حدیث نمبر: 4690
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ خُشَيْشٍ ، نَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، نَا وَكِيعٌ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، أَنَّ رَجُلا شَرِبَ مِنْ إِدَاوَةِ عَلِيٍّ نَبِيذًا بِصِفِّينَ فَسَكِرَ ، " فَضَرَبَهُ عَلِيُّ عَلَيْهِ السَّلامُ الْحَدَّ " .
محمد محی الدین
شعبی بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے برتن میں سے نبیذ پی لی، یہ صفین کے مقام کی بات ہے، اسے نشہ ہو گیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس پر حد جاری کی۔
حدیث نمبر: 4691
قَالَ : وَنا قَالَ : وَنا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَامِرٍ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا شَرِبَ مِنْ إِدَاوَةِ عُمَرَ نَبِيذًا فَسَكِرَ ، " فَضَرَبَهُ عُمَرُ الْحَدَّ " ، هَذَا مُرْسَلٌ ، وَلا يُثْبَتَانِ.
محمد محی الدین
عامر بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے پرانے مشکیزے سے نبیذ پی تو اسے نشہ ہو گیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے حد لگائی۔ یہ مرسل ہے اور یہ دونوں روایتیں ثابت نہیں ہیں۔
حدیث نمبر: 4692
نَا أَبُو بَكْرٍ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عِيسَى الْبَزَّازُ ، نَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ ، نَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيِّ ، قَالَ : طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ فِي يَوْمٍ قَائِظٍ شَدِيدِ الْحَرِّ ، فَاسْتَسْقَى رَهْطًا مِنْ قُرَيْشٍ ، فَقَالَ : " هَلْ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْكُمْ شَرَابٌ فَيُرْسِلُ إِلَيَّ ؟ ، فَأَرْسَلَ رَجُلٌ مِنْهُمْ إِلَى مَنْزِلِهِ ، فَجَاءَتْ جَارِيَةٌ مَعَهَا إِنَاءٌ فِيهِ نَبِيذُ زَبِيبٍ ، فَلَمَّا رَآهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَلا خَمَّرْتِهِ وَلَوْ بِعُودٍ تَعْرُضُهُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا أَدْنَى الإِنَاءَ مِنْهُ وَجَدَ لَهُ رَائِحَةً شَدِيدَةً ، فَقَطَّبَ وَرَدَّ الإِنَاءَ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ يَكُنْ حَرَامًا لَمْ تَشْرَبْهُ فَاسْتَعَادَ الإِنَاءَ وَصَنَعَ مثل ذَلِكَ ، فَقَالَ الرَّجُلُ مثل ذَلِكَ ، فَدَعَا بِدَلْوٍ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ فَصَبَّهُ عَلَى الإِنَاءِ ، وَقَالَ : إِذَا اشْتَدَّ عَلَيْكُمْ شَرَابَكُمْ فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا " ، الْكَلْبِيُّ مَتْرُوكٌ ، وَأَبُو صَالِحٍ ، ضَعِيفٌ ، وَاسْمُهُ بَاذَانُ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ.
