حدیث نمبر: 4704
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، نَا جَدِّي ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سُئِلَ " عَنِ الْخَمْرِ أَيُتَّخَذُ خَلا ؟ قَالَ : لا " .
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب کے بارے میں دریافت کیا گیا: کیا اسے سرکہ بنا لیا جائے؟ تو آپ نے فرمایا: ”نہیں!“۔
حدیث نمبر: 4705
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يَعْقُوبُ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ ، عَنْ أَنَسٍ " أَنْ يَتِيمًا كَانَ فِي حِجْرِ أَبِي طَلْحَةَ فَأَشْتَرَى لَهُ خَمْرًا ، فَلَمَّا حُرِّمَتْ ، سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُتَّخَذُ خَلا ؟ ، قَالَ : لا " .
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی زیر پرورش ایک یتیم لڑکا تھا، سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے شراب خریدی۔ جب شراب کو حرام قرار دیا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: کیا اسے سرکہ بنایا جا سکتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں!“۔
حدیث نمبر: 4706
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، نَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ، نَا أَبِي ، نَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو طَلْحَةَ ، عَن أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ كَانَ عِنْدَهُ مَالٌ لِيَتَامَى فَاشْتَرَى بِهِ خَمْرًا ، قَالَ : فَنَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ ، قَالَ : وَمَا خَمْرُنَا يَوْمَئِذٍ إِلا مِنَ التَّمْرِ ، قَالَ : فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ لَهُ : " إِنَّهُ كَانَ عِنْدِي مَالُ يَتِيمٍ فَاشْتَرَيْتُ بِهِ خَمْرًا قَبْلَ أَنْ تُحَرَّمَ الْخَمْرُ ، فَأَمَرَنِي ، أَكْسِرُ الدِّنَانَ وَأُهْرِيقُهُ ، فَأَتَيْتُهُ ثَلاثَ مَرَّاتٍ كُلَّ ذَلِكَ يَأْمُرُنِي ، أَنْ أَكْسَرَ الدِّنَانَ وَأُهْرِيقَهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے: ان کے پاس یتیموں کا کچھ مال تھا، انہوں نے اس کے ذریعے شراب خرید لی، پھر شراب کی حرمت کا حکم نازل ہو گیا۔ راوی کہتے ہیں: ان دنوں ہماری شراب صرف کھجور کے ذریعے بنائی جاتی تھی۔ راوی کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے آپ کی خدمت میں عرض کی: میرے پاس یتیموں کا کچھ مال ہے، میں نے اس کے ذریعے شراب خرید لی ہے، یہ شراب کا حکم نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ ہدایت کی کہ میں وہ برتن توڑ دوں اور شراب کو بہا دوں، میں تین مرتبہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، ہر مرتبہ آپ نے مجھے یہی ہدایت کی کہ میں برتن توڑ دوں اور شراب کو بہا دوں۔
حدیث نمبر: 4707
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ، نَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ ، نَا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : كَانَتْ لَنَا شَاةٌ فَمَاتَتْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا فَعَلَتْ شَاتُكُمْ ؟ ، قُلْنَا : مَاتَتْ ، قَالَ : أَفَلا انْتَفَعْتُمْ بِإِهَابِهَا ؟ ، قُلْنَا : إِنَّهَا مَيْتَةٌ ، قَالَ : يَحِلُّ دِبَاغُهَا كَمَا يَحِلُّ خَلُّ الْخَمْرِ " ، تَفَرَّدَ بِهِ فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ يَحْيَى ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، يَرْوِي عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعْدٍ أَحَادِيثَ عِدَّةً لا يُتَابَعُ عَلَيْهَا.
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہماری ایک بکری تھی وہ مر گئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تمہاری بکری کو کیا ہوا؟“ ہم نے بتایا کہ وہ مر گئی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کی کھال کے ذریعے فائدہ کیوں نہیں حاصل کرتے؟“ ہم نے عرض کی: وہ تو مردار ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی دباغت اسے حلال کر دیتی ہے، جس طرح شراب سے بنایا ہوا سرکہ حلال ہوتا ہے۔“