حدیث نمبر: 4565
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، نَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، نَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذِهِ حَرَمُ اللَّهِ حَرَّمَهَا يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ وَوَضَعَ هَذَيْنِ الْجَبَلَيْنِ ، لَمْ يَحِلَّ لأَحَدٍ قَبْلِي وَلا يَحِلُّ لأَحَدٍ بَعْدِي وَلَمْ يَحِلَّ لِي إِلا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ ، أَنْ لا يُحْصَدُ شَوْكُهَا ، وَلا يُنَفَّرَ صَيْدُهَا ، وَلا يُخْتَلَى خَلاءُهَا ، وَلا تُرْفَعُ لُقَطَتُهَا إِلا لِمُنْشِدٍ ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَهْلَ مَكَّةَ لا صَبْرَ لَهُمْ عَنِ الإِذْخِرِ لِقَيْنِهِمْ وَأَبْيَاتِهِمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِلا الإِذْخِرَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اللہ تعالیٰ کا حرم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس دن قابل احترام قرار دیا تھا جس دن آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تھا۔ اس نے یہاں یہ دو پہاڑ رکھے ہیں، مجھ سے پہلے کسی بھی شخص کے لیے یہاں (جنگ و جدل) کرنا حلال نہیں ہوا اور میرے بعد بھی کسی کے لیے حلال نہیں ہو گا۔ میرے لیے بھی یہ دن کے ایک مخصوص حصے میں حلال ہوا ہے۔ یہاں کے کانٹے کو توڑا نہیں جائے گا، یہاں کے شکار کو بھگایا نہیں جائے گا، یہاں کی گھاس کو کاٹا نہیں جائے گا، یہاں کی گری ہوئی چیز کو اٹھایا نہیں جائے گا، البتہ اعلان کرنے کے لیے اٹھایا جا سکتا ہے۔“ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! مکہ کے رہنے والے لوگ اذخر استعمال کیے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اسے سنار بھی استعمال کرتے ہیں اور گھروں میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اذخر کا حکم مختلف ہے (یعنی اسے کاٹنے کی اجازت ہے)۔“
حدیث نمبر: 4566
نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، نَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَهْمِيُّ ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَرَبِيعَةُ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنِ اللُّقَطَةِ الذَّهَبِ ، وَالْوَرِقِ ، قَالَ : اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا وَعَرِّفْهَا سَنَةً ، فَإِنْ لَمْ تُعْرَفْ فَاسْتَغْنِ بِهَا ، وَلْتَكُنْ وَدِيعَةً عِنْدَكَ ، فَإِنْ جَاءَ لَهَا طَالِبٌ يَوْمًا مِنَ الدَّهْرِ فَأَدِّهَا إِلَيْهِ ، وَسَأَلَهُ عَنْ ضَالَّةِ الإِبِلِ ، قَالَ : مَا لَكَ وَمَا لَهَا دَعْهَا فَإِنَّ مَعَهَا حِذَاءَهَا وَسِقَاءَهَا تَرِدُ الْمَاءَ ، وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَجِدَهَا رَبُّهَا ، وَسَأَلَهُ عَنِ الشَّاةِ ، فَقَالَ : خُذْهَا فَإِنَّهَا لَكَ ، أَوْ لأَخِيكَ ، أَوْ لِلذِّئْبِ " .
محمد محی الدین
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گرے ہوئے (ملنے والے) سونے یا چاندی کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس (تھیلی) کے منہ پر بندھے ہوئے دھاگے کے نشان کو یاد رکھو اور ایک سال تک اس کا اعلان کرو، اگر پتا نہ چل سکے تو اس کو استعمال کر لو، یہ تمہارے پاس ودیعت کے طور پر رہے گی، کسی بھی زمانے میں کسی بھی وقت اگر اس کا مالک آ گیا تو تم اس کو ادا کر دو گے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گم شدہ اونٹ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا اس کے ساتھ کیا واسطہ ہے! اسے وہی پر رہنے دو، اس کا پیٹ اس کے پاؤں اس کے ساتھ ہیں وہ خود پانی تک پہنچ جائے گا اور پتے کھا لے گا، یہاں تک کہ اس کا مالک اس کو پا لے گا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (گم شدہ) بکری کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”یا وہ تمہیں ملے گی یا تمہارے کسی بھائی کو ملے گی یا پھر بھیڑیے کو مل جائے گی۔“
حدیث نمبر: 4567
نَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَاشِدٍ ، نَا دَاوُدُ بْنُ مِهْرَانَ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، وَيَعْقُوبَ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سُئِلَ " عَنْ ضَالَّةِ الإِبِلِ ، فَقَالَ : مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا تَرِدُ الْمَاءَ وَتُصِيبُ الشَّجَرَ فَلا تَعَرَّضْ لَهَا ، وَسُئِلَ عَنْ ضَالَّةِ الْغَنَمِ ، فَقَالَ : لَكَ ، أَوْ لأَخِيكَ ، أَوْ لِلذِّئْبِ فَخُذْهَا " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گم شدہ اونٹ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اس کا پیٹ اس کے پاؤں اس کے ساتھ ہیں، وہ خود ہی پانی تک پہنچ جائے گا اور درخت کے (پتے) کھا لے گا، تم اس کی فکر مت کرو۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گم شدہ بکری کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تمہیں ملے گی یا تمہارے کسی بھائی کو ملے گی یا بھیڑیے کو مل جائے گی، تو تم اسے پکڑ لو۔“
حدیث نمبر: 4568
نَا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْجُنَيْدِ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ حَبَّانَ بْنِ أَبِي جَبَلَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ أَحَدٍ أَحَقُّ بِمَالِهِ مِنْ وَالِدِهِ ، وَوَلَدِهِ ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " .
