حدیث نمبر: 10062
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ سَاهِمُ الْوَجْهِ قَالَتْ فَحَسِبْتُ أَنَّ ذَلِكَ مِنْ وَجَعٍ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا لَكَ سَاهِمُ الْوَجْهِ قَالَ مِنْ أَجْلِ الدَّنَانِيرِ السَّبْعَةِ الَّتِي أَتَتْنَا أَمْسِ أَمْسَيْنَا وَهِيَ فِي خُصْمِ الْفِرَاشِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدلا ہوا تھا، میں نے سمجھا کہ شاید آپ کو کوئی تکلیف ہو گی، پھر میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا وجہ ہے کہ آپ کے چہرے کا رنگ بدلا ہوا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان سات دیناروں کی وجہ سے ہے، جو کل ہمارے پاس آئے تھے اور ابھی تک بچھونے کے کونے میں پڑے ہیں۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10062
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه ابن حبان: 5160، والطبراني في الكبير : 23/ 752 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26514 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27049»