حدیث نمبر: 4525
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْمَرْوَزِيُّ ، نَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الشَّرِيكُ شَفِيعٌ ، وَالشُّفْعَةُ فِي كُلِّ شَيْءٍ " ، خَالَفَهُ شُعْبَةُ ، وَإِسْرَائِيلُ ، وَعَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ فَرَوَوْهُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، مُرْسَلا وَهُوَ الصَّوَابُ ، وَوَهِمَ أَبُو حَمْزَةَ فِي إِسْنَادِهِ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شراکت دار کو شفع کرنے کا حق ہوتا ہے اور ہر چیز میں شفع کیا جاتا ہے۔“
حدیث نمبر: 4526
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدَانَ ، نَا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ ، نَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پڑوسی اپنے قریبی جگہ میں شفع کرنے کا زیادہ حق دار ہوتا ہے۔“
حدیث نمبر: 4527
نَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، أَنَّ سَعْدًا سَاوَمَ أَبَا رَافِعٍ ، أَوْ أَبُو رَافِعٍ سَاوَمَ سَعْدًا ، فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ : " لَوْلا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ ، مَا أَعْطَيْتُكَ .
محمد محی الدین
عمرو بن شرید بیان کرتے ہیں کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کے ساتھ یا شاید سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے ساتھ کوئی سودا کیا تو سیدنا ابورافع نے کہا: کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا: ”پڑوسی اپنے پڑوس میں شفع کا زیادہ حق دار ہوتا ہے۔“ اگر میں نے یہ نہ سنا ہوتا تو میں تمہیں یہ جگہ نہ دیتا۔
حدیث نمبر: 4528
نَا الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الأَوْدِيُّ ، نَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، نَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، قَالَ : أَقْبَلْتُ أَنَا وَأَبُو رَافِعٍ حَتَّى أَتَى سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، فَقَالَ : " اشْتَرِ نَصِيبِي فِي دَارِكَ ، فَقَالَ سَعْدٌ : لا أُرِيدُهُ ، فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ : اشْتَرِ مِنْهُ ، فَقَالَ : آخُذُهُ بِأَرْبَعِمِائَةٍ مُعَجَّلَةٍ أَوْ مُؤَخَّرَةٍ ، فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ : قَدْ أُعْطِيتُ خَمْسَةَ آلافٍ مُعَجَّلَةً ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ : مَا أَنَا بِزَائِدِكَ ، فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ : لَوْلا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ أَوْ نَصِيبِهِ ، مَا بِعْتُكَ بِأَرْبَعِمِائَةٍ وَتَرَكْتُ خَمْسَةَ آلافٍ " .
محمد محی الدین
عمرو بن شرید بیان کرتے ہیں: میں اور سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ، سیدنا سعد کے پاس آئے تو سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ نے کہا: اپنے گھر میں موجود میرے حصے کو آپ خرید لیں۔ سیدنا سعد نے کہا: میں اسے خریدنا نہیں چاہتا۔ پھر کسی شخص نے مشورہ دیا کہ آپ ان سے یہ خرید لیں۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بولے: میں اسے چار سو درہم کے عوض میں خریدوں گا، خواہ جلدی ادائیگی کر دوں یا تاخیر سے کروں۔ تو سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ نے کہا: کہ میں اسے پانچ ہزار درہم کے عوض میں دوں گا جو فوراً ادا کرنے ہوں گے۔ تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کہ میں آپ کو مزید ادائیگی نہیں کر سکتا۔ سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا نہ سنا ہوتا: ”پڑوسی اپنے پڑوس میں موجود جگہ کو خریدنے کا زیادہ حق رکھتا ہے۔“ تو میں پانچ ہزار درہم چھوڑ کر چار سو درہم میں فروخت نہ کرتا۔
حدیث نمبر: 4529
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، نَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا الْمُثَنَّى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الشَّرِيكُ أَحَقُّ بِشُفْعَتِهِ حَتَّى يَأْخُذَ أَوْ يَتْرُكَ " .
