حدیث نمبر: 4763
نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْوَكِيلُ ، نَا حُمَيْدُ بْنُ الرَّبِيعِ ، نَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ ، قَالَ : فَرَأَيْتُهُ يُوصِي الْحَافِرَ ، قَالَ : " أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ ، أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ تَلَقَّاهُ دَاعِي امْرَأَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ ، فَقَالَ : إِنَّ فُلانَةَ تَدْعُوكَ وَأَصْحَابَكَ ، قَالَ : فَأَتَاهَا فَلَمَّا جَلَسَ الْقَوْمُ أُتِيَ بِالطَّعَامِ فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ وَوَضَعَ الْقَوْمُ فَبَيْنَا هُوَ يَأْكُلُ إِذْ كَفَّ يَدَهُ ، قَالَ : وَقَدْ كُنَّا جَلَسْنَا بِمَجَالِسِ الْغِلْمَانِ مِنْ آبَائِهِمْ ، قَالَ : فَنَظَرَ آبَاؤُنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلُوكُ أَكَلْتُهُ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَضْرِبُ يَدَ ابْنِهِ حَتَّى يَرْمِيَ الْعِرْقَ مِنْ يَدِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَجِدُ لَحْمَ شَاةٍ أُخِذَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهَا ، قَالَ : فَأَرْسَلَتِ الْمَرْأَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي كُنْتُ أَرْسَلْتُ إِلَى الْبَقِيعِ أَطْلُبُ شَاةً فَلَمْ أُصِبْ ، فَبَلَغَنِي أَنَّ جَارًا لِي اشْتَرَى شَاةً فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ فَنَهَى ، فَلَمْ نَقْدِرُ عَلَيْهِ فَبَعَثَتْ بِهَا امْرَأَتُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَطْعِمُوهَا الأُسَارَى " .
محمد محی الدین
عاصم بن کلیب انصار سے تعلق رکھنے والے ایک فرد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں شریک ہوئے، ہم قبر تک آ گئے، میں نے توجہ کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبر کھودنے والے کو یہ ہدایت کر رہے تھے: ”سر اور پاؤں کی طرف سے قبر کو کھلا کر دو۔“ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے واپس تشریف لا رہے تھے تو قریش سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کی طرف سے دعوت دینے والا فرد آپ کے سامنے آیا۔ اس نے عرض کی: فلاں خاتون نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو دعوت دی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس خاتون کے ہاں تشریف لے گئے، جب سب لوگ بیٹھ گئے اور کھانا لایا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس کی طرف بڑھایا، لوگوں نے بھی اپنے ہاتھ بڑھا دیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا شروع کیا، اس دوران آپ نے اپنا ہاتھ روک لیا۔ راوی کہتے ہیں: ہم اس جگہ پر بیٹھے ہوئے تھے جہاں بچے اپنے والد کے ساتھ بیٹھتے ہیں۔ ہمارے والد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کھائے ہوئے کو الٹ دیا ہے، تو ان سب افراد نے اپنے بچوں کے ہاتھ پر مار کے ان کے ہاتھ میں موجود بوٹیوں کو گرا دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے یوں لگا ہے کہ اس بکری کا گوشت اس کے مالک کی اجازت کے بغیر لیا گیا ہے۔“ تو اس خاتون نے پیغام بھیجوا دیا: یا رسول اللہ! میں نے اپنی بکری تلاش کرنے کے لیے کسی شخص کو بقیع کی طرف بھیجا تھا، لیکن اسے وہ بکری نہیں مل سکی۔ مجھے پتا چلا کہ میرے ہمسائے نے بھی ایک بکری خریدی ہے، تو میں نے اسے پیغام بھیجا لیکن اس نے انکار کر دیا۔ ہم اسے حاصل نہیں کر سکے، پھر اس بکری کو اس شخص کی بیوی نے بھجوا دیا ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ قیدیوں کو کھلا دو۔“
حدیث نمبر: 4764
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِيُّ ، وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالا : نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ ، قَالَ : " صَنَعَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنْ قُرَيْشٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فَدَعَتْهُ وَأَصْحَابَهُ ، قَالَ : فَذَهَبَ بِي أَبِي مَعَهُ ، قَالَ : فَجَلَسْنَا بَيْنَ يَدَيْ آبَائِنَا مَجَالِسَ الأَبْنَاءِ مِنْ آبَائِهِمْ ، قَالَ : فَلَمْ يَأْكُلُوا حَتَّى رَأَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَكَلَ ، فَلَمَّا أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُقْمَتَهُ رَمَى بِهَا ، ثُمَّ قَالَ : إِنِّي لأَجِدُ طَعْمَ لَحْمِ شَاةٍ ذُبِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ صَاحِبَتِهَا ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخِي ، وَأَنَا مِنْ أَعَزِّ النَّاسِ عَلَيْهِ ، وَلَوْ كَانَ خَيْرًا مِنْهَا لَمْ يُغَبِّرْ عَلَيَّ ، وَعَلَيَّ أَنْ أَرْضِيَهُ بِأَفْضَلَ مِنْهَا ، فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا وَأَمَرَ بِالطَّعَامِ لِلأُسَارَى " ، .
