حدیث نمبر: 10066
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِفِضَّةٍ فَقَالَ هَذِهِ مِنْ مَعْدِنٍ لَنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَتَكُونُ مَعَادِنُ يَحْضُرُهَا شِرَارُ النَّاسِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ بنو سلیم کا ایک آدمی اپنے دادا سے بیان کرتا ہے کہ وہ چاندی لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: یہ ہماری ایک کان کی چاندی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب کانیں ہوں گی، لیکن بدترین لوگ ان پر حاضر ہوں گے۔

وضاحت:
فوائد: … شیخ البانیjکہتے ہے: معادن (کانیں) ان مقامات کو کہتے ہیں، جہاں سے سونے، چاندی اور تانبے جیسے زمینی جواہر برآمد ہوتے ہیں، اس کی واحد معدِن ہے۔ کوئی شک نہیں کہ کافر لوگ ہی بدترین ہوتے ہیں۔ عربوں کے زمینی خزانے نکالنے کے لیےیورپیوں اور امریکیوں کو وہاں لانے کی وجہ سے مسلمان جس آزمائش میں مبتلا ہیں، اس حدیث میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ واللہ المستعان۔ (صحیحہ: ۱۸۸۵)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10066
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه الطبراني في الصغير : 426، وفي الاوسط : 3556، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23645 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24045»