الفتح الربانی
كتاب آفات اللسان— زبان کی آفتوں کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي السُّدَاسِيَّاتِ باب: چھ چھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 10011
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى النِّسَاءِ حِينَ بَايَعْنَهُ أَنْ لَا يَنُحْنَ فَقُلْنَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ نِسَاءً أَسْعَدْنَنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَفَنُسْعِدُهُنَّ فِي الْإِسْلَامِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((لَا إِسْعَادَ فِي الْإِسْلَامِ وَلَا شِغَارَ وَلَا عَقْرَ فِي الْإِسْلَامِ وَلَا جَلَبَ فِي الْإِسْلَامِ وَلَا جَنَبَ وَمَنِ انْتَهَبَ فَلَيْسَ مِنَّا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواتین سے بیعت لی تو ان سے یہ معاہدہ لیا کہ وہ نوحہ نہیں کریں گی، کچھ خواتین نے کہا: اے اللہ کے رسول! بعض خواتین نے دورِ جاہلیت میں نوحہ کرنے میں ہماری مدد کی تھی، کیا ہم اسلام میں ان کی مدد کر سکتی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں نہ ایسی مدد ہے، نہ شغار ہے، نہ عَقْر ہے، نہ جلب ہے اور نہ جنب ہے اور جس نے لوٹ مار کی، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … نوحہ میں ایک دوسرے کی مدد کو اِسْعَاد کہتے ہیں، دورِ جاہلیت میں خواتین نوحہ کرنے میں باقاعدہ ایک دوسرے کا تعاون کرتی تھیں، اسلام میں تو سرے سے نوحہ سے ہی منع کر دیا۔
عَقْر کی صورت یہ تھی کہ جو آدمی اپنی زندگی میں سخاوت کرتا تھا، لوگ اس کی قبر پر اونٹ نحر کرتے اور کہتے کہ ہم اس میت کو اس کے عمل کا بدلہ دے رہے ہیں، اسلام نے اس رسم سے بھی منع کر دیا۔
عَقْر کی صورت یہ تھی کہ جو آدمی اپنی زندگی میں سخاوت کرتا تھا، لوگ اس کی قبر پر اونٹ نحر کرتے اور کہتے کہ ہم اس میت کو اس کے عمل کا بدلہ دے رہے ہیں، اسلام نے اس رسم سے بھی منع کر دیا۔