حدیث نمبر: 4708
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، نَا عَمِّي ، نَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَنَّ نَافِعًا ، حَدَّثَهُ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : " غَزَوْنَا فَجُعْنَا حَتَّى إِنَّا نَقْسِمُ التَّمْرَةَ وَالتَّمْرَتَيْنِ ، فَبَيْنَمَا نَحْنُ عَلَى شَطِّ الْبَحْرِ إِذْ رَمَى الْبَحْرُ بِحُوتٍ مَيِّتَةٍ ، فَأَقْطَعَ النَّاسُ مِنْهُ مَا شَاءُوا مِنْ شَحْمٍ وَلَحْمٍ ، وَهُوَ مثل الضَّرْبِ ، فَبَلَغَنِي أَنَّ النَّاسَ لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرُوهُ ، فَقَالَ لَهُمْ : أَمَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ ؟ " ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرُوهُ ، فَقَالَ : " هَلْ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ ؟ " ، فَقَالُوا : نَعَمْ ، فَأَعْطُوهُ مِنْهُ فَأَكَلَهُ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم جنگ میں شریک تھے، ہمیں بھوک محسوس ہوئی، یہاں تک کہ ہم نے ایک اور دو کھجوریں تقسیم کی، پھر ہم سمندر کے کنارے پہنچ گئے، سمندر نے ایک بڑی مردار مچھلی کو باہر پھینک دیا، لوگوں نے اپنی اپنی پسند کے حصے کے گوشت اور چربی کو لیا، وہ ایک مثال تھی (راوی کہتے ہیں): مجھے یہ پتا چلا ہے کہ جب وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس کے بارے میں بتایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہارے پاس اس کا کچھ حصہ ہے؟“ نافع بیان کرتے ہیں کہ جب وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہارے پاس اس کا کچھ حصہ ہے؟“ لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں! لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھا لیا۔
حدیث نمبر: 4709
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا أَبُو الأَشْعَثِ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : " آكُلُ مَا طَفَا عَلَى الْمَاءِ ؟ قَالَ : إِنَّ طَافِيَهُ مَيْتَةٌ ، وَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ مَاءَهُ طَهُورٌ ، وَمِيتَهُ حِلٌّ " .
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن ابوہریرہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا: کیا میں اس مچھلی کو کھاؤں جو (مرنے کے بعد) پانی پر تیرنے لگتی ہے؟ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: پانی میں تیرنے والی مچھلی تو مردار ہوتی ہے، انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اس کا (سمندر کا) پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔“
حدیث نمبر: 4710
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ ثَابِتٍ ، نَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ، نَا فُهَيْرُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ الْخُوزِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسٍ ، وَكَانَ شَيْخًا قَدِيمًا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ ذَبَحَ كُلَّ نُونٍ فِي الْبَحْرِ لِبَنِي آدَمَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ جو ایک عمر رسیدہ بزرگ ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو سمندر میں ہی اولاد آدم کے لیے ذبح کر دیا ہے۔“
حدیث نمبر: 4711
حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوْحٍ ، نَا شَبَابَةُ ، نَا حَمْزَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْبَحْرِ إِلا قَدْ ذَكَّاهَا اللَّهُ لِبَنِي آدَمَ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سمندر میں موجود ہر جانور کو اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کے لیے پاک قرار دیا ہے۔“
حدیث نمبر: 4712
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، نَا طَلْحَةُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : " بَلَغَنِي أَنَّ اللَّهَ ذَبَحَ مَا فِي الْبَحْرِ لِبَنِي آدَمَ " .
محمد محی الدین
عمرو بن دینار بیان کرتے ہیں کہ مجھے یہ بات پتا چلی ہے (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے): ”اللہ تعالیٰ نے سمندر میں موجود ہر چیز کو اولاد آدم کے لیے ذبح کر دیا ہے۔“
حدیث نمبر: 4713
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، وَيُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الأَزْرَقُ ، وَابْنُ الرَّبِيعِ ، وَابْنُ مَخْلَدٍ ، قَالُوا : نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كُلُوا مَا حَسَرَ عَنْهُ الْبَحْرُ وَمَا أَلْقَاهُ وَمَا وَجَدْتُمُوهُ مَيِّتًا ، أَوْ طَافِيًا فَوْقَ الْمَاءِ فَلا تَأْكُلُوهُ " ، تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ وَهْبٍ ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ ، ضَعِيفٌ لا يُحْتَجُّ بِهِ.
