حدیث نمبر: 4801
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الأُمَوِيُّ ، نَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَأَةَ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ ، عَنِ الْخُشَنِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " إِنَّا نُخَالِطُ الْمُشْرِكِينَ وَلَيْسَ لَنَا قُدُورٌ ، وَلا آنِيَةٌ غَيْرُ آنِيَتِهِمْ ، قَالَ : فَقَالَ : اسْتَغْنُوا عَنْهَا مَا اسْتَطَعْتُمْ ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَارْحَضُوهَا بِالْمَاءِ فَإِنَّ الْمَاءَ طَهُورُهَا ، ثُمَّ اطْبُخُوا فِيهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم لوگ مشرکین کے ساتھ مل جل کر رہتے ہیں، ہماری الگ سے ہنڈیا نہیں ہے اور الگ سے برتن نہیں ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہو سکے تو ان سے بچنے کی کوشش کرو، لیکن اگر کوئی گنجائش نہ ہو تو اسے پانی کے ساتھ دھو لو، پانی اس کو پاک کر دے گا پھر اس میں (کھانا) پکا لو۔“
حدیث نمبر: 4802
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا رَمَيْتَ بِسَهْمِكَ فَغَابَ عَنْكَ ثَلاثًا فَأَدْرَكْتَهُ ، فَكُلْهُ مَا لَمْ يُنْتِنْ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کہ ”جب تم اپنا تیر پھینکو اور وہ شکار تین دن تک تم سے غائب رہے، پھر تم اس تک پہنچ جاؤ تو اسے کھا لو، جبکہ وہ بدبو دار نہ ہوا ہو۔“
حدیث نمبر: 4803
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ الْعَسْكَرِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ يَزِيدَ الأَهْوَازِيُّ ، نَا أَبُو هِشَامٍ الأَهْوَازِيُّ . ح وَنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، بِمِصْرَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى ، نَا الْحَسَنُ بْنُ الْحَارِثِ ، وَيَحْيَى بْنُ يَزِيدَ الأَهْوَازِيُّ ، قَالُوا : نَا أَبُو هَمَّامٍ الأَهْوَازِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ مِنَّا يَذْبَحُ وَيَنْسَى أَنْ يُسَمِّيَ اللَّهَ ؟ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اسْمُ اللَّهِ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ " ، مَرْوَانُ بْنُ سَالِمٍ ، ضَعِيفٌ ، وَقَالَ ابْنُ قَانِعٍ : " اسْمُ اللَّهِ عَلَى فَمِ كُلِّ مُسْلِمٍ ".
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: یا رسول اللہ! آپ کا ایسے شخص کے بارے میں کیا حکم ہے جو ذبح کرتے ہوئے بسم اللہ پڑھنا بھول جاتا ہے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا نام ہر مسلمان کی زبان پر موجود ہوتا ہے۔“ یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی نے اختلاف کیا ہے۔
حدیث نمبر: 4804
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَأَبُو عُمَرَ الْقَاضِي ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْوَرَّاقُ ، قَالُوا : نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، قَالَ : نَا أَبُو جَابِرٍ ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ " فِي الْمُسْلِمِ يَذْبَحُ وَيَنْسَى التَّسْمِيَةَ ، قَالَ : لا بَأْسَ بِهِ " ، .
محمد محی الدین
ابراہیم ایسے مسلمان کے بارے میں فرماتے ہیں جو ذبح کرتے ہوئے بسم اللہ پڑھنا بھول جاتا ہے، ابراہیم فرماتے ہیں: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 4805
قَالَ : وَنا شُعْبَةُ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، حَدَّثَنِي عَيْنٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّهُ لَمْ يَرَ بِهِ بَأْسًا " . قَوْلُهُ : عَيْنٌ ، يَعْنِي بِهِ عِكْرِمَةَ.
محمد محی الدین
ایک اور سند کے ساتھ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 4806
نَا نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرِ بْنِ خَالِدٍ ، نَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنْ عَيْنٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " إِذَا ذَبَحَ الْمُسْلِمُ فَلَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ فَلْيَأْكُلْ فَإِنَّ الْمُسْلِمَ فِيهِ اسْمًا مِنْ أَسْمَاءِ اللَّهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب مسلمان کوئی جانور ذبح کرے اور اس پر اللہ کا نام نہ لے تو وہ اسے کھا سکتا ہے، کیونکہ لفظ مسلم میں بھی اللہ تعالیٰ کا ایک اسم موجود ہے۔
حدیث نمبر: 4807
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ صَاعِقَةُ ، نَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْخَلِيلِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " لا بَأْسَ بِأَكْلِ خُبْزِ الْمَجُوسِ ، إِنَّمَا نُهِيَ عَنْ ذَبَائِحِهِمْ " .
