الفتح الربانی
كتاب آفات اللسان— زبان کی آفتوں کے مسائل
فَصْلٌ مِنْهُ فِي الْعُشَارِيَّاتِ الْمَبْدُونَةِ بِعَدَدِ باب: دس کے عدد سے شروع ہونے والے دس دس امور کا بیان
عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أَبِي الْحُصَيْنِ الْهَيْثَمِ بْنِ شُفَيٍّ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ خَرَجْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي يُسَمَّى أَبَا عَامِرٍ رَجُلٌ مِنَ الْمَعَافِرِ لِيُصَلِّيَ بِإِيلِيَاءَ وَكَانَ قَاصُّهُمْ رَجُلًا مِنَ الْأَزْدِ يُقَالُ لَهُ أَبُو رَيْحَانَةَ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَبُو الْحُصَيْنِ فَسَبَقَنِي صَاحِبِي إِلَى الْمَسْجِدِ ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ فَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَسَأَلَنِي هَلْ أَدْرَكْتَ قِصَصَ أَبِي رَيْحَانَةَ فَقُلْتُ لَا فَقَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَشَرَةٍ عَنِ الْوَشْرِ وَالْوَشْمِ وَالنَّتْفِ وَعَنْ مُكَامَعَةِ الرَّجُلِ الرَّجُلَ بِغَيْرِ شِعَارٍ وَعَنْ مُكَامَعَةِ الْمَرْأَةِ الْمَرْأَةَ بِغَيْرِ شِعَارٍ وَأَنْ يَجْعَلَ الرَّجُلُ فِي أَسْفَلِ ثِيَابِهِ حَرِيرًا مِثْلَ الْأَعْلَامِ وَأَنْ يَجْعَلَ عَلَى مَنْكِبَيْهِ مِثْلَ الْأَعَاجِمِ وَعَنِ النُّهْبَى وَرُكُوبِ النُّمُورِ وَلُبْسِ الْخَاتَمِ إِلَّا لِذِي سُلْطَانٍ۔ ابو حصین ہیثم بن شُفَی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور میرا ابو عامر نامی ایک ساتھی (بیت المقدس کے شہر) ایلیا میں نماز پڑھنے کے لیے نکلے، میرے ساتھی کا تعلق یمن کے مقام معافر سے تھا، ان کا واعظ ازدی تھا، اس کو ابو ریحانہ کہتے تھے اور وہ صحابی تھا، ابو حصین کہتے ہیں: میرا ساتھ مجھ سے پہلے مسجد میں پہنچ گیا، پھر جب میں مسجد میں پہنچا تو اس کے پہلو میں بیٹھ گیا، انھوں نے مجھ سے سوال کیا: کیا تم نے سیدنا ابو ریحانہ رضی اللہ عنہ کے قصے سنے ہیں؟ میں نے کہا: جی نہیں، اس نے کہا: میں نے سنا ہے، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِن دس چیزوں سے منع کیا ہے: دانتوں کو باریک کرنا، تل بھرنا، بالوں کو اکھاڑنا، بغیر لباس کے مرد کا مرد کے ساتھ لیٹنا، اسی طرح بغیر لباس سے عورت کا عورت کے ساتھ لیٹنا، مرد کا اپنے کپڑوں کے نچلی طرف اور کندھوں پر عجموں کی طرح (ریشم) ڈالنا، ڈاکہ زنی، چیتوں کے چمڑے کی زین وغیرہ بنا کر اس پر سوار ہونا اور حکومت والے بندے کے علاوہ دوسرے لوگوں کا انگوٹھی پہننا۔