محمد محی الدین
شرید بن سوید بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شراکت دار شخص شفع کرنے کا زیادہ حق رکھتا ہے، یہاں تک کہ وہ اسے حاصل کر لے یا اسے چھوڑ دے۔“
حدیث نمبر: 4530
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ حُصَيْنِ الْجُبَيْلِيُّ ، نَا عَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ " بَاعَ مِنْ رَجُلٍ نَصِيبًا لَهُ مِنْ دَارٍ لَهُ فِيهَا شَرِيكٌ ، فَقَالَ شَرِيكُهُ : أَنَا أَحَقُّ بِالْبَيْعِ مِنْ غَيْرِي ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ " .
محمد محی الدین
عمرو بن شرید اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے گھر کا ایک اور حصہ فروخت کر دیا، ان کے ساتھ ایک اور شراکت دار شریک تھا تو اس شراکت دار نے ان سے کہا: کسی دوسرے کے مقابلے میں، میں اسے خریدنے کا زیادہ حق رکھتا ہوں۔ جب یہ معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پڑوسی اپنے قریب موجود جگہ (کو خریدنے) کا زیادہ حق رکھتا ہے۔“
حدیث نمبر: 4531
نَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ سُلَيْمَانَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ ، قِيلَ : مَا السَّقَبُ ؟ ، قَالَ : الْجِوَارُ " .
محمد محی الدین
عمرو بن شرید اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پڑوسی اپنے سقب کا زیادہ حق رکھتا ہے۔“ ان سے دریافت کیا کہ سقب سے مراد کیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: پڑوس (میں موجود جگہ)۔
حدیث نمبر: 4532
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، وَآخَرُونَ ، قَالُوا : نَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الشُّفْعَةِ فِي كُلِّ شِرْكٍ لَمْ يُقْسَمْ : رَبْعَةٌ ، أَوْ حَائِطٌ لا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَبِيعَهُ حَتَّى يَسْتَأْذِنَ شَرِيكَهُ " ، وَقَالَ ابْنُ مَخْلَدٍ : حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ ، فَإِنْ شَاءَ أَخَذَ ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ ، فَإِنْ بَاعَهُ ، وَلَمْ يُؤْذِنْهُ ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ " ، لَمْ يَقُلْ : يُقْسَمُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ إِلا ابْنُ إِدْرِيسَ ، وَهُوَ مِنَ الثِّقَاتِ الْحُفَّاظِ.
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا کہ ”ہر ایسی چیز میں شفع کیا جا سکتا ہے جو دو لوگوں کی مشترکہ ملکیت ہو، اور اسے تقسیم نہ کیا جا سکتا ہو، جیسے کہ کوئی زمین ہو یا کوئی باغ ہو۔ آدمی کے لیے اس کو فروخت کرنا اس وقت تک جائز نہیں ہو گا جب وہ اپنے شراکت دار سے اس کی اجازت نہیں لیتا۔“ ایک روایت میں یہ بات ہے کہ جب تک اس کا شراکت دار اس سے اجازت نہیں دیتا، اگر وہ شراکت دار چاہے، تو اسے لے اگر چاہے، تو اسے ترک کر دے۔ اگر کوئی شخص ایسی جگہ کو فروخت کر دیتا ہے اور اپنے شراکت دار کو اطلاع نہیں دیتا تو شراکت دار اس جگہ کا زیادہ حق دار ہو گا۔ اس روایت میں ”تقسیم کیا جا سکے“ کے الفاظ صرف عبداللہ بن ادریس نامی راوی نے نقل کیے ہیں اور یہ صاحب ثقہ اور حافظ ہیں۔
حدیث نمبر: 4533
نَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السُّكَيْنِ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ رُزَيْقٍ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، نَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ الطَّائِفِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، أَنَّ أَبَا رَافِعٍ سَامَهُ سَعْدٌ بِبَيْتٍ لَهُ ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ : مَا أَنَا بِزَائِدِكَ عَلَى أَرْبَعِمِائَةِ مِثْقَالٍ فَقَالَ لَهُ أَبُو رَافِعٍ : لَوْلا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الْجَارُ أَحَقُّ بِصَقَبِهِ ، وَالصَّقْبُ الْقُرْبُ ، مَا أَعْطَيْتُكَ " .