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں: مجوسی کی پکائی ہوئی روٹی کھانے میں کوئی حرج نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ذبیحہ کھانے سے منع کیا ہے۔
حدیث نمبر: 4808
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، نَا مَعْقِلٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمُسْلِمُ يَكْفِيهِ اسْمُهُ فَإِنْ نَسِيَ أَنْ يُسَمِّيَ حِينَ يَذْبَحُ ، فَلْيُسَمِّ وَلْيَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ ، ثُمَّ لْيَأْكُلْ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: مسلمان کے لیے اس کا نام ہی کافی ہے، اگر وہ بسم اللہ پڑھنا بھول جاتا ہے، تو بسم اللہ پڑھ کر اللہ کا نام لے کر اس کو کھا لے۔
حدیث نمبر: 4809
حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَشِّرٍ ، نَا أَبُو الأَشْعَثِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ قَوْمًا قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " إِنَّ قَوْمًا يَأْتُونَا بِاللَّحْمِ لا نَدْرِي أَذَكَرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ أَمْ لا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَمُّوا عَلَيْهِ وَكُلُوا " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ کچھ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کچھ لوگ ہمارے پاس ذبح کر کے گوشت لاتے ہیں، ہمیں اس وقت یہ پتا نہیں چلتا کہ انہوں نے اسے ذبح کر اجرایتے ہوئے اللہ کا نام لیا تھا یا نہیں لیا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اللہ کا نام لے کر اسے کھا لیا کرو۔“
حدیث نمبر: 4810
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ خُشَيْشٍ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ ، نَا هَاشِمُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْجَشَّاشُ ، نَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ سِيَاهٍ ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ ، حَدَّثَنِي خَارِجَةُ بْنُ الصَّلْتِ ، عَنْ عَمِّهِ ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ أَقْبَلَ رَاجِعًا مِنْ عِنْدَهُ فَمَرَّ عَلَى قَوْمٍ وَوَجَدَ عِنْدَهُمْ رَجُلا مَجْنُونًا فَرَقَاهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ، فَبَرَأَ فَأُعْطِيَ مِائَةَ شَاةٍ ، قَالَ : فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ ، قَالَ : " هَلْ قُلْتَ إِلا هَذَا ؟ ، قَالَ : لا ، قَالَ : خُذْهَا فَلَعَمْرِي مَنْ أَكَلَ بِرُقْيَةِ بَاطِلٍ ، فَلَقَدْ أَكَلْتَهُ بِرُقْيَةِ حَقٍّ " .
محمد محی الدین
خارجہ بن صلت اپنے چچا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سے واپس جا رہے تھے، تو ان کا گزر کچھ لوگوں کے پاس سے ہوا، انہوں نے ان لوگوں کے پاس ایک دیوانے شخص کو دیکھا، انہوں نے اس پر سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کر دیا، وہ شخص ٹھیک ہو گیا، انہیں ایک سو بکریاں دی گئیں۔ وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو بتایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم نے یہی سورة (فاتحہ) پڑھی تھی؟“ انہوں نے عرض کی: جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم اسے وصول کر لو، میری زندگی کی قسم! جو شخص کوئی باطل دم کر کے کچھ کھائے گا (وہ غلط ہو گا) تم نے تو اسے حق دم کر کے کھایا ہے۔“
حدیث نمبر: 4811
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، حَدَّثَنِي خَارِجَةُ بْنُ الصَّلْتِ التَّمِيمِيُّ ، أَنَّ عَمَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، وَقَالَ فِيهِ : كُلْهَا بِسْمِ اللَّهِ فَمَنْ أَكَلَ بِرُقْيَةِ بَاطِلٍ فَقَدْ أَكَلْتَ بِرُقْيَةِ حَقٍّ " ، .
محمد محی الدین
خارجہ بن صلت اپنے چچا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے، جس میں یہ الفاظ ہیں: ”تم اللہ کا نام لے کر اسے کھا لو کیونکہ جو شخص باطل دم کر کے کھاتا ہے، وہ غلط کرتا ہے، تم نے تو اسے حق دم کر کے کھانا ہے۔“
حدیث نمبر: 4812
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، نَا زَكَرِيَّا ، عَنْ عَامِرٍ نَحْوَ ذَلِكَ .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 4813
نَا ابْنُ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ : أَقْبَلْنَا مِنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، إِلا أَنَّهُ قَالَ : فَأَعْطُونَا جُعْلا ، فَقُلْتُ : حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : " كُلْ " ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ.
