حدیث نمبر: 10014
عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ الشَّامِيِّ قَالَ قَالَ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ يَا طَاعُونُ خُذْنِي إِلَيْكَ قَالَ فَقَالُوا أَلَيْسَ قَدْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((مَا عُمِّرَ الْمُسْلِمُ كَانَ خَيْرًا لَهُ)) وَفِي رِوَايَةٍ ((إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَزِيدُهُ طُولُ الْعُمْرِ إِلَّا خَيْرًا)) قَالَ بَلَى وَلَكِنِّي أَخَافُ سِتًّا إِمَارَةَ السُّفَهَاءِ وَبَيْعَ الْحُكْمِ وَكَثْرَةَ الشُّرَطِ وَقَطِيعَةَ الرَّحِمِ وَنَشَأً يَنْشَؤُونَ يَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِيرَ وَسَفْكَ الدَّمِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ شداد بن ابی عمار شامی سے مروی ہے کہ سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: اے طاعون! مجھے اپنی طرف کھینچ لے، لوگوں نے کہا: تم یہ کیوں کہتے ہو جبکہ تم نے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب مؤمن کو زیادہ عمر ملتی ہے تو یہ اس کے لیے بہتر ہی ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا: جی کیوں نہیں، میں نے یہ حدیث سنی ہے، لیکن میں چھ چیزوں سے ڈرتا ہوں: بیوقوفوں کی حکومت، انصاف کے فروخت ہونے، پولیس کی کثرت، قطع رحمی اور لوگوں کا قرآن مجید کو بانسریوں اور گیتوں کی طرح پڑھ کر مزے لینا اور قتل۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب آفات اللسان / حدیث: 10014
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره أخرجه ابن ابي شيبة: 15/244، والطبراني في الكبير : 18/ 104، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23970 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24470»