محمد محی الدین
عمرو بن شرید بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کے ساتھ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کے گھر کا سودا کیا۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میں آپ کو چار سو درہم سے زیادہ ادائیگی نہیں کروں گا۔ سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اگر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ ”پڑوسی اپنے پڑوس کا زیادہ حق دار ہوتا ہے“ (تو میں آپ کو یہ فروخت نہ کرتا)۔ سقب کا مطلب کسی جگہ کا قریب ہونا ہے۔
حدیث نمبر: 4534
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَوْصِلِيُّ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ ، وَغَيْرُهُمَا ، قَالُوا : نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ہمارے اس دین میں کوئی نئی چیز پیدا کرے گا، جس کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہو تو وہ چیز مردود ہو گی۔“
حدیث نمبر: 4535
نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْحَرَّانِيُّ ، نَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْفَارِقِيُّ ، نَا سَهْلُ بْنُ صُقَيْرٍ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَنَعَ فِي مَالِهِ مَا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ مَرْدُودٌ " ، قَوْلُهُ : عَنِ الزُّهْرِيِّ خَطَأٌ قَبِيحٌ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے مال کے بارے میں ایسا کام کرے جس کی اجازت اللہ کی کتاب میں نہ ہو، تو وہ کام مردود ہو گا۔“
حدیث نمبر: 4536
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ فَعَلَ أَمْرًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ مَرْدُودٌ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کوئی ایسا کام کرتا ہے جس کے بارے میں ہمارا حکم نہ ہو، تو وہ کام مردود ہو گا۔“
حدیث نمبر: 4537
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ . ح وَنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالا : نَا أَبُو عَامِرٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ هُوَ الْمُخَرِّمِيُّ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ عَمِلَ عَمَلا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کوئی ایسا کام کرتا ہے، جس کے بارے میں ہمارا حکم نہ ہو، تو وہ مردود ہو گا۔“
حدیث نمبر: 4538
نَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي الرِّجَالِ ، نَا أَبُو أُمَيَّةَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثنا زُفَرُ بْنُ عَقِيلٍ الْفِهْرِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، تَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ أَمْرٍ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر وہ کام جس کے بارے میں ہمارا حکم نہ ہو، تو وہ مردود ہو گا۔“
حدیث نمبر: 4539
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ ، نَا الْوَاقِدِيُّ ، نَا خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا ضَرَرَ وَلا ضِرَارَ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”نہ کوئی نقصان اٹھایا جائے گا نہ کسی کو نقصان پہنچایا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 4540
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لِلْجَارِ أَنْ يَضَعَ خَشَبَتَهُ عَلَى جِدَارِ جَارِهِ وَإِنْ كَرِهَ ، وَالطَّرِيقُ الْمِيتَاءُ سَبْعُ أَذْرُعٍ ، وَلا ضَرَرَ وَلا إِضْرَارَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پڑوسی کو اس بات کا حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنے پڑوسی کی دیوار پر اپنا شہتیر لگا دے، اگرچہ دوسرے پڑوسی کو یہ بات ناپسند ہو، اور لوگوں کے گزرنے کا راستہ سات ذراع ہوتا ہے، نہ خود نقصان اٹھایا جائے گا نہ کسی کو نقصان پہنچایا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 4541
نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا ضَرَرَ وَلا إِضْرَارَ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ خود نقصان اٹھایا جائے گا نہ کسی کو نقصان پہنچایا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 4542
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، قَالَ : عَنِ ابْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا ضَرَرَ وَلا ضَرَرَةَ ، وَلا يَمْنَعَنَّ أَحَدُكُمْ جَارَهُ أَنْ يَضَعَ خَشَبَهُ عَلَى حَائِطِهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ خود نقصان اٹھایا جائے گا نہ کسی کو نقصان پہنچایا جائے گا اور کوئی بھی شخص اپنے پڑوسی کو اس بات سے منع نہ کرے کہ وہ پڑوسی اپنا شہتیر اس شخص کی دیوار پر گاڑ دے۔“
حدیث نمبر: 4543
نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : " إِذَا ادَّعَى الرَّجُلُ الْفَاجِرُ عَلَى الرَّجُلِ الصَّالِحِ الشَّيْءَ الَّذِي يَرَى النَّاسُ أَنَّهُ كَاذِبٌ ، وَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بَيْنَهُمَا مُعَامَلَةٌ لَمْ يُسْتَحْلَفْ لَهُ ".