محمد محی الدین
سیدنا حبان بن ابوجبلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر شخص اپنے مال کا، اپنے والدین، اپنی اولاد اور دیگر تمام لوگوں کے مقابلے میں زیادہ حق دار ہوتا ہے۔“
حدیث نمبر: 4569
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، نَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ يَزِيدَ ، قَالَ سُفْيَانُ : وَأَنَا لِحَدِيثِ يَحْيَى أَحْفَظُ ، قَالَ سُفْيَانُ : فَذَكَرْتُهُ لِرَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَحَدَّثَنِي عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، قَالَ : أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَا تَقُولُ فِي ضَالَّةِ الإِبِلِ ؟ فَغَضِبَ وَاحْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ ، فَقَالَ : مَا لَهُ وَلَهَا مَعَهَا الْحَذَّاءُ ، وَالسِّقَاءُ ، تَرِدُ الْمَاءَ ، وَتَأْكُلُ مِنَ الشَّجَرِ ، حَتَّى يَأْتِيَهَا رَبُّهَا ، قَالَ : فَضَالَةُ الْغَنَمِ ؟ ، قَالَ : خُذْهَا هِيَ لَكَ ، أَوْ لأَخِيكَ ، أَوْ لِلذِّئْبِ " .
محمد محی الدین
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کی: آپ گم شدہ اونٹ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آ گئے، آپ کے رخسار سرخ ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا اس کے ساتھ کیا واسطہ ہے! اس کے پاؤں اور اس کا پیٹ اس کے ساتھ ہے وہ خود ہی پانی تک پہنچ جائے گا اور درختوں سے پتے کھا لے گا، یہاں تک کہ اس کا مالک تک آ جائے گا۔“ اس نے عرض کی: پھر آپ گم شدہ بکری کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے پکڑ لو، کیونکہ یا وہ تمہیں ملے گی یا تمہارے کسی بھائی کو ملے گی یا پھر بھیڑیے کو مل جائے گی۔“
حدیث نمبر: 4570
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّ رَجُلا مِنْ مُزَيْنَةَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " كَيْفَ تَرَى يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرِيسَةِ الْجَبَلِ ؟ قَالَ : هِيَ وَمِثْلُهَا ، وَالنَّكَالُ لَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْمَاشِيَةِ قَطْعٌ إِلا مَا أَوَاهُ الْمُرَاحُ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ قَطْعُ الْيَدِ ، وَمَا لَمْ يَبْلُغْ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ غَرَامَتُهُ وَجَلَدَاتُ نَكَالٍ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ تَرَى فِي الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ ؟ ، قَالَ : هُوَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ وَالنَّكَالُ ، وَلَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ قَطْعٌ إِلا مَا أَوَاهُ الْجَرِينُ فَمَا أُخِذَ مِنَ الْجَرِينِ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ الْقَطْعُ ، وَمَا لَمْ يَبْلُغْ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ غَرَامَتُهُ ، وَجَلَدَاتُ نَكَالٍ، قَالَ : فَكَيْفَ تَرَى فِيمَا يُوجَدُ فِي الطَّرِيقِ الْمِيتَاءِ وَفِي الْقَرْيَةِ الْمَسْكُونَةِ ؟ ، قَالَ : عَرِّفْهُ سَنَةً ، فَإِنْ جَاءَ بَاغِيهِ فَادْفَعْهُ إِلَيْهِ ، وَإِلا فَشَأْنُكَ بِهِ فَإِنْ جَاءَ طَالِبُهَا يَوْمًا مِنَ الدَّهْرِ ، فَأَدِّهَا إِلَيْهِ ، وَمَا كَانَ فِي الْمِيتَاءِ الْمَسْكُونَةِ فَفِيهِ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ ، قَالَ : كَيْفَ تَرَى فِي ضَالَّةِ الْغَنَمِ ؟ قَالَ : طَعَامٌ مَأْكُولٌ لَكَ ، أَوْ لأَخِيكَ ، أَوْ لِلذِّئْبِ احْبِسْ عَلَى أَخِيكَ ضَالَّتَهُ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ تَرَى فِي ضَالَّةِ الإِبِلِ ؟ ، قَالَ : مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا ، وَلا يُخَافُ عَلَيْهَا الذِّئْبَ ، تَأْكُلُ الْكَلأَ وَتَرِدُ الْمَاءَ دَعْهَا حَتَّى يَأْتِيَ طَالِبُهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مزینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! اگر کوئی شخص رسی چرا لیتا ہے، تو اس بارے میں آپ کیا ارشاد فرماتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس اور اس طرح کی (دوسری چیزوں) میں سزا دی جائے گی۔ کسی جانور کی چوری پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، البتہ جس جانور کو حفاظت کے ساتھ رکھا گیا ہو اس کو چرانے پر ہاتھ کاٹا جائے گا، جس کی قیمت ڈھال کی قیمت کی جتنی ہو گی، اس صورت میں ہاتھ کاٹا جائے گا، اگر اس کی قیمت کم ہو گی تو اس صورت میں تاوان وصول کیا جائے گا اور ساتھ کوڑے لگائے جائیں گے۔“ اس شخص نے دریافت کیا: درخت پر لگے ہوئے پھل کو چوری کرنے کا کیا حکم ہو گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس طرح کی چیز کی چوری پر کوڑے لگائے جائیں گے، درخت پر لگے پھل کو چوری کرنے پر ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے۔ اگر پھل کو کسی جگہ سکھانے کے لیے رکھا ہو اور وہاں سے چوری ہو، تو پھر ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اس لیے وہاں سے چوری کیا گیا پھل اگر ڈھال کی قیمت جتنا ہو گا تو ہاتھ کاٹا جائے گا، لیکن اگر اتنی قیمت نہ ہو گی تو ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔“ اس نے عرض کی: جو چیز راستے میں یا کسی رہائشی علاقے میں سے چوری جاتی ہے، تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ یا کوئی چیز گری ہوئی ملتی ہے؟ تو اس کے بارے میں کیا حکم ہو گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سال بھر اس کا اعلان کرتے رہو، اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے ادا کر دو، ورنہ اسے استعمال کر لو۔ اس کا مالک جس وقت بھی تمہارے پاس آئے گا، تم اسے ادا کر دو گے۔ اگر کوئی چیز غیر آباد بستی میں یا انجان راستے میں سے ملے، اس میں سے نکلنے والے خزانے میں پانچویں حصے کی ادائیگی کا حکم ہے۔“ اس شخص نے دریافت کیا: اگر گم شدہ بکری ملتی ہے، تو اس کے بارے میں آپ کا کیا حکم ہے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تمہیں ملے گی یا تمہارے کسی بھائی کو ملے گی یا بھیڑیے کو مل جائے گی، اس لیے اسے اپنے بھائی کی گم شدہ چیز کے طور پر سنبھالو۔“ اس شخص نے عرض کی: گم شدہ اونٹ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو کوئی پروا نہیں ہے، اس کا پیٹ اور اس کا پاؤں اس کے ساتھ ہے، وہ خود کھا لے گا، پانی پی لے گا، یہاں تک کہ اس کا مالک اس تک پہنچ جائے گا۔“
حدیث نمبر: 4571
نَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ الزَّرَّادُ ، نَا أَبُو عُتْبَةَ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ ، نَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، نَا مُبَشِّرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَأَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ لِقَاتِلٍ وَصِيَّةٌ " ، مُبَشِّرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ ، يَضَعُ الْحَدِيثَ.
