الفتح الربانی
كتاب المدح والدم— تعریف اور مذمت کی کتاب
بَابُ مَا يَجُوزُ مِنَ الْمَدْحِ باب: تعریف کی جائز صورتوں کا بیان
حدیث نمبر: 10031
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِيهِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنْتَ سَيِّدُ قُرَيْشٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ السَّيِّدُ اللَّهُ فَقَالَ أَنْتَ أَفْضَلُهَا فِيهَا قَوْلًا وَأَعْظَمُهَا فِيهَا طَوْلًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِيَقُلْ أَحَدُكُمْ بِقَوْلِهِ وَلَا يَسْتَجِرَّنَّهُ الشَّيْطَانُ أَوِ الشَّيَاطِينُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: آپ قریش کے سردار ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سردار تو اللہ ہے۔ پھر اس نے کہا: آپ بات کے لحاظ سے ہم میں سب سے افضل ہیں، مہربانی و کرم میں سب سے زیادہ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر کوئی اپنے مقصد کی بات کرے اور ہر گز شیطان کسی کو اپنے تابع فرمان نہ کرنے پائے۔
وضاحت:
فوائد: … جب لفظ سردار کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو گی تو اس کی شان و عظمت کے لائق اس کا معنی ہو گا اور جب اس کی نسبت بندوں کی طرف ہو گی تو ان کی حیثیت کے مطابق اس کا معنی کیا جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود فرمایا: ((اَنَا سَیِّدُ وُلْدِ آدَمَ، وَلَا فَخْرَ)) … میں اولادِ آدم کا سردار ہوں اور مجھے اس پر فخر نہیں ہے۔