محمد محی الدین
خارجہ بن صلت اپنے چچا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس روانہ ہوئے تو اس کے بعد حسب سابق حدیث، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں کہ انہوں نے کہا: تم لوگ ہمیں اس کا معاوضہ دو گے، تو میں نے کہا: میں اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے پوچھوں گا، میں نے آپ سے دریافت کیا: تو آپ نے کہا: ”تم اسے کھا لو۔“
حدیث نمبر: 4814
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدَانَ الصَّيْدَلانِيُّ ، بِوَاسِطَ ، نَا جَعْفَرُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ حَمَّادٍ الْوَاسِطِيُّ ، أنا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الْبَصْرِيِّ ، عَنْ نَهْشَلٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ ، أَنَّهُ اجْتَمَعَ هُوَ ، وَالْحَسَنُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ ، وَمَكْحُولٌ الشَّامِيُّ ، وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ الْمَكِّيُّ ، وَطَاوُسٌ الْيَمَانِيُّ ، فَاجْتَمَعُوا فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمْ ، وَكَثُرَ لَغَطُهُمْ فِي الْقَدَرِ ، فَقَالَ طَاوُسٌ وَكَانَ فِيهِمْ مَرْضِيًّا : أَنْصِتُوا حَتَّى أُخْبِرَكُمْ مَا سَمِعْتُ مِنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْكُمْ فَرَائِضَ فَلا تُضَيِّعُوهَا ، وَحَّدَ لَكُمْ حُدُودًا فَلا تَعْتَدُوهَا ، وَنَهَاكُمْ عَنْ أَشْيَاءَ فَلا تَنْتَهِكُوهَا ، وَسَكَتَ عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ غَيْرِ نِسْيَانٍ فَلا تَكَلَّفُوهَا رَحْمَةً مِنْ رَبِّكُمْ فَاقْبَلُوهَا ، نَقُولُ مَا قَالَ رَبُّنَا وَنَبِيُّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الأُمُورُ بِيَدِ اللَّهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مَصْدَرُهَا ، وَإِلَيْهِ مَرْجِعُهَا ، لَيْسَ إِلَى الْعِبَادِ فِيهَا تَفْوِيضٌ وَلا مَشِيئَةٌ " ، فَقَامُوا وَهُمْ رَاضُونَ بِقَوْلِ طَاوُسٍ.
محمد محی الدین
ضحاک بن مزاحم بیان کرتے ہیں: میں حسن بن ابوالحسن، مکحول، عمرو بن دینار اور طاؤس مسجد خیف میں اکٹھے ہوئے، یہ لوگ بلند آواز میں بحث کرنے لگے، یہ لوگ تقدیر کے بارے میں بحث کرنے لگے، اس پر طاؤس بولے جو سب کے نزدیک پسندیدہ شخصیت تھے: تم خاموش ہو جاؤ! میں تمہیں وہ حدیث سناتا ہوں جو میں نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کی زبانی سنی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اللہ تعالیٰ نے کچھ چیزیں تم پر لازم قرار دی ہیں تو تم انہیں ضائع نہ کرو اور اس نے تمہارے لیے کچھ حدود مقرر کی ہیں ان کی خلاف ورزی نہ کرو، اس نے تمہیں کچھ چیزوں سے روک دیا ہے، تم ان کا ارتکاب کرنے کی کوشش نہ کرو اور کچھ معاملات ایسے ہیں، جن کے بارے میں اس نے بتایا نہیں وہ انہیں بھولا نہیں ہے، تم خود کو اس کا پابند نہ کرو، کیونکہ یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے رحمت ہے، اسے قبول کر لو!۔“ (اس کے بعد طاؤس نے یہ کہا:) ہم وہی کہتے ہیں جو ہمارے پروردگار اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ تمام کام اللہ تعالیٰ کے قبضے میں ہیں، وہی ہر چیز کا حکم دیتا ہے، وہی ہر چیز کا اجر بھی دے گا، بندے کے بس میں کوئی بھی بات نہیں ہے، اس بارے میں بندے کی کوئی مرضی نہیں چلتی ہے۔ اس پر سب لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور ان لوگوں نے طاؤس کے قول کو پسند کیا (یعنی اس کو اختیار کیا)۔