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قاتل کے لیے وصیت نہیں کی جا سکتی۔“
حدیث نمبر: 4572
نَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدَانَ الْعَرْزَمِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَافِرِيٍّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ ، عَنْ أَبِي مَرْوَانَ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ لِقَاتِلٍ مِيرَاثٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”قاتل کو وراثت نہیں ملتی۔“
حدیث نمبر: 4573
نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نَا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ . ح وَنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، قَالا : نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَن ِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَيْسَ لِلْقَاتِلِ مِنَ الْمِيرَاثِ شَيْءٌ " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قاتل کو وراثت میں سے کچھ نہیں ملتا۔“
حدیث نمبر: 4574
نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الأَزْهَرِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، نَا أَبُو قُرَّةَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ لِقَاتِلٍ شَيْءٌ " ،.
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قاتل کو کچھ نہیں ملتا (یعنی وراثت میں سے کچھ نہیں ملتا)۔“ ایسی ہی روایت دیگر افراد سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 4575
وَعَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ.
محمد محی الدین
ایسی ہی روایت دیگر افراد سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 4576
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرِ بْنِ خَالِدٍ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، " أَنَّهُ اسْتَعْمَلَ مَوْلًى لَهُ يُدْعَى : هَانِئٌ عَلَى الْحِمَى ، فَقَالَ لَهُ : يَا هَانِئٌ ، اضْمُمْ جَنَاحَكَ عَنِ الْمُسْلِمِينَ ، وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهَا مُجَابَةٌ ، وَأَدْخِلْ رَبَّ الصُّرَيْمَةِ وَالْغَنِيمَةِ وَإِيَّايَ وَنَعَمَ ابْنِ عَفَّانَ ، وَابْنِ عَوْفٍ فَإِنَّهُمَا إِنْ تُهْلِكْ مَاشِيَتُهُمَا يَرْجِعَانِ إِلَى زَرْعٍ وَنَخْلٍ ، وَإِنَّ رَبَّ الصُّرَيْمَةِ وَالْغَنِيمَةِ إِنْ تُهْلِكْ مَاشِيَتُهُ يَأْتِينِي بِبَنِيهِ ، فَيَقُولُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَفَتَارِكُهُمَا أَنَا لا أَبَا لَكَ فَالْمَاءُ وَالْكَلأُ أَهْوَنُ عَلَيَّ مِنَ الدَّنَانِيرِ وَالدَّرَاهِمِ ، وَأَيْمُ اللَّهِ إِنَّهُمْ لَيَرَوْنَ أَنْ قَدْ ظَلَمْنَاهُمْ إِنَّهَا لَبِلادُهُمْ قَاتَلُوا عَلَيْهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، وَأَسْلَمُوا عَلَيْهَا فِي الإِسْلامِ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلا الْمَالُ الَّذِي أَحْمِلُ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا حَمَيْتُ عَلَى النَّاسِ مِنْ بِلادِهِمْ شِبْرًا " ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ ، عَنِ الدَّرَاوَرْدِيِّ.
