الفتح الربانی
كتاب المدح والدم— تعریف اور مذمت کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي ذَمُ الدُّنْيَا باب: دنیا کی مذمت کا بیان
حدیث نمبر: 10073
عَنْ عُبَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْعَرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ يَا سَامِعَ الْأَشْعَرِيِّينَ لِيُبَلِّغْ مِنْكُمُ الْغَائِبَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ حُلْوَةُ الدُّنْيَا مُرَّةُ الْآخِرَةِ وَمُرَّةُ الدُّنْيَا حُلْوَةُ الْآخِرَةِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبید حضرمی سے روایت ہے کہ جب سیدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انھوں نے کہا: اے اشعریوں کی جماعت! موجودہ لوگ، غائب لوگوں تک میری بات پہنچا دیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: دنیا کی لذت آخرت کی کڑواہٹ ہے اور دنیا کی تلخی آخرت کی لذت و شیری ہے۔
وضاحت:
فوائد: … حقیقت میں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فرمانبرداری میں آخرت میں تو کجا، دنیا میں بھی لذت ہی لذت اور حلاوت ہی حلاوت نصیب ہوتی ہے۔ لیکن عام لوگ جن پر نیکی کرنا اور برائی ترک کرنا گراں گزرتا ہے، انھیں سمجھانے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ لوگ اپنے ذہن کے مطابق جس چیز کو کڑوا اورکٹھن سمجھتے ہیں، حقیقت میں وہی ان کی سعادت کیعلامت ہو گی اور جو چیز زیادہ مرغوب اور پسندیدہ لگے، لیکن بندے کی آخرت کے لیے مضر ہو تو اسے ترک کرنے میں اگرچہ تکلیف ہو گی، لیکنیہ تکلیف کئی رحمتوں کا سبب بن جاتی ہے۔