں نے خود کہہ دیا کہ عضباء تو پیچھے رہ گئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ دنیا میں جس چیز کو بلند کرے گا، اس کو نیچے بھی کرے گا۔

وضاحت:
فوائد: … شاید ہی کوئی بشر ایسا ہو، جس نے اپنی زندگی میں دنیوی اعتبار سے عروج اور زوال کو نہ پایا ہو، وگرنہ عام طور پر دیکھایہ گیا ہے کہ غربت کے بعد امیری اور امیری کے بعد غربت، محرومی کے بعد بڑے بڑے عہدے اور بڑے بڑے عہدوں کے بعد محرومی، ایک وقت میں آدمیاپنی بڑی عزت دیکھتا ہے، لیکن ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ معاشرے کا بے وقعت فرد بنا ہوا ہوتا ہے، فرعون، قارون، نمرود، ابو جہل اور ابولہب جیسے بڑے بڑے سرکش اپنے آپ کو اس قانون سے مستثنی نہ کر سکے۔
یہ دنیا اور اہل دنیا سے متعلقہ قانون ہے، نہ کہ دین اور اہل دین کے بارے میں، دین اور اس پر عمل کرنے والوں کا مقدر ایسی رفعت و بلندی ہے کہ جس میںہمیشہ عروج رہتا ہے، اس کو کوئی زوال نہیں ہے۔
شارح ابوداود علامہ عظیم آبادی رحمتہ اللہ علیہ صاحب نے کہا: اس حدیث میں دنیا سے بے رغبتی دلائی گئی ہے کہ اس میں جو چیز بھی رفعت اختیار کرتی ہے، وہ بالآخر پست ہو جاتی ہے۔ حافظ منذری کہتے ہیں: بعض نے کہا کہ اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا کا مقام بیان کی گیا ہے کہ یہحقیر اور پست چیز ہے۔ در حقیقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی امت کو متنبہ کرنا چاہتے ہیں کہ وہ دنیا کے مال و متاع کی بنا پر فخر و مباہاۃ کرنا ترک کردیں اور ہر اہل دین و دانش کو چاہئے کہ وہ دنیا سے بے رغبتی اختیار کرے اور اس کو پا کر دوسروں پر برتری جتانا چھوڑ دے، کیونکہدنیوی سازو سامان بہت قلیل ہے اور اس کا حساب و کتاب بڑا طویل ہے۔ (عون المعبود)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10078
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير : 18/ 93، والبزار: 2758، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23982 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12033»