محمد محی الدین
زید بن اسلم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام کو عامل مقرر کیا، اسے چراگاہ کا نگران بنایا، اس کا نام ہنی تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: اے ہنی! تم مسلمانوں کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرنا، مظلوم کی بددعا سے بچنا، کیونکہ وہ مستجاب ہوتی ہے۔ تم تھوڑی سی بھیڑ، بکریوں کے مالک کو چراگاہ میں داخل ہونے دینا، البتہ عثمان بن عفان اور عبدالرحمن بن عوف کے جانوروں کو اندر نہ آنے دینا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان دونوں کے جانور اگر مر بھی گئے تو یہ لوگ اپنے کھجوروں کے باغات کی طرف چلے جائیں گے، لیکن تھوڑی سی بکریوں کے مالکان کے جانور اگر مر گئے تو وہ اپنے بچوں کو لے کر میرے پاس آ جائیں گے اور کہیں گے: اے امیر المؤمنین! (ہماری مدد کیجئے!) کیا میں انہیں ترک کر دوں گا؟ ان لوگوں کو پانی اور پارہ فراہم کرنا میرے نزدیک دینار اور درہم فراہم کرنے سے زیادہ آسان کام ہے۔ اللہ کی قسم! یہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے ان کے ساتھ زیادتی کی ہے حالانکہ یہ ان ہی کا علاقہ ہے، جس کے بارے میں زمانہ جاہلیت میں وہ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ جنگ کیا کرتے تھے۔ اور اسی علاقے میں رہتے ہوئے انہوں نے اسلام قبول کیا ہے۔ اس ذات کی قسم! جس کی قدرت میں میری جان ہے! میں نے اگر اللہ کی راہ میں مجاہدین کو مال فراہم نہ کرنا ہو، تو میں ایک بالشت کے برابر جگہ لوگوں کے داخلے سے نہ روکتا (یعنی اسے سرکاری چراگاہ قرار نہ دیتا)۔
حدیث نمبر: 4577
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا حِمَى إِلا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چراگاہ صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی ہوتی ہے۔“
حدیث نمبر: 4578
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نَا أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، أَخْبَرَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ ، نَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : جَاءَ هِلالٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِعُشُورِ نَحْلٍ لَهُ ، وَسَأَلَهُ أَنْ يَحْمِيَ وَادِيًا يُقَالُ لَهُ : سَلَبَةُ ، " فَحَمَى لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ الْوَادِيَ ، فَلَمَّا وَلِيَ عُمَرُ كَتَبَ سُفْيَانُ بْنُ وَهْبٍ إِلَى عُمَرَ يَسْأَلُهُ فَكَتَبَ عُمَرُ : إِنْ أَدَّى إِلَيْكَ مَا كَانَ يُؤَدِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عُشْرِ نَحْلِهِ فَاحْمِ لَهُ سَلَبَةَ ذَلِكَ الْوَادِي ، وَإِلا فَهُوَ ذُبَابُ غَيْثٍ يَأْكُلُهُ مَنْ شَاءَ " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے، اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان کے ساتھ ان کی زمین کا عشر تھا۔ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ آپ اسے ایک وادی چراگاہ کے طور پر عطا کر دیں جس کا نام سلبہ تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جگہ اس کو چراگاہ کے طور پر دے دی۔ پھر جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو سفیان بن وہب نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ تمہیں وہی ادائیگی کریں گے جو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ادائیگی کرتا تھا، یعنی اس جگہ کی پیداوار کا دسواں حصہ۔ تو ٹھیک ہے وہ چراگاہ اس کے پاس رہنے دو، جس کا نام سلبہ ہے، اور اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو وہ اس طرح ہو گی جسے جو چاہے گا وہ کھا لے گا۔
حدیث نمبر: 4579
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا حِمَى إِلا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے، اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چراگاہ صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لیے ہوتی ہے۔“
حدیث نمبر: 4580
نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، نَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ جَالِسَةً عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلانِ يَخْتَصِمَانِ فِي مَوَارِيثَ فِي أَشْيَاءَ قَدْ دَرَسَتْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي إِنَّمَا أَقْضِي بَيْنَكُمَا بِرَأْيِي فِيمَا لَمْ يَنْزِلْ عَلَيَّ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ لِقَضِيَّةٍ أَرَاهَا فَقَطَعَ بِهَا قِطْعَةً ظُلْمًا فَإِنَّمَا يَقْطَعُ بِهَا قِطْعَةً مِنْ نَارٍ ، إِسْطَامًا يَأْتِي بِهَا فِي عُنُقِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، قَالَ : فَبَكَى الرَّجُلانِ وَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا : حَقِّي هَذَا الَّذِي أَطْلُبُ لِصَاحِبِي ، قَالَ : لا وَلَكِنِ اذْهَبَا فَتَوَخَّيَا ، ثُمَّ اسْتَهِمَا ، ثُمَّ لِيُحْلِلْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا صَاحِبَهُ " ، .
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھی ہوئی تھی، دو آدمی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان دونوں کے درمیان وراثت سے متعلق جھگڑا چل رہا تھا جو کچھ ایسی چیزوں کے بارے میں تھا جو پرانی ہو چکی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم لوگوں کے درمیان اپنی رائے سے فیصلہ دوں گا جس بارے میں مجھ پر وحی نازل نہیں ہوئی تو جس شخص کے حق میں، میں فیصلہ دے دوں اور ظلم کے طور پر اسے وہ چیز مل جائے تو اسے جہنم کا ٹکڑا ملے گا، جسے وہ قیامت کے دن اپنی گردن میں ڈال کر لے کر آئے گا۔“ راوی کہتے ہیں کہ وہ دونوں افراد رونے لگے۔ ان میں سے ایک نے کہا: حق جس کا میں مطالبہ کر رہا تھا، اصل میں وہ میرے ساتھی کا حق ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں! تم دونوں جاؤ اور اس کی جانچ پڑتال کر کے اس کے حصے کو لو پھر تم دونوں سے ہر ایک اپنے ساتھی کے لیے اسے حلال قرار دے۔“
حدیث نمبر: 4581
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، نَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، نَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ ، إِلا أَنَّهُ قَالَ : " فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحُجَّةٍ أُرَاهَا فَقَطَعَ بِهَا قِطْعَةً ظُلْمًا " ، وَالْبَاقِي نَحْوُهُ .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: آپ نے فرمایا: ”تم میں سے جسے میں اپنی رائے کے مطابق، ثبوت کی بنیاد پر فیصلہ دے دوں اور اسے ظلم کے طور پر وہ حصہ مل جائے۔“
حدیث نمبر: 4582
نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَأَبُو أُمَيَّةَ ، قَالا : نَا رَوْحٌ ، نَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : كُنْتُ جَالِسَةً عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنِي وَبَيْنَ النَّاسِ سِتْرٌ ، فَجَاءَ إِلَيْهِ قَوْمٌ فِي مَوَارِيثَ وَأَشْيَاءَ قَدْ دَرَسَتْ وَذَهَبَ مَنْ يَعْرِفُهَا ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ.
