الفتح الربانی
كتاب المدح والدم— تعریف اور مذمت کی کتاب
بَابُ مَا لَا يَجُوزُ مِينَ الْمَدْحِ باب: تعریف کی ناجائز صورتیں
حدیث نمبر: 10040
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ قَالَ قَامَ رَجُلٌ يُثْنِي عَلَى أَمِيرٍ مِنَ الْأُمَرَاءِ فَجَعَلَ الْمِقْدَادُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَحْثِي فِي وَجْهِهِ التُّرَابَ وَقَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحْثِيَ فِي وُجُوهِ الْمَدَّاحِينَ التُّرَابَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو معمر کہتے ہیں: ایک آدمی کھڑا ہوا اور وہ ایک امیر کی تعریف کرنے لگا، اُدھر سے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے اس کے چہرے پر مٹی پھینکنا شروع کر دی اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم تعریف کرنے والوں کے چہروں پر مٹی پھینکیں۔
وضاحت:
فوائد: … امام مبارکپوری رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث پر بحث کرتے ہوئے دو مفاہیم پیش کیے ہیں:(۱)زیادہ بہتر یہ ہے کہ اس حدیث کو اس کے ظاہری معنی پر محمول کیا جائے، جیسا کہ راوی ٔ حدیث سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے کیا، وگرنہ (۲) اگر تاویل کی جائے تو اس کا معنییہ ہوگا کہ تعریف کرنے والے کو ناکام و نامراد بنا دیا جائے، اس کی امیدوں پر پانی پھیر دیا جائے، تعریف کرنے کی وجہ سے اسے کچھ نہ دیا جائے، تاکہ اس کی زجر و توبیخ ہو سکے اور اسے ایسا کرنے سے روکا جا سکے۔ باقی تمام تاویلوں میں بُعد پایا جاتا ہے۔ (یاد رہے کہ تعریف کرنے والے کو مادِح اور جس کی تعریف کی جائے اس کو مَمدُوح کہتے ہیں۔)امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: کسی کی تعریف کرنے میں چھ آفات پائی جاتی ہیں، چار کا تعلق مادح سے ہے اور دو کا ممدوح سے۔
(۱)تعریف کرنے والا افراط سے کام لیتے ہوئے ایسی صفات کا تذکرہ بھی کر دیتا ہے، جن سے درحقیقت متعلقہ فرد متصف نہیں ہوتا، سو وہ جھوٹا قرار پاتا ہے۔(۲) مادِح تعریف کرتے وقت ظاہری طور پر ایسی محبت و مودّت کا اظہار
کرتا ہے، جو اس کے باطن میں نہیں ہوتی، سو وہ منافق قرار پاتا ہے۔ (۳)بسا اوقات مادِ ح تحقیق کیے بغیر باتیں کر جاتا ہے اور اس طرح اپنے آپ کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ (۴)بعض اوقات ممدوح ظالم ہوتا ہے، لیکن مادِح اس کی تعریف کرکے اس کو خوش کر دیتا ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کا نافرمان ٹھہرتا ہے۔ (۵)تعریف و توصیف کی وجہ سے ممدوح میں تکبر اور بڑائی جیسی بیماری پیدا ہو سکتی ہے اور (۶)بسا اوقات یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ممدوح اپنی تعریف پر اتنا اترائے کہ اس کا عمل ضائع ہو جائے۔ (تحفۃ الاحوذی)
قارئین کرام! اس قسم کی سخت وعید وں کے باوجود عصرحاضر میں سامعین و حاضرین کے سامنے سجائے گئے سٹیج پر ایک دوسرے کی تعریف کرنے میں حد سے تجاوز کیا جاتا ہے، اس سٹیج پر مذہبی قائدین تشریف فرما ہوںیا سیاسی لیڈر۔ ایسے ہی الیکشن، جلسے جلوس اور کانفرنسوں کے مواقع پر جو اشتہار شائع کیے جاتے ہیں، ان میں بھی قائدین کے القاب و اوصاف بیان کرنے میں غلوّ سے کام لیا جاتا ہے، جیسے ولی کامل، پیکر اخلاص، شہنشاہِ خطابت، قاطع شرک و بدعت، سرمایۂ اسلام، محسِنِ اسلام، عالم باعمل، شب بیدار۔
(۱)تعریف کرنے والا افراط سے کام لیتے ہوئے ایسی صفات کا تذکرہ بھی کر دیتا ہے، جن سے درحقیقت متعلقہ فرد متصف نہیں ہوتا، سو وہ جھوٹا قرار پاتا ہے۔(۲) مادِح تعریف کرتے وقت ظاہری طور پر ایسی محبت و مودّت کا اظہار
کرتا ہے، جو اس کے باطن میں نہیں ہوتی، سو وہ منافق قرار پاتا ہے۔ (۳)بسا اوقات مادِ ح تحقیق کیے بغیر باتیں کر جاتا ہے اور اس طرح اپنے آپ کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ (۴)بعض اوقات ممدوح ظالم ہوتا ہے، لیکن مادِح اس کی تعریف کرکے اس کو خوش کر دیتا ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کا نافرمان ٹھہرتا ہے۔ (۵)تعریف و توصیف کی وجہ سے ممدوح میں تکبر اور بڑائی جیسی بیماری پیدا ہو سکتی ہے اور (۶)بسا اوقات یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ممدوح اپنی تعریف پر اتنا اترائے کہ اس کا عمل ضائع ہو جائے۔ (تحفۃ الاحوذی)
قارئین کرام! اس قسم کی سخت وعید وں کے باوجود عصرحاضر میں سامعین و حاضرین کے سامنے سجائے گئے سٹیج پر ایک دوسرے کی تعریف کرنے میں حد سے تجاوز کیا جاتا ہے، اس سٹیج پر مذہبی قائدین تشریف فرما ہوںیا سیاسی لیڈر۔ ایسے ہی الیکشن، جلسے جلوس اور کانفرنسوں کے مواقع پر جو اشتہار شائع کیے جاتے ہیں، ان میں بھی قائدین کے القاب و اوصاف بیان کرنے میں غلوّ سے کام لیا جاتا ہے، جیسے ولی کامل، پیکر اخلاص، شہنشاہِ خطابت، قاطع شرک و بدعت، سرمایۂ اسلام، محسِنِ اسلام، عالم باعمل، شب بیدار۔