الفتح الربانی
كتاب المدح والدم— تعریف اور مذمت کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي ذَمُ الْمَالِ باب: مال کی مذمت کا بیان
حدیث نمبر: 10061
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ تُوُفِّيَ وَتَرَكَ دِينَارًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَهُ كَيَّةٌ قَالَ ثُمَّ تُوُفِّيَ آخَرُ فَتَرَكَ دِينَارَيْنِ وَفِي رِوَايَةٍ فَوُجِدَ فِي مِئْزَرِهِ دِينَارَانِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَيَّتَانِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل صفہ میں ایک آدمی ایک دینار چھوڑ کر فوت ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: یہ ایک داغ ہے۔ پھر ایک اور آدمی دو دینار چھوڑ کر فوت ہو گیا، ایک روایت میں ہے: اس کے ازار میں دو دینار پائے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: یہ دو داغ ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … دو دیناروں کو دو داغ کیوں قرار دیا گیا؟ دیکھیں حدیث نمبر (۹۸۲۰)