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھی ہوئی تھی، میرے اور لوگوں کے درمیان پردہ موجود تھا۔ کچھ لوگ وراثت اور دیگر چیزوں کے بارے میں مقدمہ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے جو ضائع ہو چکی تھی اور اسے پہچاننے والا باقی نہیں رہا تھا۔
حدیث نمبر: 4583
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِشْكَابَ ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْوَاسِطِيُّ ، قَالُوا : نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، نَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهَا ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ سَمِعَ صَوْتَ خُصُومٍ بِبَابِ حُجْرَتِهِ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ ، فَقَالَ : إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّهُ يَأْتِينِي الْخَصْمُ فَلَعَلَّ بَعْضَهُمْ أَنْ يَكُونَ أَبْلَغَ مِنْ بَعْضٍ فَأَحْسَبُ أَنَّهُ صَادِقٌ فَأَقْضِي لَهُ بِذَلِكَ ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ مُسْلِمٍ فَإِنَّمَا هِيَ قِطْعَةٌ مِنَ النَّارِ فَلْيَأْخُذْهَا أَوْ لِيَتْرُكْهَا " ، تَابَعَهُ مَعْمَرٌ ، وَيُونُسُ ، وَعَقِيلٌ ، وَشُعَيْبٌ، وَاللَّيْثُ ، الزُّهْرِيِّ.
محمد محی الدین
سیدہ زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدہ ام سلمہ نے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات بتائی ہے کہ آپ نے اپنے حجرے کے دروازے پر کچھ لوگوں کی جھگڑے کی آواز سنی، آپ ان کے پاس تشریف لے کر گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی ایک انسان ہوں، میرے پاس کوئی فریق مقدمہ لے کر آتا ہے، ہو سکتا ہے کہ وہ دوسرے فریق کے مقابلے میں زیادہ تیز گفتگو کرتا ہو، میں اسے سچ سمجھتے ہوئے اس کے حق میں فیصلہ دے دوں، تو میں جس شخص کے حق میں کسی مسلمان کے حق کا فیصلہ دوں گا تو یہ ایک جہنم کا ٹکڑا ہو گا، اس کی مرضی ہے کہ اسے حاصل کر لے یا اسے چھوڑ دے۔“
حدیث نمبر: 4584
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّهَا ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ ، وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَقْضِي عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِشَيْءٍ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ فَلا يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنْ نَارٍ " ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ : " فَلْيَأْخُذْهَا أَوْ لِيَتْرُكْهَا " ، وَفِي حَدِيثِ هِشَامٍ : " فَلا يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا " ، وَهِشَامٌ وَإِنْ كَانَ ثِقَةً ، فَإِنَّ الزُّهْرِيَّ أَحْفَظُ مِنْهُ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
محمد محی الدین
سیدہ زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اپنی والدہ کے حوالے سے یہ روایت نقل کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ میرے پاس مقدمہ لے کر آتے ہو، ہو سکتا ہے تم میں سے کوئی ایک شخص اپنی دلیل پیش کرنے میں دوسرے سے زیادہ تیز ہو، میں بھی ایک انسان ہوں، اس طرح کی صورت میں، میں جو فیصلہ کروں گا وہ اس کے مطابق ہو گا جو میں نے سنا ہے تو جس شخص کے حق میں، اس کے بھائی کے حق کا فیصلہ دے دوں، وہ اسے وصول نہ کرے کیونکہ میں نے اس کے لیے جہنم کا ٹکڑا کاٹ کر دیا ہو گا۔“ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”اب اس کی مرضی ہے کہ وہ اسے حاصل کر لے یا اسے ترک کر دے۔“
حدیث نمبر: 4585
نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَأَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ وَاللَّفْظُ لِعَبْدِ الْجَبَّارِ ، قَالُوا : نَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ذَاتَ يَوْمٍ مَسْرُورًا ، فَقَالَ : " أَلَمْ تَرِي يَا عَائِشَةُ أَنَّ مُجَزِّزًا الْمُدْلِجِيَّ دَخَلَ عَلَيَّ فَرَأَى أُسَامَةَ ، وَزَيْدًا وَعَلَيْهِمَا قَطِيفَةً قَدْ غَطَّيَا رُءُوسَهُمَا وَبَدَتْ أَقْدَامُهُمَا ، فَقَالَ : هَذِهِ الأَقْدَامُ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار میرے پاس تشریف لائے تو آپ بہت خوش تھے، آپ نے فرمایا: ”اے عائشہ! کیا تمہیں پتا ہے کہ مجزز مدلجی میرے پاس آیا، اس نے اسامہ اور زید کو دیکھا (وہ دونوں سوئے ہوئے تھے) ان دونوں کے اوپر چادر تھی جس نے ان کے حصے کو ڈھانپا ہوا تھا، لیکن ان کے پاؤں ظاہر تھے تو وہ بولا: یہ دونوں باپ بیٹا ہیں۔“
حدیث نمبر: 4586
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، نَا عَمِّي ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، وَاللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَسْرُورًا فَرِحًا ، فَقَالَ : أَلَمْ تَرِي أَنَّ مُجَزِّزًا الْمُدْلِجِيَّ ، وَنَظَرَ إِلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ مُضْطَجِعًا مَعَ أَبِيهِ ، فَقَالَ : هَذِهِ أَقْدَامٌ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ ، وَكَانَ مُجَزِّزٌ قَائِفًا " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس خود تشریف لائے، آپ نے فرمایا: ”کیا تمہیں پتا ہے کہ مجزز مدلجی کی نظر اسامہ بن زید پر پڑی جو اپنے والد کے ساتھ لیٹے ہوئے تھے تو اس نے کہا: یہ دونوں باپ بیٹا ہیں۔“ (راوی کہتے ہیں:) مجزز قیافہ شناس تھے۔
حدیث نمبر: 4587
