الفتح الربانی
كتاب التيمم— تیمم کے ابواب
بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْجِمَاعِ وَالتَّيَمُّمِ لِعَادِمِ الْمَاءِ وَبُطْلَانِ التَّيَمُّمِ بِوُجُودِهِ باب: پانی کی عدم موجودگی میں جماع اور تیمم کی رخصت اور پانی کے موجود ہونے کی صورت میں تیمم کے باطل ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1000
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! الرَّجُلُ يَغِيبُ لَا يَقْدِرُ عَلَى الْمَاءِ أَيُجَامِعُ أَهْلَهُ؟ قَالَ: ((نَعَمْ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! ایک آدمی دور چلا جاتا ہے اور پانی کو حاصل کرنے پر قدرت نہیں رکھتا، کیا وہ اپنی بیوی سے جماع کر سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