الفتح الربانی
كتاب المدح والدم— تعریف اور مذمت کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي ذَمُ الْمَالِ باب: مال کی مذمت کا بیان
عَنْ شَقِيقٍ قَالَ دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِنِّي أَخْشَى أَنْ أَكُونَ قَدْ هَلَكْتُ إِنِّي مِنْ أَكْثَرِ قُرَيْشٍ مَالًا بِعْتُ أَرْضًا لِي بِأَرْبَعِينَ أَلْفَ دِينَارٍ فَقَالَتْ أَنْفِقْ يَا بُنَيَّ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ مِنْ أَصْحَابِي مَنْ لَا يَرَانِي بَعْدَ أَنْ أُفَارِقَهُ فَأَتَيْتُ عُمَرَ فَأَخْبَرْتُهُ فَأَتَاهَا فَقَالَ بِاللَّهِ أَنَا مِنْهُمْ قَالَتْ اللَّهُمَّ لَا وَلَنْ أُبَرِّئَ أَحَدًا بَعْدَكَ۔ شقیق کہتے ہیں: سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور کہا: اے ام المؤمنین! مجھے ڈر ہے کہ میں ہلاک ہو جاؤں گا، کیونکہ قریشیوں میں سب سے زیادہ مال میرے پاس ہے اور اب میں نے چالیس ہزار دینار کی ایک زمین بیچی ہے، سیدہ نے کہا: اے میرے بیٹے! اپنا مال خرچ کر، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا تھا: بیشک میرے بعض ساتھی ایسے ہیں کہ جب میں (وفات کے وقت) ان سے جدا ہوں گا تو وہ بعد میں مجھے نہیں مل سکیں گے۔ پس میں عبد الرحمن، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کو یہ حدیث سنائی، وہ سیدہ کے پاس پہنچے اور کہا: اللہ کی قسم! کیا میں ان میں سے ہوں؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، اور آپ کے بعد میں ہر گز کسی کو بری نہیں کروں گی۔