محمد محی الدین
سیدنا مطلب بن ابووداعہ سہمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک سخت گرمی کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف کیا، آپ نے قریش کے کچھ لوگوں سے پینے کے لیے پانی مانگا، آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کوئی مشروب ہے، اگر ہے، تو وہ میرے گھر بھجوا دیں؟“ تو ان میں سے ایک شخص نے آپ کے گھر اسے بھجوا دیا، ایک کنیز آئی، اس کے پاس برتن تھا، جس میں کشمش کی بنی ہوئی نبیذ موجود تھی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ملاحظہ فرمایا تو دریافت کیا: ”تم نے اسے ڈھانپا کیوں نہیں! خواہ کسی لکڑی کے ذریعے ہی اس کو ڈھانپ دیتی۔“ جب اس نے اس برتن کو آپ کے قریب کیا تو آپ کو اس میں سے تیز بو محسوس ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کر دیا، اس شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! اگر یہ حرام ہے، تو آپ اسے نہ پییں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن کو دوبارہ منگوایا اور اس کے ساتھ یہی طرز عمل اختیار کیا، اس شخص نے پھر یہی عرض کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ زم زم کا ایک ڈول منگوایا اور اس برتن میں ڈال دی اور ارشاد فرمایا: ”جب تمہارا مشروب تیز ہو جائے تو تم اس کے ساتھ یہ کر لو۔“
حدیث نمبر: 4693
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ ، نَا مُوسَى بْنُ سُفْيَانَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَهْمِ ، نَا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ بَاذَانَ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ ، قَالَ : طَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ ، وَقَالَ : " اسْقُونِي ، فَأُتِيَ بِنَبِيذِ زَبِيبٍ فَشَرِبَ فَقَطَّبَ فَرَدَّهُ ، فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَحَرَامٌ هُوَ ؟ ، فَوَاللَّهِ إِنَّهُ لَشَرَابٌ ، فَسَكَتَ فَأَعَادَ عَلَيْهِ فَسَكَتَ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَحَرَامٌ هُوَ ؟ فَوَاللَّهِ إِنَّهُ لَشَرَابُ أَهْلِ مَكَّةَ مِنْ آخِرِهِمْ ، قَالَ : رُدُّوهُ ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَصُبُّوا عَلَيْهِ الْمَاءَ فَجَعَلَ يَمُصُّهُ ، وَيَقُولُ : صَبَّ ، ثُمَّ عَادَ حَتَّى أَمْكَنَ شَرِبَهُ ، فَقَالَ : اصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا " .
محمد محی الدین
سیدنا مطلب بن ابووداعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف کرنے کے بعد ارشاد فرمایا: ”مجھے کچھ پینے کے لیے دو!“ تو آپ کی خدمت میں کشمش کی نبیذ لائی گئی، آپ نے اسے کچھ پیا اور پھر اسے واپس کر دیا، میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! کیا یہ حرام ہے؟ اللہ کی قسم! یہ تو ایک مشروب ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، انہوں نے دوبارہ آپ سے یہ سوال کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر خاموش رہے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا یہ حرام ہے؟ اللہ کی قسم! یہ تو اہل مکہ کا مخصوص مشروب ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے واپس میرے پاس لے آؤ!“ پھر آپ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اس میں پانی ملا دیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے گھونٹ گھونٹ بھر کے پینے لگے۔ آپ یہ ارشاد فرماتے رہے: ”تھوڑا سا پانی اور ڈال دو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بار بار یہی ارشاد فرماتے رہے، یہاں تک کہ وہ پینے کے قابل ہو گیا، آپ نے فرمایا: ”تم اس کے ساتھ اس طرح کر لیا کرو۔“
حدیث نمبر: 4694
نَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الزَّيَّاتُ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا جَرِيرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ " عَنِ النَّبِيذِ الشَّدِيدِ ، فَقَالَ : جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسٍ فَوَجَدَ مِنْ رَجُلٍ رِيحَ نَبِيذٍ ، فَقَالَ : مَا هَذِهِ الرِّيحُ ؟ ، قَالَ : رِيحُ نَبِيذٍ ، قَالَ : فَأَرْسَلَ فَلْيُؤْتَ مِنْهُ ، فَأَرْسَلَ فَأُتِيَ بِهِ فَوَضَعَ فِيهِ رَأْسَهُ ، فَشَمَّهُ ، ثُمَّ رَجَعَ فَرَدَّهُ ، حَتَّى إِذَا قَطَعَ الرَّجُلُ الْبَطْحَاءَ رَجَعَ ، فَقَالَ : أَحَرَامٌ أَمْ حَلالٌ ؟ قَالَ : فَوَضَعَ رَأْسَهُ فِيهِ فَوَجَدَهُ شَدِيدًا فَصَبَّ عَلَيْهِ الْمَاءَ ، ثُمَّ شَرِبَ ، فَقَالَ : إِذَا اغْتَلَمَتْ أَسْقِيَتُكُمْ فَأَكْسِرُوهَا بِالْمَاءِ " ، كَذَا قَالَ مَالِكُ بْنُ الْقَعْقَاعِ ، وَقَالَ غَيْرُهُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَافِعِ بْنِ أَخِي الْقَعْقَاعِ ، وَهُوَ رَجُلٌ مَجْهُولٌ ضَعِيفٌ ، وَالصَّحِيحُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ " ، وَقَدْ تَقَدَّمَ ذِكْرُهُ.
