الفتح الربانی
كتاب المدح والدم— تعریف اور مذمت کی کتاب
بَابُ مَا لَا يَجُوزُ مِينَ الْمَدْحِ باب: تعریف کی ناجائز صورتیں
عَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْأَدْرَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِبَابِ الْمَسْجِدِ إِذَا رَجُلٌ يُصَلِّي قَالَ أَتَقُولُهُ صَادِقًا قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَذَا فُلَانٌ وَهَذَا مِنْ أَحْسَنِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَوْ قَالَ أَكْثَرُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ صَلَاةً قَالَ لَا تُسْمِعْهُ فَتُهْلِكَهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا إِنَّكُمْ أُمَّةٌ أُرِيدَ بِكُمُ الْيُسْرُ۔ سیدنا محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ مسجد کے دروازے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، جب انھوں نے اچانک ایک آدمی کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: تیرا کیا خیال ہے کہ یہ آدمی سچا ہے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! یہ فلاں آدمی ہے، مدینہ میں سب سے اچھا اور سب سے زیادہ نماز پڑھنے والا شخص ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے یہ بات اس کو سنا کر نہیں کرنی، وگرنہ اس کو ہلاک کر دو گے۔ دو تین بار یہ بات کی اور پھر فرمایا: بیشک تم ایسی امت ہو، جس کے ساتھ آسانی کا ارادہ کیا گیا ہے۔