محمد محی الدین
عاصم بن کلیب اپنے والد کے حوالے سے مزینہ قبیلے کے ایک صاحب کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: قریش سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا، آپ کو اور آپ کے اصحاب کو دعوت دی۔ میرے والد بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مجھے بھی ساتھ لے کر چلے گئے۔ ہم لوگ اپنے والد کے سامنے اسی طرح بیٹھ گئے جیسے بچے اپنے والد کے سامنے بیٹھتے ہیں۔ لوگوں نے اس وقت تک کھانا نہیں شروع کیا جب تک انہوں نے یہ نہیں دیکھ لیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھانا شروع کر چکے ہیں۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لقمہ لیا تو پھر آپ نے اس کو پرے رکھ دیا اور فرمایا: ”مجھے اس بکری کے گوشت میں ایسی ذائقہ محسوس ہوا ہے جیسے یہ اپنے مالک کی اجازت کے بغیر ذبح کی گئی ہے۔“ اس خاتون نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ میرے بھائی کی ہے اور میرا بھائی مجھ سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہے، اگر اس سے زیادہ بہتر بکری موجود ہوتی تو اسے بھی ذبح کرنا ہمارے لیے دشوار نہ ہوتا۔ اب مجھ پر یہ بات لازم ہے کہ میں اس سے بہتر بکری اسے دے کر اسے راضی کر لوں گی۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے سے انکار کر دیا اور آپ کے حکم کے تحت وہ کھانا قیدیوں کو کھلا دیا گیا۔
حدیث نمبر: 4765
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ ، نَا ابْنُ أَبِي خَيْثَمَةَ ، نَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ ، قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ أَبِي وَأَنَا غُلامٌ ، مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ . وَقَالَ فِيهِ : قَالَتْ : فَبَعَثْتُ إِلَى أَخِي عَامِرِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، وَقَدِ اشْتَرَى شَاةً مِنَ الْبَقِيعِ ، فَلَمْ يَكُنْ أَخِي ، ثَمَّ فَدَفَعَ أَهْلُهُ الشَّاةَ إِلَيَّ.
محمد محی الدین
عاصم بن کلیب اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ ایک انصاری نے مجھے یہ حدیث سنائی ہے: میں جب کم سن بچہ تھا تو میں اپنے والد کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیا، اس کے بعد انہوں نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے، جس میں یہ الفاظ ہیں: اس خاتون نے کہا: میں نے اپنے بھائی عامر بن ابووقاص کی طرف پیغام بھیجا کیونکہ بقیع میں سے ایک بکری خریدی ہوئی تھی، لیکن میرا بھائی وہاں موجود نہیں تھا تو اس کی بیوی نے یہ بکری مجھے بھجوا دی۔
حدیث نمبر: 4766
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ ، نَا ابْنُ أَبِي خَيْثَمَةَ ، نَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : قُلْتُ لأَبِي حَنِيفَةَ : " مِنْ أَيْنَ أَخَذْتَ هَذَا الرَّجُلُ يَعْمَلُ فِي مَالِ الرَّجُلِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ إِنَّهُ يَتَصَدَّقُ بِالرِّبْحِ ؟ ، قَالَ : أَخَذْتُهُ مِنْ حَدِيثِ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ " .
محمد محی الدین
عبدالواحد بن زیاد بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے دریافت کیا: آپ نے یہ مسئلہ کہاں سے حاصل کیا ہے کہ ایک شخص دوسرے کے مال میں اس کی اجازت کے بغیر تصرف کر لیتا ہے، تو وہ منافع کو صدقہ کر دے گا؟ تو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے اسے عاصم بن کلیب کی نقل کردہ حدیث سے حاصل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 4767
نَا أَبُو حَامِدٍ الْحَضْرَمِي ، نَا بُنْدَار نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِي ٍّ نَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ جَابِر ٍ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِب قَالَ : " حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَشْيَاءَ يَوْمَ خَيْبَرَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يُوشِكُ الرَّجُلُ يَتَّكِئُ عَلَى أَرِيكَتِهِ يُحَدِّثُ بِحَدِيثِي ، فَيَقُولُ : بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللَّهِ فَمَا وَجَدْنَا فِيهِ حَلالا اسْتَحْلَلْنَاهُ ، وَمَا كَانَ فِيهِ حَرَامًا حَرَّمْنَاهُ ، وَإِنَّ مَا حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا حَرَّمَ اللَّهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دن کچھ چیزوں کو حرام قرار دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب وہ وقت آئے گا جب کوئی شخص اپنے تکیے کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے گا اور میری حدیث بیان کرے گا اور کہے گا: میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب کا حکم کافی ہے، ہمیں اس میں جو چیز حلال ملے گی ہم اسے حلال سمجھیں گے اور اس میں جو چیز حرام ملے گی ہم اسے حرام قرار دیں گے۔“ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”اللہ کا رسول جس چیز کو حرام قرار دے وہ اسی طرح ہے جیسے وہ چیز ہوتی ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہو۔“
حدیث نمبر: 4768
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّعْمَانِيُّ ، نَا أَبُو عُتْبَةَ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ ، نَا بَقِيَّةُ ، نَا الزُّبَيْدِيُّ ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ رُؤْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ الْجُرَشِيِّ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنِّي قَدْ أُوتِيتُ الْكِتَابَ وَمَا يَعْدِلُهُ ، يُوشِكُ شَبْعَانُ عَلَى أَرِيكَتِهِ ، يَقُولُ : بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْكِتَابُ فَمَا كَانَ فِيهِ مِنْ حَلالٍ أَحْلَلْنَاهُ ، وَمَا كَانَ فِيهِ مِنْ حَرَامٍ حَرَّمْنَاهُ وَإِنَّهُ لَيْسَ كَذَلِكَ ، لا يَحِلُّ أَكْلُ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ ، وَلا الْحِمَارِ الأَهْلِيِّ ، وَلا اللُّقَطَةِ مِنْ مَالِ مُعَاهَدٍ إِلا أَنْ يَسْتَغْنِيَ عَنْهَا ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ ضَافَ قَوْمًا فَلَمْ يَقْرُوهُ ، فَإِنَّ لَهُ أَنْ يُغْصِبَهُمْ بِمِثْلِ قِرَاهُ ".
