حدیث نمبر: 10070
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ بَعْدَ ثَمَانِ سِنِينَ كَالْمُوَدِّعِ لِلْأَحْيَاءِ وَالْأَمْوَاتِ ثُمَّ طَلَعَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ إِنِّي فَرَطُكُمْ وَأَنَا عَلَيْكُمْ شَهِيدٌ وَإِنَّ مَوْعِدَكُمُ الْحَوْضُ وَإِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَيْهِ وَلَسْتُ أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا أَوْ قَالَ تَكْفُرُوا وَلَكِنِ الدُّنْيَا أَنْ تَتَنَافَسُوا فِيهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آٹھ برسوں کے بعد غزوۂ احد کے مقتولین کی نماز جنازہ پڑھی، ایسے لگ رہا تھا کہ آپ زندوں اور مردوں کو الوداع کہہ رہے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا: میں تمہارا پیش رو ہوں گا اور تمہارے حق میں گواہی دوں گا، بیشک تمہارے وعدے کی جگہ حوض ہے اور میں اس حوض کی طرف دیکھ رہا ہوں، مجھے تمہارے بارے میں شرک کا ڈر نہیں ہے، بلکہ دنیا کا ڈر ہے کہ تم اس میں پڑ جاؤ گے۔ ایک روایت میں شرک کے بجائے کفر کے الفاظ ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … جو دنیا میں پڑ گیا، اس نے اپنی شہوات کو پورا کرنے کی کوشش کی، نتیجتاً وہ معصیتوں میں پڑ گیا اور آخرت کے لیے عمل کرنے کے لیے فارغ نہ ہو سکا، سو اس نے اپنے نفس کے ذریعے اپنی آخرت کو نقصان دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10070
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4042، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17402 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17537»