حدیث نمبر: 100
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الثَّقَفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أُمَّهُ أَوْصَتْ أَنْ يُعْتِقَ عَنْهَا رَقَبَةً مُؤْمِنَةً فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: عِنْدِي جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ نُوبِيَّةٌ فَأُعْتِقُهَا؟ فَقَالَ: ((ائْتِ بِهَا)) فَدَعَوْتُهَا فَجَاءَتْ فَقَالَ لَهَا: ((مَنْ رَبُّكِ؟)) قَالَتْ: اللَّهُ، قَالَ: ((مَنْ أَنَا؟)) فَقَالَتْ: رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ: ((أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو شرید بن سوید ثقفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کی ماں نے یہ وصیت کی تھی کہ وہ ان کی طرف سے ایک مسلمان غلام آزاد کرے، پس انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا کہ ان کے پاس ایک کالے رنگ کی سوڈانی لونڈی ہے، کیا وہ اس کو آزاد کر سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو میرے پاس لے آؤ۔“ پس میں نے اس کو بلایا اور وہ آ گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تیرا رب کون ہے؟“ اس نے کہا: ”اللہ تعالیٰ،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”میں کون ہوں؟“ اس نے کہا: ”آپ اللہ کے رسول ہیں،“ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو آزاد کر دے، کیونکہ یہ مومنہ ہے۔“

وضاحت:
فوائد: … مسلمان غلام کو آزاد کرنا بڑے ثواب کا کام ہے، یہ اچھی بات ہے کہ ماں نے مسلمان غلام کو آزاد کرنے کی وصیت کی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 100
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ۔ أخرجه ابوداود: 3283، والنسائي: 6/ 252 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17945 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18109»