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سمندر جس جانور کو نمودار کرتا ہے اور جسے باہر پھینک دیتا ہے اسے تم کھا لو، لیکن جسے تم مردار پاؤ (راوی کو شک ہے یہ الفاظ یہاں) جو پانی کے اوپر تیر رہا ہو اسے نہ کھاؤ۔“
حدیث نمبر: 4714
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحْرِزٍ الْكُوفِيُّ ، بِمِصْرَ ، نَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، نَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا طَفَا فَلا تَأْكُلْهُ ، وَإِذَا جَزَرَ عَنْهُ ، فَكُلْهُ وَمَا كَانَ عَلَى حَافَيَتِهِ فَكُلْهُ " ، لَمْ يُسْنِدْهُ عَنِ الثَّوْرِيِّ ، غَيْرُ أَبِي أَحْمَدَ . وَخَالَفَهُ وَكِيعٌ ، وَالْعَدَنِيَّانِ ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَمُؤَمَّلٌ ، وَأَبُو عَاصِمٍ وَغَيْرُهُمْ ، عَنِ الثَّوْرِيِّ ، رَوَوْهُ مَوْقُوفًا وَهُوَ الصَّوَابُ . وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَابْنُ جُرَيْجٍ ، وَزُهَيْرٌ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَغَيْرُهُمْ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ مَوْقُوفًا . وَرُوِيَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، وَابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ مَرْفُوعًا ، وَلا يَصِحُّ رَفْعُهُ . رَفَعَهُ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ وَوَقَفَهُ غَيْرُهُ.
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب وہ جانور پانی پر تیرنے لگے تو اسے نہ کھاؤ اور جب وہ پانی پیچھے ہٹنے پر مل جائے، تو اسے کھا لو اور جو کنارے پر مل جائے تم اسے بھی کھا لو۔“ اس روایت کی سند نقل کرنے میں راویوں نے اختلاف کیا ہے، بعض حضرات نے اسے موقوف روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 4715
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، نَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَلْقَى الْبَحْرُ أَوْ جَزَرَ عَنْهُ فَكُلُوهُ ، وَمَا مَاتَ فِيهِ وَطَفَا فَلا تَأْكُلُوهُ " ، رَوَاهُ غَيْرُهُ مَوْقُوفًا.
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سمندر جسے باہر نکال دے، یا جسے اوپر لے آئے، اسے کھا لو اور جو سمندر میں مر جائے اور پانی میں تیرنے لگے تو اسے نہ کھاؤ۔“ دیگر راویوں نے اسے موقوف روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 4716
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَافِرِ بْنُ سَلامَةَ ، نَا يَزْدَادُ بْنُ جَمِيلٍ ، نَا الْمُعَافَى بْنُ عِمْرَانَ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ ، يَقُولُ : " مَا أَلْقَى الْبَحْرُ أَوْ حَسَرَ عَنْهُ مِنَ الْحِيتَانِ فَكُلْهُ ، وَمَا وَجَدْتَهُ طَافِيًا فَلا تَأْكُلْهُ " ، مَوْقُوفٌ هُوَ الصَّحِيحُ.
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سمندر جس مچھلی کو باہر پھینک دے یا جسے نمودار کر دے اسے کھا لو اور جسے تم پانی پر تیرتا ہوا پاؤ اسے نہ کھاؤ۔ یہ روایت موقوف ہے اور اسی حوالے سے درست ہے۔
حدیث نمبر: 4717
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ فَيْرُوزَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِيُّ ، نَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " مَا ضَرَبَ بِهِ الْبَحْرُ ، أَوْ جَزَرَ عَنْهُ ، أَوْ صِيدَ فِيهِ ، فَكُلْ وَمَا مَاتَ فِيهِ ، ثُمَّ طَفَا فَلا تَأْكُلْ " ،.
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سمندر جسے باہر پھینک دے یا جسے چھوڑ کے پیچھے ہٹ جائے یا جسے شکار کر لیا جائے تو اسے کھا لو، اور جو اس میں مر جائے اور پھر پانی پر تیرنے لگے اسے نہ کھاؤ۔
حدیث نمبر: 4718
نَا عَبْدُ الْغَافِرِ بْنُ سَلامَةَ ، نَا يَزْدَادُ ، نَا الْمُعَافَى بْنُ عِمْرَانَ ، نَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، نَحْوَهُ مَوْقُوفًا.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ موقوف روایت کے طور پر منقول ہے۔
حدیث نمبر: 4719
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ ، نَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ شَيْخًا يُكَنَّى أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ ، يَقُولُ : " مَا فِي الْبَحْرِ مِنْ شَيْءٍ ، إِلا قَدْ ذَكَّاهُ اللَّهُ تَعَالَى لَكُمْ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سمندر میں موجود ہر چیز کو اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کے لیے ذبح کر دیا ہے (یعنی حلال قرار دیا ہے)۔
حدیث نمبر: 4720
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْقَاسِمِ الْكَوْكَبِيُّ ، نَا خَالِدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الصَّدَفِيُّ ، نَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ شُرَيْحٍ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى ذَبَحَ مَا فِي الْبَحْرِ لِبَنِي آدَمَ " .