محمد محی الدین
مالک بن ثقفی بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے تیز نبیذ کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک محفل میں بیٹھے ہوئے تھے، آپ کو ایک شخص سے نبیذ کی بو محسوس ہوئی، آپ نے دریافت کیا: ”یہ کس چیز کی بو ہے؟“ اس نے عرض کی: یہ نبیذ کی بو ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت وہ نبیذ منگوائی گئی، اس شخص نے وہ نبیذ بھجوائی، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائی گئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا چہرہ مبارک اس کے پاس لے گئے اور اسے سونگھا، پھر آپ چہرہ واپس لے آئے اور اس کو واپس کر دیا۔ جب وہ شخص بطحا سے جا چکا تھا تو وہ شخص پھر واپس آیا اور اس نے دریافت کیا: کیا یہ حرام ہے یا حلال ہے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک پھر اس کے قریب کیا اور اس کی تیز بو کو محسوس کر کے اس میں پانی ملا دیا، پھر اسے پی لیا، آپ نے فرمایا: ”جب تمہارے مشکیزوں میں جوش پیدا ہو جائے تو اسے پانی کے ذریعے ختم کرو۔“ یہ روایت اسی طرح منقول ہے، تاہم سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مستند طور پر یہ بات منقول ہے: ”جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ پیدا کرے، اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہوتی ہے۔“ یہ روایت پہلے گزر چکی ہے۔
حدیث نمبر: 4695
حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْحَضْرَمِيُّ ، نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ الْمِصِّيصِيُّ . ح وَنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِيُّ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ . ح وَنا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَحْرٍ الْعَطَّارُ ، جَمِيعًا بِالْبَصْرَةِ ، قَالا : نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، قَالُوا : نَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : " عَطِشَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَوْلَ الْكَعْبَةِ فَاسْتَسْقَى ، فَأُتِيَ بِنَبِيذٍ مِنَ السِّقَايَةِ فَشَمَّهُ ثُمَّ قَطَّبَ ، فَقَالَ : عَلَيَّ بِذَنُوبٍ مِنْ زَمْزَمَ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ ثُمَّ شَرِبَ ، فَقَالَ رَجُلٌ : أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : لا " ، لَفْظُ أَبِي حَامِدٍ ، وَالشَّهِيدِيُّ ، وَقَالَ لَنَا الْمَحَامِلِيُّ : وَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَلَمْ يُتِمَّهُ.
