الفتح الربانی
كتاب آفات اللسان— زبان کی آفتوں کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي السُّدَاسِيَّاتِ باب: چھ چھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ الشَّامِيِّ قَالَ قَالَ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ يَا طَاعُونُ خُذْنِي إِلَيْكَ قَالَ فَقَالُوا أَلَيْسَ قَدْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((مَا عُمِّرَ الْمُسْلِمُ كَانَ خَيْرًا لَهُ)) وَفِي رِوَايَةٍ ((إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَزِيدُهُ طُولُ الْعُمْرِ إِلَّا خَيْرًا)) قَالَ بَلَى وَلَكِنِّي أَخَافُ سِتًّا إِمَارَةَ السُّفَهَاءِ وَبَيْعَ الْحُكْمِ وَكَثْرَةَ الشُّرَطِ وَقَطِيعَةَ الرَّحِمِ وَنَشَأً يَنْشَؤُونَ يَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِيرَ وَسَفْكَ الدَّمِ۔ شداد بن ابی عمار شامی سے مروی ہے کہ سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: اے طاعون! مجھے اپنی طرف کھینچ لے، لوگوں نے کہا: تم یہ کیوں کہتے ہو جبکہ تم نے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب مؤمن کو زیادہ عمر ملتی ہے تو یہ اس کے لیے بہتر ہی ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا: جی کیوں نہیں، میں نے یہ حدیث سنی ہے، لیکن میں چھ چیزوں سے ڈرتا ہوں: بیوقوفوں کی حکومت، انصاف کے فروخت ہونے، پولیس کی کثرت، قطع رحمی اور لوگوں کا قرآن مجید کو بانسریوں اور گیتوں کی طرح پڑھ کر مزے لینا اور قتل۔