محمد محی الدین
سیدنا شریح رضی اللہ عنہ، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے سمندر میں موجود سب چیزوں کو اولاد آدم کے لیے ذبح کر دیا ہے۔“
حدیث نمبر: 4721
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : وَنا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالا : نَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَشِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : أَشْهَدُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " السَّمَكَةُ الطَّافِيَةُ حَلالٌ لِمَنْ أَرَادَ أَكْلَهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ انہوں نے فرمایا ہے: پانی پر تیرنے والی (یعنی مردار) مچھلی حلال ہے، اس شخص کے لیے جو اسے کھانا چاہتا ہو۔
حدیث نمبر: 4722
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ ، نَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، بِهَذَا قَالَ : " السَّمَكَةُ الطَّافِيَةُ عَلَى الْمَاءِ حَلالٌ " .
محمد محی الدین
اسی سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا ہے: (مرنے کے بعد) پانی پر تیرنے والی مچھلی حلال ہے۔
حدیث نمبر: 4723
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيُّ ، نَا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ ، نَا شَرِيكٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي بَشِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ ، يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى ذَبَحَ لَكُمْ مَا فِي الْبَحْرِ ، فَكُلُوهُ كُلَّهُ فَإِنَّهُ ذُكِّيَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: اللہ تعالیٰ نے سمندر میں موجود سب چیزوں کو تمہارے لیے ذبح کر دیا ہے، تو تم ان سب کو کھا لو کیونکہ وہ ذبح ہو چکی ہیں۔
حدیث نمبر: 4724
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نَا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَشِيرٍ ، قَالَ : أَشْهَدُ عَلَى عِكْرِمَةَ ، أَنَّهُ شَهِدَ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَشْهَدُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، " أَنَّهُ أَكَلَ السَّمَكَ الطَّافِيَ عَلَى الْمَاءِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ انہوں نے پانی پر تیرنے والی مچھلی کھائی ہے۔
حدیث نمبر: 4725
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْمَالِكِيُّ ، نَا بَشِيرُ بْنُ آدَمَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، نَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ لاحِقِ بْنِ حُمَيْدٍ ، وَعِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : إِنَّ أَبَا بَكْرٍ ، قَال : " السَّمَكُ ذُكِّيَ كُلْهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ہر طرح کی مچھلی ذبح کی ہوئی ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 4726
نَا نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، نَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : " الْحُوتُ ذُكِّيَ كُلْهُ ، وَالْجَرَادُ ذُكِّيَ كُلْهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہر طرح کی مچھلی ذبح کی ہوئی ہوتی ہے اور ہر طرح کی ٹڈی ذبح کی ہوئی ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 4727
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الأُمَوِيُّ ، نَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، نَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعًا لَكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ سورة المائدة آية 96 " ، وَطَعَامُهُ مَا لُفِظَ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ”تمہارے لیے سمندر کے شکار کو اور اس کے کھانے کو حلال قرار دیا گیا ہے یہ تمہارے لیے اور سفر کرنے والوں کے لیے زاد راہ ہے۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس کے کھانے سے مراد وہ چیز ہے، جو وہ باہر پھینک دے۔
حدیث نمبر: 4728
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، نَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ : أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ سورة المائدة آية 96 ، أَلا إِنَّ صَيْدَهُ مَا صِيدَ ، وَطَعَامُهُ مَا لَفَظَ الْبَحْرُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں کہتے ہیں: ”تمہارے لیے سمندر کے شکار اور اس کے کھانے کو حلال قرار دیا گیا ہے۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: شکار سے مراد وہ چیز ہے، جسے شکار کیا جائے اور کھانے سے مراد وہ چیز ہے، جسے سمندر باہر پھینک دے۔
حدیث نمبر: 4729
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، أَنَّهُ " رَكِبَ فِي الْبَحْرِ فِي رَهْطٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَوَجَدُوا سَمَكَةً طَافِيَةً عَلَى الْمَاءِ فَسَأَلُوهُ عَنْهَا ، فَقَالَ : أَطَيِّبَةٌ هِيَ لَمْ تُغَيَّرْ ؟ ، قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : فَكُلُوهَا وَارْفَعُوا نَصِيبِي مِنْهَا وَكَانَ صَائِمًا " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ کے ہمراہ سمندری سفر پر جا رہے تھے، انہوں نے ایک مردہ مچھلی پائی جو پانی پر تیر رہی تھی، لوگوں نے ان سے اس کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے دریافت کیا: کیا یہ پاک ہے؟ اس میں کوئی تبدیلی تو نہیں آئی (یعنی بو تو نہیں آنے لگی)؟ لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں! (پاک ہے) تو سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم اسے کھا لو، اور اس میں سے میرا حصہ بھی اٹھا لو (یعنی سنبھال کر رکھ لو) اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت انہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا۔
حدیث نمبر: 4730
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ ، نَا عَفَّانُ . ح قَالَ وَنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، نَا حَجَّاجٌ ، قَالا : نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ عَطِيَّةَ ، أَنَّ أَصْحَابَ أَبِي طَلْحَةَ " أَصَابُوا سَمَكَةً طَافِيَةً فَسَأَلُوا عَنْهَا أَبَا طَلْحَةَ ، فَقَالَ : اهْدُوهَا إِلَيَّ " .
