حدیث نمبر: 10074
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِثَوْبَانَ كَيْفَ أَنْتَ يَا ثَوْبَانُ إِذَا تَدَاعَتْ عَلَيْكُمُ الْأُمَمُ كَتَدَاعِيكُمْ عَلَى قَصْعَةِ الطَّعَامِ يُصِيبُونَ مِنْهُ قَالَ ثَوْبَانُ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ قِلَّةٌ بِنَا قَالَ لَا أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ وَلَكِنْ يُلْقَى فِي قُلُوبِكُمُ الْوَهْنُ قَالُوا وَمَا الْوَهْنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ حُبُّكُمُ الدُّنْيَا وَكَرَاهِيَتُكُمْ لِلْقِتَالِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے ثوبان! اس وقت تمہارا کیا بنے گا، جب دوسری امتوں کے لوگ تم پر یوں ٹوٹ پڑیں گے، جیسے تم کھانے کے پیالے پر ٹوٹ پڑتے ہو سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، تمھاری بہت زیادہ تعداد ہو گی، دراصل تمھارے دلوں میں وہنڈال دیا جائے گا۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہن کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیا کی محبت اور جہاد کی کراہیت کو وہن کہتے ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … عصر حاضر دنیائے اسلام اس حدیث کی مصداق بن چکی ہے، مسلمانوں نے دنیوی محبت، موت کی کراہت اور دشمنوں کے رعب کی وجہ سے جہاد ترک کر دیا، جس کی وجہ سے نہ صرف مسلمانوں اور اسلامی مملکتوں کا رعب ختم ہو چکا ہے، بلکہ وہ دشمنوں کے سامنے بری طرح مرعوب ہو چکے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10074
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8713 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8698»