محمد محی الدین
سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خانہ کعبہ کے پاس پیاس محسوس ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پینے کے لیے کچھ مانگا تو آپ کی خدمت میں مشکیزے میں سے نبیذ لائی گئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سونگھا، پھر آپ نے فرمایا: ”میرے پاس زم زم کا ایک ڈول لے کے آؤ!“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پانی اس میں ملا دیا، پھر اسے پی لیا، ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا یہ حرام ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں!“۔
حدیث نمبر: 4696
نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْوَكِيلُ ، نَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ الْعِجْلِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَطِشَ ، وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ ، فَأُتِيَ بِنَبِيذٍ مِنَ السِّقَايَةِ فَقَطَّبَ ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : لا عَلَيَّ بِذَنُوبٍ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ ، فَصَبَّهُ عَلَيْهِ ، ثُمَّ شَرِبَ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیاس محسوس ہوئی، آپ اس وقت خانہ کعبہ کا طواف کر رہے تھے، تو آپ کی خدمت میں نبیذ کا مشکیزہ لایا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول نہیں کیا۔ ایک شخص نے آپ کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ! کیا یہ حرام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں! تم میرے پاس آپ زم زم کا ڈول لے کے آؤ۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پانی اس میں ملا دیا اور اسے پی لیا اور پھر آپ طواف کرنے لگے۔
حدیث نمبر: 4697
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ الْعَطَّارُ ، نَا الْيَسَعُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِإِنَاءٍ فِيهِ نَبِيذٌ ، فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَطَّبَ ثُمَّ رَدَّهُ ، فَتَبِعَهُ الرَّجُلُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " أَحَرَامٌ هُوَ ؟ ، فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ دَعَا بِذَنُوبٍ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ ، فَصَبَّهُ فِيهِ فَشَرِبَ ، ثُمَّ قَالَ : إِذَا اغْتَلَمَتْ عَلَيْكُمُ الأَنْبِذَةُ فَأَكْسِرُوهَا بِالْمَاءِ " ، لا يَصِحُّ هَذَا عَنْ زَيْدِ بْنِ الْحُبَابِ ، عَنِ الثَّوْرِيِّ ، وَلَمْ يَرْوِهِ غَيْرُ الْيَسَعِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَهَذَا حَدِيثٌ مَعْرُوفٌ بِيَحْيَى بْنِ يَمَانٍ ، وَيُقَالُ : إِنَّهُ انْقَلَبَ عَلَيْهِ الإِسْنَادُ ، وَاخْتَلَطَ عَلَيْهِ بِحَدِيثِ الْكَلْبِيِّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
محمد محی الدین
سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یاد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک برتن لایا گیا، جس میں نبیذ موجود تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پکڑا اور ناراضگی کا اظہار کر کے اسے واپس کر دیا، ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے آیا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا یہ حرام ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن کو پکڑا، پھر آپ نے آپ زم زم کا ایک ڈول منگوایا اور اس میں وہ پانی ملا دیا، پھر اس مشروب کو پی لیا، پھر آپ نے فرمایا: ”جب تمہاری نبیذ تیز ہو جائے تو اس کی تیزی کو پانی کے ذریعے ختم کر دو۔“
حدیث نمبر: 4698
ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَثْرَمُ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْمُقْرِئُ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ مِهْرَانَ الْمُؤَدِّبُ ، وَنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الثَّلْجِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُشْرِقُ ، قَالا : نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانَ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنِ النَّبِيذِ ، حَلالٌ هُوَ أَوْ حَرَامٌ ؟ ، قَالَ : حَلالٌ " ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانَ ، مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.
محمد محی الدین
سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نبیذ کے بارے میں دریافت کیا گیا: کیا یہ حلال ہے یا حرام ہے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حلال ہے۔“
حدیث نمبر: 4699
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَعْقُوبَ الصَّنْدَلِيُّ ، نَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، نَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ دَاوُدَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ سَكِرَ مِنْ نَبِيذِ تَمْرٍ ، فَجَلَدَهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: ایک شخص کو (آپ کے پاس) لایا گیا جسے کھجور کی نبیذ پینے کی وجہ سے نشہ ہو گیا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوڑے لگوائے۔
حدیث نمبر: 4700
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْبُسْرِيُّ ، نَا أَبُو عَاصِمٍ ، نَا أَبُو الْعَوَّامِ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ سَكِرَ مِنْ نَبِيذٍ ، فَجَلَدَهُ " ، كَذَا قَالَ الْبُسْرِيُّ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص کو لایا گیا، جسے نبیذ پینے کی وجہ سے نشہ ہو گیا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوڑے لگوائے۔