محمد محی الدین
جبلہ بن عطیہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے کچھ ساتھیوں نے (مرنے کے بعد) پانی پر تیرتی ہوئی مچھلی پائی، سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے اس بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: یہ مجھے بھی تحفے کے طور پر دو۔
حدیث نمبر: 4731
حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ حَمْدَوَيْهِ الْمَرْوَزِيُّ ، وَعَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ طَاهِرٍ ، قَالا : نَا مَعْمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَعْمَرٍ الْبَلْخِيُّ ، نَا عِصَامُ بْنُ يُوسُفَ ، نَا مُبَارَكُ بْنُ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ " فِي الْجَنِينِ ذَكَاتُهُ ذَكَاةُ أُمِّهِ أَشْعَرَ ، أَوْ لَمْ يُشْعِرْ " ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : وَلَكِنَّهُ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَطْنِ أُمِّهِ يُؤْمَرُ بِذَبْحِهِ حَتَّى يَخْرُجَ الدَّمُ مِنْ جَوْفِهِ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانور کے پیٹ میں موجود بچے کی ماں کو ذبح کرنا، اسے ذبح کرنا شمار ہو گا، خواہ اس کے بال نکلے ہوں یا نہ نکلے ہوں۔“ عبیداللہ نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے: لیکن اگر وہ ماں کے پیٹ سے باہر آ جاتا ہے، تو پھر اسے ذبح کرنے کا حکم دیا جائے گا، یہاں تک کہ اس کے پیٹ میں سے بھی خون نکل آئے۔
حدیث نمبر: 4732
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَتِيقُ ، نَا مُطَرِّفٌ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أُحِلَّ لَنَا مِنَ الدَّمِ دَمَانِ ، وَمِنَ الْمَيْتَةِ مَيْتَتَانِ ، مِنَ الْمَيْتَةِ الْحُوتُ وَالْجَرَادُ ، وَمِنَ الدَّمِ الْكَبِدُ وَالطِّحَالُ " ، لَفْظُ مُطَرِّفٍ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے لیے دو طرح کے خون کو حلال قرار دیا گیا ہے اور دو طرح کے مردار کو حلال قرار دیا گیا ہے، مردار (چیزیں) مچھلی اور ٹڈی ہیں، جبکہ خون (سے مراد) جگر اور تلی ہیں۔“
حدیث نمبر: 4733
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا ابْنُ يَاسِينَ ، نَا بُنْدَارٌ ، نَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سُئِلَ " عَنِ الْجَنِينِ يَخْرُجُ مَيِّتًا ، قَالَ : إِنْ شِئْتُمْ فَكُلُوهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جانور کے پیٹ میں موجود بچے کے بارے میں دریافت کیا گیا، جو مردہ باہر آتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو اسے کھا لو۔“
حدیث نمبر: 4734
حَدَّثَنَا أَبُو الأَسْوَدِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، وَمُوسَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ قَرِينٍ ، قَالا : نَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَكَمِ الْجِيرِيُّ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ ، نَا صَبَاحُ بْنُ يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلِ الْجَنِينَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ " ، وَقَالَ أَبُو الأَسْوَدِ : فِي بَطْنِ النَّاقَةِ.
