الفتح الربانی
كتاب المدح والدم— تعریف اور مذمت کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي ذَمُ الدُّنْيَا باب: دنیا کی مذمت کا بیان
حدیث نمبر: 10077
- عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي أَصْحَابِهِ فَقَالَ: ((الْفَقْرَ تَخَافُونَ أَوِ الْعَوَزَ أَوْ تُهِمُّكُمُ الدُّنْيَا، فَإِنَّ اللَّهَ فَاتِحٌ لَكُمْ أَرْضَ فَارِسَ وَالرُّومِ وَتُصَبُّ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا صَبًّا حَتَّى لَا يُزِيغُكُمْ بَعْدِي إِنْ أَزَاغَكُمْ إِلَّا هِيَ)).ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: کیا تمہیں غربت و افلاس کا ڈر ہے، کیا تمہاری پریشانی دنیا ہے، پس بیشک اللہ تعالیٰ تم پر فارس اور روم کی سلطنتیں تمہارے لیے فتح کروانے والا ہے، دنیا تم پر اس طرح بہہ پڑے گی کہ کوئی چیز تم کو گمراہ کرنے والی نہیں ہو گی، مگر یہی دنیا۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی امت کے بارے میں فقر و فاقہ کا ڈر نہیں تھا، بلکہ مال کی کثرت کا اندیشہ تھا، کیونکہیہی وہ چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کییاد سے غافل کر دیتی ہے۔