حدیث نمبر: 10037
عَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْأَدْرَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِبَابِ الْمَسْجِدِ إِذَا رَجُلٌ يُصَلِّي قَالَ أَتَقُولُهُ صَادِقًا قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَذَا فُلَانٌ وَهَذَا مِنْ أَحْسَنِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَوْ قَالَ أَكْثَرُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ صَلَاةً قَالَ لَا تُسْمِعْهُ فَتُهْلِكَهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا إِنَّكُمْ أُمَّةٌ أُرِيدَ بِكُمُ الْيُسْرُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ مسجد کے دروازے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، جب انھوں نے اچانک ایک آدمی کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: تیرا کیا خیال ہے کہ یہ آدمی سچا ہے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! یہ فلاں آدمی ہے، مدینہ میں سب سے اچھا اور سب سے زیادہ نماز پڑھنے والا شخص ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے یہ بات اس کو سنا کر نہیں کرنی، وگرنہ اس کو ہلاک کر دو گے۔ دو تین بار یہ بات کی اور پھر فرمایا: بیشک تم ایسی امت ہو، جس کے ساتھ آسانی کا ارادہ کیا گیا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … غور کریں کہ جس شخص کو مدینہ منورہ کا اچھا اور سب سے زیادہ نماز پڑھنے والا قرار دیا جا رہا ہے، اس کے سامنے بھی تعریفی کلمات کہنے سے منع کیا گیا، اس سے مقصود اس کی سلامت و حفاظت ہے۔ اس حدیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ کسی کی عدم موجودگی میں اس کا تذکرۂ خیر کیا جا سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10037
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه الحاكم: 4/ 427، والطبراني في الكبير : 20/ 706 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20347 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20614»