الفتح الربانی
كتاب المدح والدم— تعریف اور مذمت کی کتاب
بَابُ مَا يَجُوزُ مِنَ الْمَدْحِ باب: تعریف کی جائز صورتوں کا بیان
حدیث نمبر: 10033
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يَعْمَلُ الْعَمَلَ فَيَحْمَدُهُ النَّاسُ عَلَيْهِ وَيُثْنُونَ عَلَيْهِ بِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ عَاجِلُ بُشْرَى الْمُؤْمِنِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آدمی عمل کرتا ہے اور لوگ اس کی وجہ سے اس کی تعریف اور مدح سرائی کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ مؤمن کے لیے جلدی مل جانے والی خوشخبری ہے۔
وضاحت:
فوائد: … قارئین کرام! کسی آدمی کے منہ پر اس کی تعریف کرنا بھی سخت منع ہے، مدح سرائی کا خواہش مند ہونا بھی قابل مذمت ہے اور ریاکاری کرنا بھی باعث ِ ہلاکت ہے، تو پھر اس حدیث میں مذکورہ خوشخبری کون سی ہے؟ دراصل یہ مدح سرائی اس محبت کا اثر ہے، جو اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں اپنے خاص بندے کے لیے الہام کر دیتا ہے، جبکہ وہ آدمی خلوص کے ساتھ اور لوگوں سے بے پروا ہو کر عمل بھی کرتا ہے اور اپنے سامنے تعریفی کلمات سننا بھی گوارہ نہیں کرتا، اس کے باوجود جب وہ دیکھتا ہے کہ سنجیدہ لوگ اپنی مجلسوں میںیا ایک دوسرے کے ساتھ اس کا تذکرۂ خیر کرتے ہیں تو وہ اس کو اپنے حق میں خوشخبری سمجھتا ہے، لیکن ریاکاری، عجب پسندی، تکبر اور خودنمائی سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