حدیث نمبر: 10046
عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حَجٍّ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ فَإِذَا امْرَأَةٌ فِي هَوْدَجِهَا (وَفِي رِوَايَةٍ فَإِذَا امْرَأَةٌ فِي يَدَيْهَا حَبَائِرُهَا وَخَوَاتِيمُهَا) قَدْ وَضَعَتْ يَدَيْهَا عَلَى هَوْدَجِهَا قَالَ فَمَالَ فَدَخَلَ الشِّعْبَ فَدَخَلْنَا مَعَهُ فَقَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ فَإِذَا نَحْنُ بِغِرْبَانٍ كَثِيرَةٍ فِيهَا غُرَابٌ أَعْصَمُ أَحْمَرُ الْمِنْقَارِ وَالرِّجْلَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مِثْلُ هَذَا الْغُرَابِ فِي هَذِهِ الْغِرْبَانِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ عمارہ بن خزیمہ کہتے ہیں: ہم سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفرِ حج میں تھے، جب ہم مر ظہران مقام پر پہنچے تو دیکھا کہ ایک عورت اپنے کجاوے میں تھی، ایک روایت میں ہے: ایک خاتون کے ہاتھ مزین تھے اور اس نے انگوٹھیاں پہنی ہوئی تھیں اور اس نے اپنے ہاتھوں کو کجاوے پر رکھا ہوا تھا، پھر سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ ایک طرف مڑے اور گھاٹی میں داخل ہو گئے، پس ہم بھی آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ داخل ہو گئے، پھر انھوں نے کہا: ہم اس مقام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، ہم نے اچانک بہت زیادہ کوے دیکھے، ان میں ایک کوا سرخ چونچ اور سرخ پاؤں والا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورتیں جنت میں داخل نہیں ہوں گی، مگر سرخ چونچ اور سرخ پاؤں والے کوے کی طرح بہت کم۔

وضاحت:
فوائد: … جس طرح سرخ چونچ اور سرخ پنجوں والے کوے تعداد میں دوسرے کوووں کی بہ نسبت بہت کم ہوتے ہیں،یہی معاملہ مذکورہ بالا عورتوں کا ہے کہ جنت میں جانے والی خواتین بہت کم ہوں گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10046
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني في الصحيحة ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17826 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17980»