محمد محی الدین
سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے کتاب بھی عطا کی گئی اور وہ چیز بھی عطا کی گئی ہے جو اس کی مانند ہے (یعنی سنت عطا کی گئی ہے)۔ عنقریب وہ وقت آئے گا جب کوئی بھرے ہوئے پیٹ والا شخص اپنے بستر کے ساتھ ٹیک لگا کر یہ کہے گا: ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب موجود ہے، اس میں جو چیز حلال ہو گی ہم اسے حلال سمجھیں گے اور جو چیز اس میں حرام ہو گی ہم اسے حرام قرار دیں گے۔“ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”ایسا نہیں ہے، کسی بھی نوکیلے دانت والے درندے کو کھانا یا پالتو گدھے کو کھانا، معاہد شخص کی گری ہوئی چیز کو اٹھانا جائز نہیں ہے، البتہ اگر وہ کوئی ایسی چیز ہو جس کی ضرورت نہ ہو، تو حکم مختلف ہو گا۔ جو شخص کسی قوم کا مہمان بنا ہو اور وہ لوگ اس کی مہمان نوازی نہیں کرتے تو اسے اس بات کا حق حاصل ہو گا کہ وہ اپنی ضرورت کے مطابق ان سے خوراک زبردستی حاصل کرے۔“
حدیث نمبر: 4769
حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ ، نَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْخَيْلِ ، وَالْبِغَالِ ، وَالْحُمُرِ ، وَكُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ ، أَوْ مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ " .
محمد محی الدین
سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دن گھوڑے، خچر، گدھے، نوکیلے دانت والے درندے (راوی کو پھر شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) نوکیلے ناخنوں والے پرندے کا گوشت کھانے سے منع کر دیا تھا۔
حدیث نمبر: 4770
نَا عَبْدُ الْغَافِرِ بْنُ سَلامَةَ الْحِمْصِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ ، نَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، نَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُحُومِ الْخَيْلِ ، وَالْبِغَالِ ، وَالْحَمِيرِ ، وَكُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ" ،.
محمد محی الدین
سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دن گھوڑے، خچر، گدھے، نوکیلے دانت والے درندے کا گوشت کھانے سے منع کر دیا تھا۔
حدیث نمبر: 4771
نَا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ : سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ هَارُونَ ، يَقُولُ : لا يُعْرَفُ صَالِحُ بْنُ يَحْيَى ، وَلا أَبُوهُ إِلا بِجَدِّهِ ، وَهَذَا حَدِيثٌ ضَعِيفٌ ، وَزَعَمَ الْوَاقِدِيُّ ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ أَسْلَمَ بَعْدَ فَتْحِ خَيْبَرَ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ واقدی نے یہ بات بیان کی ہے کہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے فتح خیبر کے بعد اسلام قبول کیا تھا۔
حدیث نمبر: 4772
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَافِرِ بْنُ سَلامَةَ ، نَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرَ ، حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَدَّهُ الْمِقْدَامَ ، يَقُولُ : أَقَمْتُ أَنَا وَبِضْعَةَ عَشَرَ رَجُلا مِنْ قَوْمِي يَوْمَيْنِ أَوْ ثَلاثَةً لَمْ نَذُقْ طَعَامًا ، وَقَدْ رَبَطُوا بُرْذُونَةً لِيَذْبَحُوهَا ، فَأَتَيْتُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فَأَعْلَمْتُهُ الَّذِي كَانَ مِنَّا فِي أَمْرِ الْبِرْذُونَةِ ، فَقَالَ : " لَوْ ذَبَحُوهَا لَسُؤْتُكَ ، ثُمَّ قَالَ : حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ أَمْوَالَ الْمُعَاهَدِينَ ، وَحُمُرَ الإِنْسِ ، وَخَيْلَهَا وَبِغَالَهَا ، ثُمَّ أَمَرَ بِمُدَّيْنِ أَوْ مُدٍّ مِنْ طَعَامٍ " ، الشَّكُّ مِنْ يَحْيَى ، وَقَالَ : إِذَا أَتَتْنَا سَرِيَّةٌ فَاطَّلَعْنَا ، لَمْ يَذْكُرْ أَبَاهُ.