محمد محی الدین
قاسم بن محمد بیان کرتے ہیں کہ جب کوئی گناہ گار شخص کسی نیک شخص کے خلاف دعویٰ کرے، جس کے بارے میں لوگ یہ سمجھ رہے ہوں کہ وہ شخص جھوٹ بول رہا ہے، ان دونوں کے درمیان کوئی معاملہ بھی نہ ہو، تو اس نیک آدمی سے قسم نہیں لی جائے گی۔
حدیث نمبر: 4544
نَا ابْنُ مَنِيعٍ ، نَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، نَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، نَا دَهْثَمُ بْنُ قُرَّانٍ ، نَا عَقِيلُ بْنُ دِينَارٍ مَوْلَى حَارِثَةَ بْنِ ظُفُرٍ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ ظُفُرٍ ، " أَنَّ دَارًا كَانَتْ بَيْنَ أَخَوَيْنِ فَحَظَرَا فِي وَسَطَهَا حِظَارًا ، ثُمَّ هَلَكَا وَتَرَكَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَقِبًا ، فَادَّعَى كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَنَّ الْحِظَارَ لَهُ مِنْ دُونِ صَاحِبِهِ ، فَاخْتَصَمَ عَقَبَاهُمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَرْسَلَ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ فَقَضَى بَيْنَهُمَا فَقَضَى بِالْحِظَارِ لِمَنْ وَجَدَ مَعَاقِدَ الْقِمْطِ تَلِيهِ ، ثُمَّ رَجَعَ فَأَخْبَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَصَبْتَ ، قَالَ دَهْثَمٌ ، أَوْ قَالَ : أَحْسَنْتَ " ، خَالَفَهُ فِي الإِسْنَادِ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ.
محمد محی الدین
حارثہ بن ظفر بیان کرتے ہیں کہ ایک گھر دو بھائیوں کی مشترکہ ملکیت تھا، ان دونوں نے درمیان میں ایک باڑ قائم کر دی، پھر ان دونوں کا انتقال ہو گیا، ان دونوں نے پسماندگان میں اولاد چھوڑی، ان دونوں میں سے ہر ایک کے بچوں نے یہ دعویٰ کیا کہ زمین کی وہ باڑ ہمارے حصے میں ہے، دوسرے کے حصے میں نہیں۔ جب لوگوں نے یہ مقدمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کو ان کا فیصلہ کرنے کو بھیجا۔ انہوں نے اس دیوار کا حساب لگایا کہ وہ کس کی زمین کے ساتھ ملتی ہے اور متعلقہ شخص کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ وہ واپس آئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ٹھیک فیصلہ دیا ہے۔“
حدیث نمبر: 4545
نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الثَّلْجِ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، نَا دَهْثَمُ بْنُ قُرَّانٍ ، عَنْ نِمْرَانَ بْنِ حَارِثَةَ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ قَوْمًا اخْتَصَمُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خُصٍّ كَانَ بَيْنَهُمْ ، فَبَعَثَ حُذَيْفَةَ يَقْضِي بَيْنَهُمْ ، فَقَضَى لِلَّذِينَ يَلِيهِمُ الْقِمْطُ ، فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ ، فَقَالَ : " أَصَبْتَ " ، أَوْ " أَحْسَنْتَ " . لَمْ يَرْوِهِ غَيْرُ دَهْثَمِ بْنِ قُرَّانٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدِ اخْتُلِفَ فِي إِسْنَادِهِ.