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ماں (مادہ جانور) کے پیٹ میں (سے نکلنے والے) بچے کو کھا لو۔“ ابواسود نامی راوی نے یہ بات نقل کی ہے کہ اونٹنی کے پیٹ میں موجود بچے کو کھا لو۔
حدیث نمبر: 4735
نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، نَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، نَا أَبُو يُوسُفَ الْقَاضِي ، نَا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سُئِلَ " عَنِ الْجَزُورِ ، وَالْبَقَرَةِ يُوجَدُ الْجَنِينُ فِي بَطْنِهَا ، فَقَالَ : إِذَا سَمَّيْتُمْ عَلَى الذَّبِيحَةِ فَذَكَاتُهُ ذَكَاةُ أُمِّهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اونٹنی یا گائے کے بارے میں دریافت کیا گیا جس کے پیٹ میں اس کا بچہ ہوتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اسے ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لے لو، تو پھر اس پیٹ میں موجود بچے کی ماں کو ذبح کرنا، اس بچے کا ذبح کرنا شمار ہو گا۔“
حدیث نمبر: 4736
حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ الدَّقَّاقُ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالا : نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، نَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْنَا : " أَحَدُنَا يَنْحَرُ النَّاقَةَ ، أَوْ يَذْبَحُ الْبَقَرَةَ ، أَوِ الشَّاةَ فَيَجِدُ فِي بَطْنِهَا جَنِينًا فَيَأْكُلُهُ أَوْ يُلْقِيهِ ؟ ، قَالَ : فَقَالَ : كُلُوهُ إِنْ شِئْتُمْ ، إِنَّ ذَكَاتَهُ ذَكَاةُ أُمِّهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، ہم نے عرض کی: کوئی شخص کسی اونٹنی کو یا کسی گائے کو یا کسی بکری کو ذبح کرتا ہے اور اس کے پیٹ میں بھی ایک بچے کو پاتا ہے، تو کیا وہ اسے کھا لے یا اسے پھینک دے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو اسے کھا لو کیونکہ اس کی ماں کو ذبح کرنا اس کا ذبح کرنا شمار ہو گا۔“
حدیث نمبر: 4737
حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ حَمْزَةُ بْنُ الْقَاسِمِ الْهَاشِمِيُّ الإِمَامُ ، مِنْ أَصْلِهِ ، نَا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، نَا أَبُو عُبَيْدَةَ هُوَ الْحَدَّادُ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ وَاصِلٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ جَبْرِ بْنِ نَوْفٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ذَكَاةُ الْجَنِينِ ذَكَاةُ أُمِّهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جانور کے پیٹ میں موجود بچے کی ماں کو ذبح کرنا اسے ذبح کرنا شمار ہو گا۔“
حدیث نمبر: 4738
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْوَاسِطِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ بْنِ الصَّلْتِ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرِ بْنِ سَلْمٍ ، نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَفَعَهُ ، قَالَ : " ذَكَاةُ الْجَنِينِ ذَكَاةُ أُمِّهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں: ”پیٹ میں موجود بچے کی ماں کو ذبح کرنا اسے ذبح کرنا شمار ہو گا۔“
حدیث نمبر: 4739
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّارُ ، نَا طَاهِرُ بْنُ خَالِدِ بْنِ بَزَّارٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ " فِي الْجَنِينِ : ذَكَاتُهُ ذَكَاةُ أُمِّهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو جانور کے پیٹ میں موجود بچے کے بارے میں ہے کہ اس کی ماں کو ذبح کرنا اسے ذبح کرنا شمار ہو گا۔“
حدیث نمبر: 4740
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُنَبِّهٍ ، نَا مُحْرِزُ بْنُ هِشَامٍ ، نَا مُوسَى بْنُ عُثْمَانَ الْكِنْدِيُّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ذَكَاةُ الْجَنِينِ ذَكَاةُ أُمِّهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(جانور کے) پیٹ میں موجود بچے کی ماں کو ذبح کرنا، اسے ذبح کرنا شمار ہو گا۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(جانور کے) پیٹ میں موجود بچے کی ماں کو ذبح کرنا اسے ذبح کرنا شمار ہو گا۔“
حدیث نمبر: 4741
وَعَنْ وَعَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ذَكَاةُ الْجَنِينِ ذَكَاةُ أُمِّهِ " .
محمد محی الدین
ابوسلمہ اور سلیمان بن یسار بیان کرتے ہیں کہ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا پتا چلا ہے کہ ”جو شخص تاخیر کرنا چاہے وہ مہینے کے آخر تک قربانی کر سکتا ہے۔“