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ قَائِفٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاهِدٌ ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ مُضْطَجِعَانِ ، فَقَالَ : هَذِهِ الأَقْدَامُ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ ، قَالَتْ : فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَعْجَبَهُ فَأَخْبَرَ بِهِ عَائِشَةَ " ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ : وَكَانَ زَيْدٌ أَحْمَرَ أَشْقَرَ أَبْيَضَ وَكَانَ أُسَامَةُ مثل اللَّيْلِ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ ایک قیافہ شناس آیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہاں موجود تھے، سیدنا اسامہ بن زید اور زید بن حارثہ دونوں لیٹے ہوئے تھے، وہ شخص بولا: یہ پاؤں باپ بیٹے کے ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور آپ کو یہ بات پسند آئی، آپ نے یہ بات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتائی۔ ابراہیم بن سعد نامی راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا زید رضی اللہ عنہ سرخ و سفید رنگ کے مالک تھے جبکہ سیدنا اسامہ کا رنگ رات کی طرح (سیاہ) تھا۔
حدیث نمبر: 4588
نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا يُوسُفُ ، نَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " دَخَلَ عَلَيْهَا مَسْرُورًا تَبْرُقُ أَسَارِيرُ وَجْهِهِ ، فَقَالَ : أَلَمْ تَسْمَعِي مَا قَالَ مُجَزِّزٌ الْمُدْلِجِيُّ لِزَيْدٍ وَأُسَامَةَ وَرَأَى أَقْدَامَهُمَا ؟ إِنَّ هَذِهِ الأَقْدَامُ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو آپ بہت خوش تھے اور خوشی کی وجہ سے آپ کا چہرہ مبارک چمک رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تم نے سنا ہے؟ مجزز مدلجی نے زید اور اسامہ کے بارے میں کیا کہا: اس نے ان کے صرف پاؤں دیکھے اور کہا: یہ پاؤں باپ بیٹے کے ہیں۔“
حدیث نمبر: 4589
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ خُشَيْشٍ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ الزُّبَيْرِ مَوْلَى الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : " كَانَ لِزَمْعَةَ جَارِيَةٌ يَطَؤهَا وَكَانَتْ تُظَنُّ بِرَجُلٍ آخَرَ أَنَّهُ يَقَعُ عَلَيْهَا ، فَمَاتَ زَمْعَةُ وَهِيَ حُبْلَى فَوَلَدَتْ غُلامًا يشبه الرَّجُلَ الَّذِي كَانَتْ تَظُنُّ بِهِ ، فَذَكَرَتْهُ سَوْدَةُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَمَّا الْمِيرَاثُ فَلَهُ ، وَأَمَّا أَنْتِ فَاحْتَجِبِي مِنْهُ فَلَيْسَ لَكِ بِأَخٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ زمعہ کی ایک کنیز تھی جس کے ساتھ وہ صحبت کیا کرتا تھا، اس کنیز کا یہ کہنا ہے کہ ایک اور شخص نے اس کے ساتھ صحبت کی، اسی دوران زمعہ انتقال کر گیا اور وہ کنیز حاملہ ہو گئی، اس نے ایک بچے کو جنم دیا، جو اس شخص کے ساتھ مشابہت رکھتا تھا جس کے بارے میں کنیز نے بات بیان کی تھی۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اس بات کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاں تک وراثت کا تعلق ہے، وہ اسے مل جائے گی لیکن جہاں تک تمہارا معاملہ ہے تو تم اس سے پردہ کرو کیونکہ وہ تمہارا بھائی نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 4590
قُرِئَ عَلَى أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، وَأَنَا أَسْمَعُ ، حَدَّثَكُمْ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَأَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، وَاللَّفْظُ لِعَبْدِ الْجَبَّارِ ، نَا سُفْيَانُ ، نَا الزُّهْرِيُّ ، وَسَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، يُخْبِرُ عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتِ : اخْتَصَمَ ، سَعْدٌ وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ ، عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ سَعْدٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " أَوْصَانِي أَخِي عُتْبَةُ ، فَقَالَ : إِذَا دَخَلْتَ مَكَّةَ فَانْظُرِ ابْنَ أَمَةِ زَمْعَةَ فَاقْبِضْهُ فَإِنَّهُ ابْنِي ، فَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَخِي ، ابْنُ أَمَةِ أَبِي ، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي ، فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ ، فَقَالَ : هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سعد اور عبد بن زمعہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ کر بحث کرنے لگے، سعد نے کہا: یا رسول اللہ! میرے بھائی عتبہ نے مجھے یہ وصیت کی تھی، اس نے کہا تھا کہ جب تم مکہ میں جاؤ گے تو زمعہ کی کنیز کے بیٹے کو دیکھنا اور اسے گود میں لے لینا کیونکہ وہ میرا بیٹا ہے۔ عبد بن زمعہ نے کہا: یا رسول اللہ! وہ میرے باپ کی کنیز کا بیٹا اور میرا بھائی ہے، جو میرے والد کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کی عتبہ کے ساتھ واضح مشابہت ملاحظہ کی تو آپ نے فرمایا: ”اے عبد بن زمعہ! یہ تمہیں ملے گا کیونکہ بچہ بستر والے کا ہوتا ہے۔“ اے سودہ! تم اس لڑکے سے پردہ کرو۔
حدیث نمبر: 4591
نَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السُّكَيْنِ ، نَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسْتَامِ ، نَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتِ : اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ ، وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فِي ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ ، فَقَالَ سَعْدٌ : هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنُ أَخِي عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، وَعَهِدَ إِلَيَّ أَنَّهُ ابْنُهُ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى شَبَهِهِ ، فَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ : هَذَا أَخِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي مِنْ وَلِيدَتِهِ ، قَالَ : فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِلَى شَبَهِهِ فَرَأَى شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ ، فَقَالَ : هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ ، فَلَمْ يَرَ سَوْدَةَ قَطُّ " ،.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ، زمعہ کی کنیز کے بیٹے کے بارے میں مقدمہ لے کر آئے۔ سعد نے کہا: یا رسول اللہ! یہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا بیٹا ہے، میرے بھائی نے اس کے بارے میں مجھ سے عہد لیا تھا کہ یہ اس کا بیٹا ہے، آپ اس کو قتبیہ کے ساتھ مشابہت کر لیں۔ عبد بن زمعہ نے کہا: یہ میرا بھائی ہے جو میرے والد کے فرش پر اس کی کنیز کے ہاں پیدا ہوا ہے۔ راوی کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قتبیہ کے ساتھ مشابہت کر لی کہ وہ واضح طور پر قتبیہ کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”بچہ تمہیں ملے گا کیونکہ بچہ بستر والے کو ملتا ہے اور زنا کرنے والے کو محرومی ملتی ہے۔“ اے سودہ! تم اس لڑکے سے پردہ کرنا۔ راوی کہتے ہیں: اس کے بعد سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کو اس بچے نے کبھی نہیں دیکھا۔