محمد محی الدین
نمران حارثہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نے یہ بات بیان کی ہے کہ کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک گھر کا مقدمہ لے کر آئے، جو ان کے درمیان مشترک تھا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس کے حق میں فیصلہ کر دیا جس کے حصے میں اس کی رسیاں بندھی ہوئی تھیں۔ جب وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور واقعہ سنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ٹھیک فیصلہ دیا ہے۔“ راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں (کہ تم نے اچھا فیصلہ دیا ہے)۔
حدیث نمبر: 4546
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَفْلَسَ الرَّجُلُ فَوَجَدَ الْبَائِعُ سِلْعَتَهُ بِعَيْنِهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا مِنَ الْغُرَمَاءِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی مفلس ہو جائے اور فروخت کرنے والا شخص اپنے سامان کو اس کے پاس پائے، تو وہ فروخت کرنے والا شخص اس چیز کا دیگر قرض خواہوں سے زیادہ حق دار ہو گا۔“
حدیث نمبر: 4547
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْغَزِّيُّ ، نَا الْفِرْيَابِيُّ ، نَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مِنْ بَاعَ سِلْعَةً فَأَفْلَسَ صَاحِبُهَا فَوَجَدَهَا بِعَيْنِهَا ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کوئی سامان فروخت کرتا ہے، اور اسے خریدنے والا شخص مفلس ہو جاتا ہے اور وہ شخص اپنے سامان کو بعینہ اس کے پاس پاتا ہے، تو وہ (فروخت کنندہ) اس سامان کا زیادہ حق دار ہو گا۔“
حدیث نمبر: 4548
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الشَّافِعِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَسَدِيُّ ، نَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، نَا الْيَمَانُ بْنُ عَدِيٍّ ، نَا الزُّبَيْدِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا رَجُلٍ أَفْلَسَ ، وَعِنْدَهُ مَالُ امْرِئٍ بِعَيْنِهِ لَمْ يَقْتَضِ مِنْهُ شَيْئًا ، فَهُوَ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ ، وَأَيُّمَا امْرِئٍ مَاتَ ، وَعِنْدَهُ مَالُ امْرِئٍ بِعَيْنِهِ اقْتَضَى مِنْهُ ، أَوْ لَمْ يَقْتَضِ ، فَهُوَ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ " ، خَالَفَهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ . وَالْيَمَانُ بْنُ عَدِيٍّ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، ضَعِيفَانِ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مفلس قرار پائے اور اس کے پاس کسی شخص کا مال موجود ہو، اس شخص نے اس مال کی کوئی قیمت وصول نہ کی ہو، تو وہ دوسرے قرض خواہوں کے ساتھ وصولی کرے گا اور جو شخص فوت ہو جائے اور اس کے پاس دوسرے شخص کا مال موجود ہو، تو خواہ اس نے اس کی قیمت میں کچھ وصول کی ہو یا نہ کی ہو، وہ اس بارے میں دوسرے قرض خواہوں کی مانند شمار ہو گا۔“
حدیث نمبر: 4549
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ ثَابِتٍ ، نَا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ، نَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ . ح وَنا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْخَبَائِرِيُّ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَيُّمَا رَجُلٍ بَاعَ سِلْعَةً فَأَدْرَكَ سِلْعَتَهُ بِعَيْنِهَا عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ أَفْلَسَ ، وَلَمْ يَقْتَضِ مِنْ ثَمَنِهَا شَيْئًا فَهِيَ لَهُ ، وَإِنْ كَانَ قَضَى مِنْ ثَمَنِهَا شَيْئًا فَمَا بَقِيَ فَهُوَ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ " ، وَاللَّفْظُ لِدَعْلَجٍ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اگر کوئی سامان فروخت کرنے والا اپنے سامان کو ایسے شخص کے پاس پاتا ہے جو مفلس قرار دیا جا چکا ہے، اور اس پہلے شخص نے اس دوسرے شخص سے قیمت میں سے کوئی چیز وصول نہ کی ہو، وہ سامان (اس فروخت کرنے) والے کو مل جائے گا۔ لیکن اگر اس دوسرے شخص نے اس سامان کی کچھ قیمت ادا کر دی ہو، تو جو رقم باقی رہ گئی تھی تو فروخت کرنے والا شخص اس بارے میں دیگر قرض خواہوں کی مانند شمار ہو گا۔“
حدیث نمبر: 4550
نَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا جَعْفَرٌ الْفِرْيَابِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ وَزَادَ فِيهِ : وَأَيُّمَا امْرِئٍ هَلَكَ ، وَعِنْدَهُ مَالُ امْرِئٍ بِعَيْنِهِ اقْتَضَى مِنْهُ شَيْئًا ، أَوْ لَمْ يَقْتَضِ فَهُوَ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: حسب سابق حدیث ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ”جو شخص انتقال کر جاتا ہے اور اس کے پاس دوسرے شخص کا مال موجود ہو، خواہ اس نے اس مال کی کچھ قیمت وصول کی ہو یا نہیں کی ہو، وہ اس بارے میں دوسرے قرض خواہوں کی مانند شمار ہو گا۔“
حدیث نمبر: 4551
نَا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْمَرْوَزِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جُبَيْرٍ الْمَرْوَزِيُّ ، نَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْفُرَاتِ الْخُزَاعِيُّ ، نَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ قَاضِي الْيَمَنِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَرَ عَلَى مُعَاذٍ مَالَهُ ، وَبَاعَهُ فِي دَيْنٍ كَانَ عَلَيْهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو اپنے مال میں تصرف کرنے سے روک دیا تھا، قرض کی ادائیگی کی وجہ سے جو ان کے ذمے لازم تھا، اور اس مال کو فروخت کروا دیا تھا۔
حدیث نمبر: 4552
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ الصَّوَّافُ ، نَا حَامِدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، نَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ هُوَ أَبُو يُوسُفَ الْقَاضِي ، نَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ ، أَتَى الزُّبَيْرَ فَقَالَ : " إِنِّي اشْتَرَيْتُ بَيْعَ كَذَا وَكَذَا ، وَإِنَّ عَلِيًّا يُرِيدُ أَنْ يَأْتِيَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَيَسْأَلَهُ أَنْ يَحْجُرَ عَلَيَّ فِيهِ ، فَقَالَ الزُّبَيْرُ : فَأَنَا شَرِيكُكَ فِي الْبَيْعِ ، فَأَتَى عَلِيُّ عُثْمَانَ ، فَقَالَ : إِنَّ ابْنَ جَعْفَرٍ اشْتَرَى بَيْعَ كَذَا وَكَذَا ، فَاحْجُرْ عَلَيْهِ ، فَقَالَ الزُّبَيْرُ : فَأَنَا شَرِيكُهُ فِي الْبَيْعِ ، فَقَالَ عُثْمَانُ : كَيْفَ أَحْجُرُ عَلَى رَجُلٍ فِي بَيْعٍ شَرِيكُهُ فِيهِ الزُّبَيْرُ ؟ " ، قَالَ يَعْقُوبُ : أنا آخُذُ بِالْحَجْرِ وَأُرَاهُ ، وَأَحْجُرُ ، وَأُبْطِلُ بَيْعَ الْمَحجُورِ عَلَيْهِ وَشِرَاهُ ، وَإِذَا اشْتَرَى أَوْ بَاعَ قَبْلَ الْحَجْرِ ، فَإِنْ كَانَ صَلاحًا أَجَزْتُهُ ، وَإِنْ كَانَ مَعْنًى يَسْتَحِقُّ الْحَجْرَ حَجَرْتُ عَلَيْهِ وَرَدَدْتُ عَلَيْهِ بَيْعَهُ ، وَإِنْ كَانَ مِمَّنْ لا يَسْتَحِقُّ الْحَجْرَ عَلَيْهِ أَجَزْتُ بَيْعَهُ . قَالَ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ : وَكَانَ أَبُو حَنِيفَةَ لا يَحْجُرُ وَلا يَأْخُذُ بِالْحَجْرِ.
