الفتح الربانی
كتاب المدح والدم— تعریف اور مذمت کی کتاب
بَابُ مَا يَجُوزُ مِنَ الْمَدْحِ باب: تعریف کی جائز صورتوں کا بیان
حدیث نمبر: 10030
عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَدْ وَفَدَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ قَالَ فَأَتَيْنَاهُ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَقُلْنَا أَنْتَ وَلِيُّنَا وَأَنْتَ سَيِّدُنَا وَأَنْتَ أَطْوَلُ عَلَيْنَا قَالَ يُونُسُ وَأَنْتَ أَطْوَلُ عَلَيْنَا طَوْلًا وَأَنْتَ أَفْضَلُ عَلَيْنَا فَضْلًا وَأَنْتَ الْجَفْنَةُ الْغَرَّاءُ فَقَالَ قُولُوا قَوْلَكُمْ وَلَا يَسْتَجْرِيَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ قَالَ وَرُبَمَا قَالَ وَلَا يَسْتَهْوِيَنَّكُمْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ بنو عامر کے چند ساتھیوں سمیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف آیا اور اس واقعہ کو یوں بیان کیا: پس ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: آپ ہمارے دوست ہیں، آپ ہمارے سردار ہیں، آپ ہم پر مہربانی و کرم کرنے میں بہت مہربان ہیں، آپ فضیلت میں ہم سے زیادہ ہیں اور آپ بہت بڑے سخی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی مقصد کی بات کرو، ہرگز شیطان تم کو اپنے جال میں نہ پھنسانے پائے۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جو صفات بیان کی گئی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدرجۂ اتم ان سے متصف تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ نہیں چاہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے تعریف کی جائے۔
عرب لوگ بہت زیادہ کھلانے والے سردار کو جَفْنَہ کہتے تھے، جس کے لفظی معنی ٹب کے ہیں اور غَرّائ کا معنی سفید ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ وہ ٹب چربی اور تیل سے بھرا ہوا ہو، ہم نے ان الفاظ کا مفہومی ترجمہ کیا ہے۔
عرب لوگ بہت زیادہ کھلانے والے سردار کو جَفْنَہ کہتے تھے، جس کے لفظی معنی ٹب کے ہیں اور غَرّائ کا معنی سفید ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ وہ ٹب چربی اور تیل سے بھرا ہوا ہو، ہم نے ان الفاظ کا مفہومی ترجمہ کیا ہے۔