الفتح الربانی
كتاب آفات اللسان— زبان کی آفتوں کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي السُّدَاسِيَّاتِ باب: چھ چھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ ثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ عَنْ عُلَيْمٍ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عَلَى سَطْحٍ مَعَنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَزِيدُ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَبْسًا الْغَفَّارِيَّ وَالنَّاسُ يَخْرُجُونَ فِي الطَّاعُونِ فَقَالَ عَبْسٌ يَا طَاعُونُ خُذْنِي ثَلَاثًا يَقُولُهَا فَقَالَ لَهُ عُلَيْمٌ لِمَ تَقُولُ هَذَا أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ فَإِنَّهُ عِنْدَ انْقِطَاعِ عَمَلِهِ وَلَا يُرَدُّ فَيَسْتَعْتِبُ)) فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((بَادِرُوا بِالْمَوْتِ سِتًّا إِمْرَةَ السُّفَهَاءِ وَكَثْرَةَ الشُّرَطِ وَبَيْعَ الْحُكْمِ وَاسْتِخْفَافًا بِالدَّمِ وَقَطِيعَةَ الرَّحِمِ وَنَشْئًا يَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِيرَ يُقَدِّمُونَهُ يُغَنِّيهِمْ وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ مِنْهُمْ فِقْهًا))۔ علیم کہتے ہیں: ہم ایک چھت پر بیٹھے ہوئے تھے، ایک صحابی بھی ہمارے پاس موجود تھے، یزید راوی کہتے ہیں: میرا خیال یہی ہے کہ وہ سیدنا عبس غفاری رضی اللہ عنہ تھے، اس وقت لوگ طاعون میں نکل رہے تھے، اتنے میں عبس نے تین بار کہا: اے طاعون! مجھے پکڑ لے، عُلَیم نے کہا: تم یہ دعا کیوں کرتے ہو؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا: کوئی آدمی موت کی تمنا نہ کرے، کیونکہ اس وقت اس کے عمل منقطع ہو جاتے ہیں اور نہ اس کو واپس لوٹایا جاتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو راضی کر سکے۔ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: چھ چیزوں سے پہلے پہلے مر جاؤ، بیوقوفوں کی حکومت ، پولیس کی کثرت، انصاف کے بکنے، خون کے کم قیمت ہو جانے اور قطع رحمی سے پہلے اور قبل اس کے کہ لوگ قرآن مجید کو بانسریوں اور گیتوں کی طرح پڑھ کر کیف و سرور میں آئیں اور کسی آدمی کو صرف اس لیے (امامت کے لیے) آگے کریں کہ وہ گاگا کر تلاوت کرتا ہے، اگرچہ وہ ان میں سب سے کم فہم و فقہ والا ہو۔