محمد محی الدین
یحییٰ بن مقدام بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے دادا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: ایک مرتبہ میں اور میرے قبیلے کے دس یا شاید اس سے کچھ زیادہ افراد، دو یا تین دن تک کھانا نہیں کھا سکے تھے، انہوں نے ذبح کرنے کے لیے گھوڑا باندھا ہوا تھا، میں سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور انہیں بتایا کہ گھوڑے کے بارے میں ہمارا کیا ارادہ ہے، تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر وہ لوگ اسے ذبح کر دیتے تو برا کرتے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر ذمیوں کے اموال، گدھوں، گھوڑوں اور خچروں کے گوشت کو حرام قرار دیا تھا۔ پھر سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو اناج کے دو یا شاید ایک مد دینے کا حکم دیا، اور فرمایا کہ جب ہمیں کوئی مہم درپیش ہوئی، تو ہم اطلاع کر دیں گے۔
حدیث نمبر: 4773
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا عُمَرُ بْنُ هَارُونَ الْبَلْخِيُّ ، نَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الْحِمَارِ الإِنْسِيِّ ، وَعَنْ خَيْلِهَا ، وَبِغَالِهَا " ، لَمْ يَذْكُرْ فِي إِسْنَادِهِ صَالِحًا ، وَهَذَا إِسْنَادٌ مُضْطَرِبٌ . وَقَالَ الْوَاقِدِيُّ : لا يَصِحُّ هَذَا لأَنَّ خَالِدًا أَسْلَمَ بَعْدَ فَتْحِ خَيْبَرَ.
محمد محی الدین
سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھوں، گھوڑوں اور خچروں (کا گوشت کھانے) سے منع کر دیا تھا۔ راوی کہتے ہیں: اس کی سند مستند نہیں ہے کیونکہ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے غزوہ خیبر کے بعد اسلام قبول کیا تھا۔
حدیث نمبر: 4774
حَدَّثَنَا أَبُو طَلْحَةَ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، نَا بُنْدَارٌ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، نَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ مَجْزَأَةَ بْنِ زَاهِرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : وَكَانَ بَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَحْتَ الشَّجَرَةِ أَنَّهُ اشْتَكَى ، فَبَعَثَ لَهُ أَنْ يَسْتَنْقِعَ فِي أَلْبَانِ الأُتُنِ وَمَرَقِهَا ، فَكَرِهَ ذَلِكَ " .
محمد محی الدین
مجزأة بن زاہر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: جنہوں نے درخت کے نیچے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی، وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ انہیں کوئی بیماری لاحق ہو گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ پیغام بھیجا کہ وہ گدھی کے دودھ کو اور رش وربے کو (دوا کے طور پر) استعمال کریں، لیکن انہیں یہ کھانا (یا دوا) پسند نہیں آیا۔
حدیث نمبر: 4775
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يَحْيَى بْنِ صَاعِدٍ ، نَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " كُنَّا نَأْكُلُ لُحُومَ الْخَيْلِ، قُلْتُ : الْبِغَالُ ، قَالَ : لا " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ گھوڑوں کا گوشت کھا لیا کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ ہم نے دریافت کیا: اور خچروں کا؟ انہوں نے جواب دیا: وہ نہیں۔
حدیث نمبر: 4776
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ أَبُو سَعِيدٍ ، نَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، نَا فُرَاتُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، " أَنَّهُمْ كَانُوا يَأْكُلُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُحُومَ الْخَيْلِ " ، وَزَعَمَ أَنَّ عَطَاءً نَهَى عَنِ الْبِغَالِ ، وَالْحُمُرِ.
