الفتح الربانی
كتاب التيمم— تیمم کے ابواب
بَابُ حُجَّةِ مَنْ قَالَ بِوُجُوبِ الصَّلَاةِ عَنْ عَدَمِ الْمَاءِ وَالتُّرَابِ باب: پانی اور مٹی نہ ہونے کے باوجود نماز کے وجوب کے قائلین کی حجت کا بیانپانی اور مٹی نہ ہونے کے باوجود نماز کے وجوب کے قائلین کی حجت کا بیان
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا اسْتَعَارَتْ مِنْ أَسْمَاءَ قِلَادَةً فَهَلَكَتْ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رِجَالًا فِي طَلَبِهَا فَوَجَدُوهَا، فَأَدْرَكَتْهُمُ الصَّلَاةُ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ فَصَلَّوْا بِغَيْرِ وَضُوءٍ فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ التَّيَمُّمَ، فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ لِعَائِشَةَ: جَزَاكِ اللَّهُ خَيْرًا، فَوَاللَّهِ! مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ تَكْرَهِينَهُ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ لَكِ وَلِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ خَيْرًاسیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ انھوں نے سیدہ اسماءؓ سے ایک ہار بطورِ استعارہ لیا تھا، تو وہ گم ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ افراد کو اس کو تلاش کرنے کے لیے بھیجا، ان کو وہ مل گیا، لیکن نماز نے ان کو اس حال میں پا لیا کہ ان کے پاس پانی نہیں تھا، پس انھوں نے بغیر وضو کے نماز پڑھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف یہ شکایت کی، پس اللہ تعالیٰ نے تیمم کی رخصت نازل کر دی، سیدنا اسید بن حضیر ؓ نے سیدہ عائشہؓ سے کہا: اللہ تعالیٰ تم کو جزائے خیر دے، جب بھی تمہارا کوئی ایسا معاملہ بنتا ہے، جس کو تم ناپسند کرتی ہے، تو اللہ تعالیٰ اس میں تمہارے لیے اور مسلمانوں کے لیے خیر و بھلائی بنا دیتا ہے۔