الفتح الربانی
كتاب المدح والدم— تعریف اور مذمت کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي دَمُ النِّسَاءِ باب: عورتوں کی مذمت کا بیان
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ الدُّنْيَا فَقَالَ إِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَاتَّقُوهَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ ثُمَّ ذَكَرَ نِسْوَةً ثَلَاثًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ امْرَأَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ تُعْرَفَانِ وَامْرَأَةٌ قَصِيرَةٌ لَا تُعْرَفُ فَاتَّخَذَتْ رِجْلَيْنِ مِنْ خَشَبٍ وَصَاغَتْ خَاتَمًا فَحَشَتْهُ مِنْ أَطْيَبِ الطِّيبِ الْمِسْكِ وَجَعَلَتْ لَهُ غَلَقًا فَإِذَا مَرَّتْ بِالْمَلَإِ أَوِ الْمَجْلِسِ قَالَتْ بِهِ فَفَتَحَتْهُ فَفَاحَ رِيحُهُ قَالَ الْمُسْتَمِرُّ بِخِنْصَرِهِ الْيُسْرَى فَأَشْخَصَهَا دُونَ أَصَابِعِهِ الثَّلَاثِ شَيْئًا وَقَبَضَ الثَّلَاثَةَ۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا کا ذکر کیا اور فرمایا: بیشک دنیا سرسبز وشاداب (پرکشش) اور میٹھی ہے، پس تم اس سے بھی بچو اور عورتوں سے بھی بچو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذکر کیا کہ بنی اسرائیل میں تین عورتیں تھیں، دو کو دراز قد ہونے کی وجہ سے پہچان لیا جاتا تھا اور ایک کو کوتاہ قد ہونے کی وجہ سے نہیں پہچانا جاتا تھا، پس اس نے کھڑاؤں (لکڑی کے جوتے) بنوا لیے اور ایک انگوٹھی بنوائی، اس میں سب سے بہترین خوشبو کستوری بھری اور اس کا ایک ڈھکن بنوایا، پھر جب وہ کسی مجلس کے پاس سے گزرتی تو ڈھکن کو کھولتی، پس خوشبو پھیل جاتی تھی۔ مستمر راوی نے کہا کہ وہ انگوٹھی اس بائیں چھنگلی انگلی میں ہوتی، پس وہ اس کو باقی تین انگلیوں کی طرف جھکاتی اور باقی تینوں کو بند کر لیتی۔