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں گھوڑے کا گوشت کھا لیا کرتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: عطاء نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خچروں اور گدھوں کے گوشت سے منع کیا ہے۔
حدیث نمبر: 4777
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بُكَيْرٍ الْحَضْرَمِيُّ ، نَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " سَافَرْنَا ، يَعْنِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكُنَّا نَأْكُلُ لُحُومَ الْخَيْلِ ، وَأَشْرَبُ أَلْبَانَهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم سفر کر رہے تھے، یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ، تو ہم نے گھوڑوں کا گوشت کھایا اور (گھوڑیوں کا) دودھ پیا۔
حدیث نمبر: 4778
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نَا أَبُو كُرَيْبٍ ، نَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " أَكَلْنَا يَوْمَ خَيْبَرَ الْخَيْلَ ، وَالْبِغَالَ ، وَالْحَمِيرَ ، فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِغَالِ ، وَالْحَمِيرِ ، وَلَمْ يَنْهَنَا عَنِ الْخَيْلِ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ خیبر کے دن ہم نے گھوڑوں، خچروں اور گدھوں کا گوشت کھایا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خچروں اور گدھوں کے گوشت سے منع کر دیا، تاہم آپ نے ہمیں گھوڑوں کا گوشت کھانے سے منع نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 4779
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نَا أَبُو كُرَيْبٍ ، نَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " أَطْعَمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لُحُومَ الْخَيْلِ ، وَنَهَانَا عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گھوڑوں کا گوشت کھلایا تھا تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھوں کے گوشت سے ہمیں منع کر دیا تھا۔
حدیث نمبر: 4780
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَلامِ بْنِ كَرْكَرَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ ، وَأَذِنَ لَنَا فِي لَحْمِ الْفَرَسِ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ خیبر کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کر دیا تھا، تاہم آپ نے ہمیں گھوڑوں کا گوشت کھانے کی اجازت دے دی تھی۔
حدیث نمبر: 4781
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، نَا جَدِّي ، نَا شَبَابَةُ ، نَا الْمُغِيرَةُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَأْكُلَ لُحُومَ الْخَيْلِ ، وَنَهَانَا عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ ہم گھوڑوں کا گوشت کھا لیا کریں، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کر دیا۔
حدیث نمبر: 4782
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ نُصَيْرٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ ، نَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ ، وَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلُحُومِ الْخَيْلِ أَنْ يُؤْكَلَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کر دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑوں کے گوشت کے بارے میں یہ ہدایت کی تھی کہ اسے کھایا جا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 4783
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ : " ذَبَحْنَا فَرَسًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَكَلْنَا مِنْهُ " .
محمد محی الدین
سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم نے گھوڑا ذبح کیا اور اس کا گوشت کھا لیا۔
حدیث نمبر: 4784
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا حَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، نَا مُؤَمَّلٌ ، نَا سُفْيَانُ ، وَوُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ : " كَانَ لَنَا فَرَسٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَرَادَتْ أَنْ تَمُوتَ فَذَبَحْنَاهَا فَأَكَلْنَاهَا " .
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہمارا ایک گھوڑا تھا، وہ مرنے لگا تو ہم نے اسے ذبح کر کے اس کا گوشت کھا لیا۔
حدیث نمبر: 4785
نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، وَعَبَّادِ بْنِ حَمْزَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ : " أَنْحَرْنَا فَرَسًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلْنَاهُ " .
محمد محی الدین
سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم نے گھوڑا رکھا ہوا تھا، ہم نے اس کو (ذبح کر کے) اس کا گوشت کھا لیا۔
حدیث نمبر: 4786
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي حَسَّانَ ، نَا أَبُو مَرْوَانَ هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ ، نَا أَبُو خُلَيْدٍ عُتْبَةُ بْنُ حَمَّادٍ الْمُقْرِيُّ ، نَا ابْنُ ثَوْبَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ : " ذَبَحْنَا فَرَسًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَكَلْنَا نَحْنُ وَأَهْلُ بَيْتِهِ " .
