الفتح الربانی
كتاب آفات اللسان— زبان کی آفتوں کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخمَاسِيَّاتِ باب: پانچ پانچ امور کا بیان
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَرَوْحٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ وَلَا تَحْتَبِيَنَّ فِي إِزَارٍ وَاحِدٍ وَلَا تَأْكُلْ بِشِمَالِكَ وَلَا تَشْتَمِلِ الصَّمَّاءَ وَلَا تَضَعْ إِحْدَى رِجْلَيْكَ عَلَى الْأُخْرَى إِذَا اسْتَلْقَيْتَ قُلْتُ لِأَبِي الزُّبَيْرِ أَوَضْعُهُ رِجْلَهُ عَلَى الرُّكْبَةِ مُسْتَلْقِيًا قَالَ نَعَمْ قَالَ أَمَّا الصَّمَّاءُ فَهِيَ إِحْدَى اللِّبْسَتَيْنِ تَجْعَلُ دَاخِلَةَ إِزَارِكَ وَخَارِجَهُ عَلَى إِحْدَى عَاتِقَيْكَ قُلْتُ لِأَبِي الزُّبَيْرِ فَإِنَّهُمْ يَقُولُونَ لَا يَحْتَبِي فِي إِزَارٍ وَاحِدٍ مُفْضِيًا قَالَ كَذَلِكَ سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُ لَا يَحْتَبِي فِي إِزَارٍ وَاحِدَةٍ قَالَ حَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ عَمْرٌو لِي مُفْضِيًا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک جوتے میں نہ چل، ایک ازار میں گوٹھ نہ مار، بائیں ہاتھ سے نہ کھا، گونگی بکل نہ مار اور جب چت لیٹا ہوا ہو تو ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر نہ رکھ۔ ابن جریج کہتے ہیں: میں نے ابو زبیر سے کہا: اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی لیٹ کر اپنا پاؤں دوسرے گھٹنے پر رکھے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔ پھر انھوں نے کہا: گونگی بکل ایک لباس ہے، جس میں ازار کا اندرونی اور بیرونی حصہ ایک کندھے پر رکھ دیا جاتا ہے ۔ ابن جریج کہتے ہیں: میں نے پھر ابو زبیر سے کہا: لوگ تو یہ کہہ کہتے ہیں کہ ایک ازار میں اس وقت گوٹھ نہیں مارنا چاہیے، جب بے پردگی ہو رہی ہو؟ انھوں نے کہا: میں نے تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح سنا ہے کہ آدمی ایک ازار میں گوٹھ نہ مارے۔ حجاج نے ابن جریج سے روایت کیا کہ عمرو کے الفاظ یہ ہے کہ گوٹھ اس وقت منع ہے، جب شرمگاہ نظر آ رہی ہو۔
جبکہ فقہا نے کہا: آدمی اپنے جسم پر کپڑا لپیٹے اور پھر اس کا ایک کنارہ اٹھا کر کندھے پر رکھ دے اور اس طرح اس کی شرم گاہ ننگی ہونے لگے۔ (فتح الباری: ۱/ ۶۲۹) سنن ابی داود (۴۰۸۰) کی روایت سے اس معنی کی تائید ہوتی ہے، اس میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لباس کی دو قسموں سے منع کیا ہے: آدمی کا اس طرح گوٹھ مارنا کہ اوپر سے اس کی شرمگاہ ننگی ہو رہی ہو اور اس طرح کپڑا پہننا کہ ایک جانب ننگی رہ جائے اور کپڑا کندھے پر ڈال دے۔
اگرچہ اس حدیث کے ایک راوی سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی تعریف، فقہاء کی تعریف سے ملتی جلتی ہے، لیکن علامہ عظیم آبادی کہتے ہیں: لفظ صَمّائ کو سامنے رکھا جائے تو اس معنی کی گنجائش نہیں ملتی، اصمعی کا بیان کردہ معنی اس لفظ کے زیادہ قریب ہے، وہ کہتے ہیں: آدمی کا ایک کپڑے سے اپنا سارا جسم اس طرح ڈھانپ لینا کہ ہاتھ نکالنے کے لیے بھی کوئی سوراخ نہ بچے اور اس طرح وہ اپنے ہاتھوں سے موذی چیزوں سے دفاع نہ کر سکے۔ (عون المعبود: ۱/ ۱۱۲۲)
سابقہ بیان سے معلوم ہوا کہ فقہاء والی تعریف کی تائید حدیث اور حدیث کے راوی سے ہو رہی ہے تو یہ معنی مراد لینے میں بھی کوئی قباحت نہیں۔ گویا اشتمال صمائ کے دونوں معانی درست ہیں۔ اگر ترجیح دینی ہی ہے تو حدیث سے تائید شدہ معنی کو اولیٰ قرار دینا چاہیے۔ (عبداللہ رفیق)
حبوہ (گوٹھ مارنا): سرین کے بل بیٹھ کر گھٹنے کھڑے کر کے ان کے گرد سہارا لینے کے لیے دونوں ہاتھ باندھ لینایا کمر اور گھٹنوں کے گردکپڑا باندھنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود اس انداز میں بیٹھ جایاکرتے تھے، اس لیے ایسے انداز میں بیٹھنا جائز ہے، بشرطیکہ بیٹھنے والا ننگا نہ ہو رہا ہو، جیسا کہ اس حدیث سے بھی معلوم ہو رہا ہے۔