حدیث نمبر: 4592
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَبُو الأَزْهَرِ ، نَا رَوْحٌ ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔
حدیث نمبر: 4593
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا أَخْبَرَهُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : كَانَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَهِدَ إِلَى أَخِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، أَنَّ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ مِنِّي فَاقْبِضْهُ إِلَيْكَ ، قَالَتْ : فَلَمَّا كَانَ عَامُ الْفَتْحِ أَخَذَهُ سَعْدٌ ، فَقَالَ : ابْنُ أَخِي ، وَقَدْ كَانَ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ ، فَقَامَ إِلَيْهِ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ ، فَقَالَ : أَخِي ، وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي ، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ ، فَتَسَاوَقَاهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ سَعْدٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " ابْنُ أَخِي ، قَدْ كَانَ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ ، وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ : أَخِي ، وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ : احْتَجِبِي مِنْهُ لَمَّا رَأَى مِنْ شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ ، قَالَتْ : فَمَا رَآهَا حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ " ، .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ قتبیہ بن ابی وقاص نے اپنے بھائی زید بن ابی وقاص سے عہد لیا کہ زمعہ کی کنیز کا بیٹا مجھ سے ہے، تم اسے اپنے قبضے میں لے لینا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: فتح مکہ کے موقع پر سیدنا سعد نے اسے حاصل کر لیا اور بولے: یہ میرا بھتیجا ہے جس کے بارے میں میرے بھائی نے مجھ سے عہد لیا تھا۔ اور عبد بن زمعہ ان کے سامنے کھڑے ہوئے اور بولے: یہ میرا بھائی ہے، یہ میرے والد کی کنیز کا بیٹا ہے جو میرے والد کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ یہ دونوں اپنا مقدمہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ سیدنا سعد نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ میرا بھتیجا ہے جس کے بارے میں میرے بھائی نے مجھ سے عہد لیا تھا۔ عبد بن زمعہ نے کہا: یہ میرا بھائی ہے، میرے والد کی کنیز کا بیٹا ہے، جو میرے والد کے فراش پر پیدا ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عبد بن زمعہ! یہ تمہیں ملے گا۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچہ اس کا سمجھا جائے گا جس کا فراش ہو اور زنا کرنے والے کو محرومی ملے گی۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”تم اس سے پردہ کر لو۔“ اس کی وجہ یہ تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی عتبہ کے ساتھ مشابہت ملاحظہ کر لی تھی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اس لڑکے نے مرتے دم تک کبھی سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کو نہیں دیکھا۔
حدیث نمبر: 4594
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، نَا عَمِّي ، نَا يُونُسُ . ح وَنا أَبُو بَكْرٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُزَيْزٍ ، نَا سَلامَةُ ، عَنْ عَقِيلٍ . ح وَنا أَبُو بَكْرٍ ، نَا أَبُو الأَزْهَرِ ، نَا يَعْقُوبُ ، نَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، وَابْنِ إِسْحَاقَ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ . ح وَنا أَبُو بَكْرٍ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ ، وَعَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ ، قَالا : نَا أَبُو الْيَمَانِ ، نَا شُعَيْبٌ . ح وَنا أَبُو بَكْرٍ ، نَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا حَجَّاجٌ ، نَا لَيْث ٌ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِيُّ ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، وَقَالَ لَيْثٌ ، نَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ.
محمد محی الدین
یہ روایت دیگر اسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 4595
نَا نَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى ، نَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : كَانَ بَيْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، وَبَيْنَ مُعَاذِ بْنِ عَفْرَاءَ ، دَعْوَى فِي شَيْءٍ فَحَكَّمَا أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، فَقَصَّ عَلَيْهِ عُمَرُ ، فَقَالَ أُبَيٌّ : " اعْفُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، فَقَالَ : لا تَعِفْنِي مِنْهَا إِنْ كَانَتْ عَلَيَّ ، قَالَ : قَالَ أُبَيٌّ : فَإِنَّهَا عَلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَ : فَحَلَفَ عُمَرُ ، ثُمَّ أَتُرَانِي قَدْ أَسْتَحِقُّهَا بِيَمِينِي ، اذْهَبِ الآنَ فَهِيَ لَكَ " .
