الفتح الربانی
كتاب المدح والدم— تعریف اور مذمت کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي دَمُ النِّسَاءِ باب: عورتوں کی مذمت کا بیان
حدیث نمبر: 10044
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْفُسَّاقَ هُمْ أَهْلُ النَّارِ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَنِ الْفُسَّاقُ قَالَ النِّسَاءُ وَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَلَسْنَ أُمَّهَاتِنَا وَأَخَوَاتِنَا وَأَزْوَاجَنَا قَالَ بَلَى وَلَكِنَّهُنَّ إِذَا أُعْطِينَ لَمْ يَشْكُرْنَ وَإِذَا ابْتُلِينَ لَمْ يَصْبِرْنَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد الرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک فاسق لوگ جہنمی ہیں۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! فاسق لوگ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورتیں۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا وہ ہماری مائیں، بہنیں اور بیویاں نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں، لیکن جب ان کو دیا جاتا ہے تو وہ شکر ادا نہیں کرتیں اور جب ان کو آزمایا جاتا ہے تو وہ صبر نہیں کرتیں۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں عورتوں کے لیے بڑی عبرت کا درس موجود ہے، کاش عورتیں اپنے خاوندوں کے احسانات کو سامنے رکھ کر شکر گزار اور احسان مند بن جاتیں، جبکہ وہ ان سے مستغنی بھی نہیں ہو سکتیں۔