محمد محی الدین
سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم نے گھوڑا ذبح کیا، ہم نے بھی اس کا گوشت کھایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ نے بھی اسے کھایا۔
حدیث نمبر: 4787
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ زَيْدٍ مِنْ أَهْلِ صَنْعَاءَ ، نَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الْهِرَّةِ ، وَأَكْلِ ثَمَنِهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی کا گوشت کھانے اور اس کی قیمت استعمال کرنے سے منع کیا ہے۔
حدیث نمبر: 4788
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ النَّحَّاسُ ، نَا عَلِيُّ بْنُ دَاوُدَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الرَّمْلِيُّ ، نَا الشَّيْبَانِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ الصَّلْتِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عِيَاضٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سَهْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " أُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْنَبٌ وَأَنَا نَائِمَةٌ ، فَخَبَّأَ لِي مِنْهَا الْعَجُزَ ، فَلَمَّا قُمْتُ أَطْعَمَنِي " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں خرگوش پیش کیا گیا، میں اس وقت سوئی ہوئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پچھلے حصے کو میرے لیے سنبھال کر رکھا، جب میں بیدار ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مجھے کھانے کے لیے دیا۔
حدیث نمبر: 4789
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ الْمُهْتَدِي بِاللَّهِ ، نَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ ، نَا شُعَيْبُ بْنُ يَحْيَى ، نَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنِ الْفَأْرَةِ تَقَعُ فِي السَّمْنِ وَالْوَدَكِ ، قَالَ : اطْرَحُوا مَا حَوْلَهَا إِنْ كَانَ جَامِدًا ، وَإِنْ كَانَ مَائِعًا فَانْتَفَعُوا بِهِ ، وَلا تَأْكُلُوا " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے چوہے کے بارے میں دریافت کیا گیا جو گھی میں گر جاتا ہے یا چربی میں گر جاتا ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ گھی جما ہوا ہو، تو اس کے چوہے آس پاس کے گھی کو نکال کر پھینک دو اور اگر وہ مائع کی شکل میں ہو، تو تم اسے کسی اور استعمال میں لے آؤ لیکن اسے کھاؤ نہیں۔“
حدیث نمبر: 4790
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْقَاسِمِ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ رَاشِدٍ الأَصْبَهَانِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ ، نَا عَمْرُو بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنْ أَبِي هَارُونَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنِ الْفَأْرَةِ تَقَعُ فِي السَّمْنِ وَالزَّيْتِ ، قَالَ : اسْتَصْبِحُوا بِهِ وَلا تَأْكُلُوهُ " ، وَنَحْوُ ذَلِكَ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِي هَارُونَ ، مَوْقُوفًا عَلَى أَبِي سَعِيدٍ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے چوہے کے بارے میں دریافت کیا گیا جو گھی یا زیتون کے تیل میں گر جاتا ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا تم کوئی اور استعمال کر لو، اسے کھاؤ نہیں۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ موقوف روایت کے طور پر منقول ہے۔
حدیث نمبر: 4791
نَا نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ ، نَا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ، وَأَسَدُ بْنُ عَاصِمٍ الأَصْبَهَانِيُّ ، قَالا : نَا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ ، نَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِي هَارُونَ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّهُ قَال " فِي الْفَأْرَةِ تَقَعُ فِي السَّمْنِ ، أَوِ الزَّيْتِ ، فَقَالَ : اسْتَنْفَعُوا بِهِ ، وَلا تَأْكُلُوهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر چوہا گھی میں یا زیتون کے تیل میں گر جاتا ہے، تو تم اس سے نفع حاصل کر لو، لیکن اسے کھاؤ نہیں۔
حدیث نمبر: 4792
حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ مَنِيعٍ ، نَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ ، قَالَ : " قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَالنَّاسُ يَجُبُّونَ أَسْنِمَةَ الإِبِلِ ، وَيَقْطَعُونَ أَلْيَاتِ الْغَنَمِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا قُطِعَ مِنَ الْبَهِيمَةِ وَهِيَ حَيَّةٌ ، فَهُوَ مَيْتَةٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ اونٹوں کی کوہان کا گوشت اور دنبے کی چکی کا گوشت کاٹ کر کھا لیا کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زندہ جانور کے جس حصے کو کاٹ دیا جائے وہ مردار شمار ہو گا۔“
حدیث نمبر: 4793
حَدَّثَنَا ابْنُ مَخْلَدٍ ، نَا حُمَيْدُ بْنُ الرَّبِيعِ ، نَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا قُطِعَ مِنَ الْبَهِيمَةِ وَهِيَ حَيَّةٌ ، فَهُوَ مَيْتَةٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زندہ جانور کے جس حصے کو کاٹ دیا جائے وہ مردار شمار ہو گا۔“