الفتح الربانی
كتاب المدح والدم— تعریف اور مذمت کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي ذَمُ الدُّنْيَا باب: دنیا کی مذمت کا بیان
حدیث نمبر: 10071
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَحَبَّ دُنْيَاهُ أَضَرَّ بِآخِرَتِهِ وَمَنْ أَحَبَّ آخِرَتَهُ أَضَرَّ بِدُنْيَاهُ فَآثِرُوا مَا يَبْقَى عَلَى مَا يَفْنَىترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنی دنیا سے محبت کی، اس کی آخرت کو نقصان پہنچا اور جس نے اپنی آخرت کو پسند کیا، اس کی دنیا کو نقصان پہنچا، پس تم باقی رہنے والی چیز کو فنا ہونے والی چیز پر ترجیح دو۔
وضاحت:
فوائد: … چشم فلک اور ہر صاحب ِ بصارت کی بصیرت گواہ ہے کہ دنیوی آسائشوں کی وجہ سے عبادات کا سلسلہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا، یہی وجہ ہے کہ آج مساجد میں نمازیوں کی تعداد بہت کم ہو گئی ہے اور اچھے خاصے نمازی لوگ صرف اس وجہ سے نمازِ فجر کی ادائیگی کے لیے مسجد میں حاضر نہیں ہوتے
مذکورہ بالا حدیث کو دیکھا جائے تو کہنا پڑے گا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود یہ تھا کہ معمولی نیند کر کے جسم کا حق ہی ادا کرنا ہے نا، اتنا نرم و ملائم بچھونا استعمال کرنے سے نیند میں اضافہ ہو گا، سستی بڑھے گی اور دنیوی آسائشوں کی طرف میلان میں اضافہ ہو گا۔
مذکورہ بالا حدیث کو دیکھا جائے تو کہنا پڑے گا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود یہ تھا کہ معمولی نیند کر کے جسم کا حق ہی ادا کرنا ہے نا، اتنا نرم و ملائم بچھونا استعمال کرنے سے نیند میں اضافہ ہو گا، سستی بڑھے گی اور دنیوی آسائشوں کی طرف میلان میں اضافہ ہو گا۔