حدیث نمبر: 10043
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ الدُّنْيَا فَقَالَ إِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَاتَّقُوهَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ ثُمَّ ذَكَرَ نِسْوَةً ثَلَاثًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ امْرَأَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ تُعْرَفَانِ وَامْرَأَةٌ قَصِيرَةٌ لَا تُعْرَفُ فَاتَّخَذَتْ رِجْلَيْنِ مِنْ خَشَبٍ وَصَاغَتْ خَاتَمًا فَحَشَتْهُ مِنْ أَطْيَبِ الطِّيبِ الْمِسْكِ وَجَعَلَتْ لَهُ غَلَقًا فَإِذَا مَرَّتْ بِالْمَلَإِ أَوِ الْمَجْلِسِ قَالَتْ بِهِ فَفَتَحَتْهُ فَفَاحَ رِيحُهُ قَالَ الْمُسْتَمِرُّ بِخِنْصَرِهِ الْيُسْرَى فَأَشْخَصَهَا دُونَ أَصَابِعِهِ الثَّلَاثِ شَيْئًا وَقَبَضَ الثَّلَاثَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا کا ذکر کیا اور فرمایا: بیشک دنیا سرسبز وشاداب (پرکشش) اور میٹھی ہے، پس تم اس سے بھی بچو اور عورتوں سے بھی بچو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذکر کیا کہ بنی اسرائیل میں تین عورتیں تھیں، دو کو دراز قد ہونے کی وجہ سے پہچان لیا جاتا تھا اور ایک کو کوتاہ قد ہونے کی وجہ سے نہیں پہچانا جاتا تھا، پس اس نے کھڑاؤں (لکڑی کے جوتے) بنوا لیے اور ایک انگوٹھی بنوائی، اس میں سب سے بہترین خوشبو کستوری بھری اور اس کا ایک ڈھکن بنوایا، پھر جب وہ کسی مجلس کے پاس سے گزرتی تو ڈھکن کو کھولتی، پس خوشبو پھیل جاتی تھی۔ مستمر راوی نے کہا کہ وہ انگوٹھی اس بائیں چھنگلی انگلی میں ہوتی، پس وہ اس کو باقی تین انگلیوں کی طرف جھکاتی اور باقی تینوں کو بند کر لیتی۔

وضاحت:
فوائد: … شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: اس حدیث سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ فاسق عورتیں ایسا لباس زیبِ تن کرتی ہیں اور (ایسی وضع قطع اختیار کرتی ہیں) جس کی وجہ سے لوگ اپنی نگاہوں کو ان کی طرف پھیر دیتے ہیں۔ آج کل بھییہ مصیبت عام ہو گئی ہے کہ عورتیں اونچی ہیل والی جوتیاں پہنتی ہیں اور جوتوں کے نیچے لوہا (وغیرہ) لگواتی ہیں، تاکہ چلتے وقت پٹک پٹک کی خوب آواز ہو۔ شایدیہودیوں نے یہ چیز ایجاد کی ہو، جیساکہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے، مسلمان عورتوں کو چاہیے کہ وہ ایسے جوتوں اور لباسوں سے اجتناب کریں۔ واللہ المستعان۔ (صحیحہ: ۴۸۶) خواتین کی ہر چیز جاذب نظر اور پر کشش بنا دی گئی ہے، یہاں تک کہ برقعوں پر بہت ڈیزائننگ کر دی گئی، دیدہ زیب لباس بنا دیئے گئے ہیں،خوشبو کا استعمال بہت عام ہو گیا ہے، زیب و زینت، بناؤ سنگھار اور حسن و جمال کے بہت اسباب پیدا کر دئیے گئے ہیں، صرف جوتوں کے ڈیزائنوں سے ہر چیز کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10043
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم أخرجه ابن خزيمة: 1699، وابن حبان: 5591، وابويعلي: 12993، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11426 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11446»