حدیث نمبر: 10059
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَقَفْتُ أَنَا وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي ظِلِّ أُجُمِ حَسَّانَ فَقَالَ لِي أُبَيٌّ أَلَا تَرَى النَّاسَ مُخْتَلِفَةً أَعْنَاقُهُمْ فِي طَلَبِ الدُّنْيَا قَالَ قُلْتُ بَلَى قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يُوشِكُ الْفُرَاتُ يَحْسِرُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ فَإِذَا سَمِعَ بِهِ النَّاسُ سَارُوا إِلَيْهِ فَيَقُولُ مَنْ عِنْدَهُ وَاللَّهِ لَئِنْ تَرَكْنَا النَّاسَ يَأْخُذُونَ مِنْهُ لَيَذْهَبَنَّ فَيَقْتَتِلُ النَّاسُ حَتَّى يُقْتَلَ مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَنْ عَفَّانَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ عبد اللہ بن حارث سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ، سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کے محل کے سائے میں کھڑے تھے، سیدنا ابی ّ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: کیا تو لوگوں کو نہیں دیکھتا کہ طلب ِ دنیا کے لیے ان کی گردنیں مختلف ہوئی ہوئی ہیں؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: قریب ہے کہ فرات سے سونے کا پہاڑ نکل آئے، جب لوگوں کو اس کا پتہ چلے گا تو وہ اس کی طرف جائیں گے، اس پہاڑ کے پاس موجودہ لوگ کہیں گے: اللہ کی قسم! اگر لوگوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیں تو یہ پہاڑ تو ختم ہو جائے گا، پس لوگ آپس میں لڑ پڑیں گے اور ہر سو میں سے ننانوے افراد قتل ہو جائیں گے۔

وضاحت:
فوائد: … یہ سارا کچھ مال کو اکٹھا کرنے کی لالچ میں ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10059
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2895، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21262 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21583»