حدیث نمبر: 10025
عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَوْصَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِعَشْرِ كَلِمَاتٍ قَالَ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا وَإِنْ قُتِلْتَ وَحُرِّقْتَ وَلَا تَعُقَّنَّ وَالِدَيْكَ وَإِنْ أَمَرَاكَ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ أَهْلِكَ وَمَالِكَ وَلَا تَتْرُكَنَّ صَلَاةً مَكْتُوبَةً مُتَعَمِّدًا فَإِنَّهُ مَنْ تَرَكَ صَلَاةً مَكْتُوبَةً مُتَعَمِّدًا فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَلَا تَشْرَبَنَّ خَمْرًا فَإِنَّهُ رَأْسُ كُلِّ فَاحِشَةٍ وَإِيَّاكَ وَالْمَعْصِيَةَ فَإِنَّ بِالْمَعْصِيَةِ حَلَّ سَخَطُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِيَّاكَ مِنَ الْفِرَارِ يَوْمَ الزَّحْفِ وَإِنْ هَلَكَ النَّاسُ وَإِذَا أَصَابَ النَّاسَ مَوْتَانٌ وَأَنْتَ فِيهِمْ فَاثْبُتْ وَأَنْفِقْ عَلَى عِيَالِكَ مِنْ طوْلِكَ وَلَا تَرْفَعْ عَنْهُمْ عَصَاكَ أَدَبًا وَأَخِفْهُمْ فِي اللَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دس امور کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: تونے اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہرانا، اگرچہ تجھ کو قتل کر دیا جائے اور جلا دیا جائے، ہر گز والدین کی نافرمانی نہیں کرنی، اگرچہ وہ تجھ کو حکم دیں کہ تو اپنے اہل و مال سے نکل جائے، جان بوجھ کر ہر گز فرضی نماز کو ترک نہیں کرنا، کیونکہ جس نے جان بوجھ کر فرضی نماز ترک کر دی، اللہ تعالیٰ کا ذمہ اس سے بری ہو جائے گا، تو نے ہر گز شراب نہیں پینی، کیونکہ وہ ہر بے حیائی کی جڑ ہے، نافرمانی سے بچنا، کیونکہ نافرمانی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی نازل ہوتی ہے، لڑائی والے دن بھاگنے سے بچنا ہے، اگرچہ لوگ مر رہے ہوں، جب لوگ کثرت سے موت میں مبتلا ہو رہے ہوں، جبکہ تو ان میں موجود ہو تو تو نے ثابت قدم رہنا ہے، اپنی حیثیت کے مطابق اپنے اہل و عیال پر خرچ کر، ان کو ادب سکھانے کے لیے اپنی لاٹھی کو ان سے دور نہ کر اور ان کو اللہ تعالیٰ سے ڈرا۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: أَوْصَانِی خَلِیلِی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَنْ ((لَا تُشْرِکْ بِاللّٰہِ شَیْئًا وَإِنْ قُطِّعْتَ وَحُرِّقْتَ وَلَا تَتْرُکْ صَلَاۃً مَکْتُوبَۃً مُتَعَمِّدًا فَمَنْ تَرَکَہَا مُتَعَمِّدًا فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْہُ الذِّمَّۃُ وَلَا تَشْرَبِ الْخَمْرَ فَإِنَّہَا مِفْتَاحُ کُلِّ شَرٍّ۔)) … میرے خلیل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے وصیت کرتے ہوئے فرمایا: تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرا، اگرچہ تجھ کو کاٹ دیا جائے اور جلا دیا جائے، تو جان بوجھ کر فرضی نماز نہ چھوڑ، کیونکہ جو آدمی جان بوجھ کر نماز چھوڑے گا، اس سے (اللہ کا) ذمہ بری ہو جائے گا اور شراب نہ پی، کیونکہ وہ ہر شرّ کی چابی ہے۔ (ابن ماجہ: ۴۰۲۴)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 10025
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، عبد الرحمن بن جبير لم يدرك معاذا، ولبعضه شواھد، أخرجه بنحوه الطبراني في الكبير : 20/ 156 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22075 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22425»