الفتح الربانی
كتاب المدح والدم— تعریف اور مذمت کی کتاب
بَابُ مَا لَا يَجُوزُ مِينَ الْمَدْحِ باب: تعریف کی ناجائز صورتیں
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ ذَكَرُوا رَجُلًا عِنْدَهُ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا مِنْ رَجُلٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ مِنْهُ فِي كَذَا وَكَذَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَيْحَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ مِرَارًا يَقُولُ ذَلِكَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَ أَحَدُكُمْ مَادِحًا أَخَاهُ لَا مَحَالَةَ فَلْيَقُلْ أَحْسِبُ فُلَانًا إِنْ كَانَ يَرَى أَنَّهُ كَذَاكَ وَلَا أُزَكِّي عَلَى اللَّهِ تَبَارَكَ أَحَدًا وَحَسِيبُهُ اللَّهُ أَحْسَبُهُ كَذَا وَكَذَا۔ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں ایک آدمی کا تذکرہ کیا اور ایک شخص نے اس کے بارے میں کہا: اے اللہ کے رسول! کوئی شخص نہیں ہے، جو فلاں فلاں عمل میں اللہ کے رسول کے بعد افضل ہو، مگر وہی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو ہلاک ہو جائے، تو نے تو اپنے ساتھی کی گردن کاٹ دی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کئی بار یہ بات ارشاد فرمائی اور پھر فرمایا: اگر کسی نے لامحالہ طور پر کسی کی تعریف کرنی ہی ہو تو وہ یوں کہے: میرا گمان ہے کہ وہ آدمی ایسے ایسے ہے اور میں اللہ تعالیٰ پر کسی کا تزکیہ نہیں کر سکتا، دراصل اس کا محاسب اللہ تعالیٰ ہے، بہرحال میں اس کو ایسے ایسے گمان کرتا ہوں۔