محمد محی الدین
محمد نامی راوی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب اور سیدنا معاذ بن عفراء کے بارے میں کسی چیز کے درمیان اختلاف ہو گیا، ان دونوں حضرات نے سیدنا ابی بن کعب کو ثالث مقرر کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں پورا واقعہ سنایا، سیدنا ابی بولے: تم امیر المؤمنین کو معاف کر دو، انہوں نے کہا: اگر یہ ادائیگی مجھ پر لازم ہے، تو آپ مجھے ہرگز معاف نہ کریں۔ تو سیدنا ابی بن کعب بولے: اے امیر المؤمنین! یہ ادائیگی آپ پر لازم ہے۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے قسم اٹھائی اور بولے: میرے قسم اٹھانے کی وجہ سے میں اس سے بری الذمہ ہو گیا ہوں، تم یہ چیز لے جاؤ یہ تمہاری ہوئی۔
حدیث نمبر: 4596
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْوَرَّاقُ ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْبَغَوِيُّ ، قَالا : نَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، نَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّوَاسِيُّ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ ثُمَامَةَ ، قَالَ : زَعَمُوا أَنَّ حُذَيْفَةَ عَرَفَ جَمَلا لَهُ سُرِقَ فَخَاصَمَ فِيهِ إِلَى قَاضِي الْمُسْلِمِينَ ، فَصَارَتْ عَلَى حُذَيْفَةَ يَمِينٌ فِي الْقَضَاءِ ، فَأَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَ يَمِينَهُ ، فَقَالَ : " لَكَ عَشَرَةُ دَرَاهِمَ ، فَأَبَى ، فَقَالَ : لَكَ عِشْرُونَ ، فَأَبَى ، قَالَ : فَلَكَ ثَلاثُونَ ، فَأَبَى ، فَقَالَ : لَكَ أَرْبَعُونَ ، فَأَبَى ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ : اتْرُكْ جَمَلِي ، فَحَلَفَ أَنَّهُ جَمَلُهُ مَا بَاعَهُ ، وَلا وَهَبَهُ " .
محمد محی الدین
حسان بن ثمامہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اپنا اونٹ پہچان لیا جو چوری ہو گیا تھا۔ وہ اس بارے میں مقدمہ لے کر مسلمانوں کے قاضی کے پاس پہنچے تو عدالتی فیصلے کے تحت سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو قسم اٹھانی تھی، تو انہوں نے اپنی قسم کا معاوضہ دینے کا اعلان کیا: میں تمہیں دس درہم دیتا ہوں، اس نے انکار کیا، انہوں نے کہا: میں تمہیں بیس درہم دیتا ہوں، اس نے انکار کیا، انہوں نے کہا: میں تمہیں تیس درہم دیتا ہوں، اس نے انکار کیا، انہوں نے کہا: میں تمہیں چالیس درہم دیتا ہوں، اس نے انکار کیا تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بولے: تم میرے اونٹ کو چھوڑ دو، پھر انہوں نے قسم اٹھائی کہ یہ ان کا اونٹ ہے، جسے انہوں نے نہ تو فروخت کیا ہے اور نہ ہی کسی کو ہبہ کیا ہے۔
حدیث نمبر: 4597
نَا نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْوَكِيلُ ، نَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الأَسْوَدِ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ فَدَى يَمِينَهُ بِعَشَرَةِ آلافِ دِرْهَمٍ ، ثُمَّ قَالَ : " وَرَبِّ هَذَا الْمَسْجِدِ وَرَبِّ هَذَا الْقَبْرِ ، لَوْ حَلَفْتُ لَحَلَفْتُ صَادِقًا ، وَذَلِكَ أَنَّهُ شَيْءٌ افْتَدَيْتُ بِهِ يَمِينِي " .
محمد محی الدین
محمد بن جبیر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی قسم کے عوض میں دس ہزار درہم ادا کیے تھے، اور پھر انہوں نے کہا: اس مسجد کے پروردگار کی قسم! اور اس قبر کے پروردگار کی قسم! اگر میں قسم اٹھا لیتا تو میں قسم اٹھانے میں سچا ہوتا، لیکن یہ ایسی چیز ہے کہ میں نے اپنی قسم کے بدلے میں فدیہ دے دیا ہے۔
حدیث نمبر: 4598
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا بِشْرُ بْنُ مُبَشِّرٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، قَالا : نَا هُشَيْمٌ ، نَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَسْتَاسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، " أَنَّهُ قَضَى فِي كَلْبِ الصَّيْدِ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا ، وَفِي كَلْبِ الْغَنَمِ شَاةٌ ، وَفِي كَلْبِ الزَّرْعِ فِرْقٌ مِنْ طَعَامٍ ، وَفِي كَلْبِ الدَّارِ فِرْقٌ مِنْ تُرَابٍ ، حَقٌّ عَلَى الَّذِي قَتَلَهُ أَنْ يُعْطِيَ ، وَحَقٌّ عَلَى صَاحِبِ الْكَلْبِ أَنْ يَأْخُذَ مَعَ مَا نَقَصَ مِنَ الأَجْرِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے شکار کرنے والے کتے کے بارے میں چالیس درہم دینے کا فیصلہ دیا ہے۔ بکریوں کے رکھوالے کتے کے بارے میں ایک بکری کی ادائیگی، کھیت کے رکھوالے کتے کے بارے میں، اناج کے فرق (بڑے برتن) کا حکم دیا ہے، جبکہ گھر کی حفاظت والے کتے میں مٹی کے ایک بڑے برتن کا حکم دیا ہے۔ یہ اس شخص پر لازم ہو گا جو ایک کتے کو مار دیتا ہے، وہ اسے یہ ادا کرے گا۔ تاہم کتے کے مالک کے لیے یہ بات لازم ہے کہ وہ اس بدلے کو وصول کرتے ہوئے اس میں کوئی کمی کر دے۔
حدیث نمبر: 4599
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ قَرِينٍ الْعُثْمَانِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ فَضَالَةَ ، نَا كَثِيرُ بْنُ أَبِي صَابِرٍ ، نَا عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِنْ بَنَى فِي رِبَاعِ قَوْمٍ بِإِذْنِهِمْ فَلَهُ الْقِيمَةُ ، وَمَنْ بَنَى بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَلَهُ النَّقْضُ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی دوسرے شخص کی جگہ پر عمارت بنا لیتا ہے، اور اس کی اجازت کے ساتھ بناتا ہے، تو اب قیمت کی ادائیگی اس پر لازم ہو گی اور جو شخص اس مالک کی اجازت کے بغیر وہاں عمارت بنا لیتا ہے، تو اب اس عمارت کو توڑ دیا جائے گا۔“