الفتح الربانی
كتاب المدح والدم— تعریف اور مذمت کی کتاب
بَابُ مَا لَا يَجُوزُ مِينَ الْمَدْحِ باب: تعریف کی ناجائز صورتیں
حدیث نمبر: 10035
- (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقِ ثَانِ، عَنْ أَبِيهِ) أَنَّ رَجُلًا مَدَحَ صَاحِبًا لَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((وَيْلَكَ قَطَعْتَ عُنُقَهُ، إِنْ كُنْتَ مَادِحًا لَا مَحَالَةَ فَقُلْ أَحْسِبُهُ كَذَا وَكَذَا وَاللَّهُ حَسِيبُهُ وَلَا أُزَكِّي عَلَى اللَّهِ تَعَالَى أَحَدًا)).ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اپنے ایک ساتھی کی تعریف کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو ہلاک ہو جائے، تو نے تو اس کی گردن کاٹ کے رکھ دی ہے، اگر تو نے لامحالہ طور پر تعریف کرنی ہی ہے تو اس طرح کہہ: میرا گمان ہے کہ وہ شخص ایسے ایسے ہے اور اس کا محاسب اللہ تعالیٰ ہے اور میں اللہ تعالیٰ پر کسی کا تزکیہ نہیں کر سکتا۔