الفتح الربانی
كتاب المدح والدم— تعریف اور مذمت کی کتاب
بَابُ مَا يَجُوزُ مِنَ الْمَدْحِ باب: تعریف کی جائز صورتوں کا بیان
حدیث نمبر: 10032
عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ زُهَيْرٍ الثَّقَفِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالنَّبَاءَةِ أَوِ النَّبَاوَةِ شَكَّ نَافِعٌ مِنَ الطَّائِفِ وَهُوَ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ تُوشِكُونَ أَنْ تَعْرِفُوا أَهْلَ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ أَوْ قَالَ خِيَارَكُمْ مِنْ شِرَارِكُمْ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ بِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ بِالثَّنَاءِ السَّيِّئِ وَالثَّنَاءِ الْحَسَنِ وَأَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا زہیر ثقفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے طائف میں نباوہ مقام پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: لوگو! بیشک قریب ہے کہ تم جنت والوں اور جہنم والوں یا نیکوکاروں اور بدکاروں کو پہچان لو۔ ایک بندے نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بری اور اچھی تعریف کے ذریعے، دراصل تم ایک دوسرے پر گواہی دینے میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو۔