محمد محی الدین
ہشام بن عروہ یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ عبداللہ بن جعفر، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے: میں نے فلاں چیز اتنے عوض میں خریدی ہے، اب سیدنا علی رضی اللہ عنہ یہ چاہتے ہیں کہ وہ امیر المؤمنین کے پاس جا کر مجھے اس میں تصرف کرنے سے روک دیں۔ تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس سودے میں آپ کے ساتھ حصے دار بن جاتا ہوں۔ پھر وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: جعفر کے صاحبزادے نے فلاں چیز اتنے کے عوض میں خریدی ہے، میں انہیں تصرف سے روکنے لگا ہوں۔ تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس سودے میں، میں بھی ان کے ساتھ حصے دار ہوں۔ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں کسی کو سودے کے بارے میں تصرف کرنے سے کیسے روک سکتا ہوں، جس میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اس کے شراکت دار ہوں۔ اس روایت کے راوی یعقوب یعنی قاضی ابویوسف یہ فرماتے ہیں: میں یہ موقف رکھتا ہوں کہ ایسی صورت میں متعلقہ شخص کو تصرف کرنے کے حوالے سے روکا جا سکتا ہے، میں یہ سمجھتا ہوں کہ ایسے شخص کو میں روک دوں گا اور اس کے کیے ہوئے سودے کو باطل قرار دوں گا، جب تک وہ تصرف کرنے سے روک دیا گیا ہے، خواہ اس نے کچھ خریدا ہو یا فروخت کیا ہو۔ لیکن اگر کسی شخص کے تصرف کیے جانے سے پہلے کوئی چیز خریدی یا فروخت کی ہو، تو اگر وہ درست حالت میں ہو، تو میں اس کو درست قرار دوں گا، لیکن اگر اس میں کوئی ایسی صورت پائی جا رہی ہو جس کی وجہ سے وہ اس بات کا مستحق ہو کہ تصرف سے روک دیا جائے تو میں متعلقہ شخص کو تصرف سے روک دوں گا اور اس کے سودے کو کالعدم قرار دے دوں گا لیکن اگر وہ ایسی چیز ہو جس میں تصرف سے روکنا ضروری نہیں ہے، میں اس کے سودے کو درست قرار دوں گا۔ قاضی ابویوسف کہتے ہیں: امام ابوحنیفہ نہ تو تصرف سے روکتے تھے اور نہ ہی انہوں نے تصرف سے روکنے کے بارے میں فتویٰ دیا ہے۔
حدیث نمبر: 4553
نَا أَبُو عَلِيٍّ الصَّفَّارُ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا أَبُو عَاصِمٍ ، نَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ الْيَدَ وَاللِّسَانَ " .
محمد محی الدین
مکحول بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کا حق ہو، اس کا ہاتھ اور زبان ہوتی ہے۔“
حدیث نمبر: 4554
نَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ الْمُقْرِئُ ، نَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْمَرْوَزِيُّ ، نَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ ، نَا أَبِي ، نَا عِيسَى بْنُ مُوسَى ، نَا أَبُو حَمْزَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا مَاتَ الرَّجُلُ ، وَعَلَيْهِ دَيْنٌ إِلَى أَجَلٍ ، وَلَهُ دَيْنٌ إِلَى أَجَلٍ فَالَّذِي عَلَيْهِ حَالٌّ ، وَالَّذِي لَهُ إِلَى أَجَلِهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کوئی شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمے قرض کی ادائیگی لازم ہو اور اس نے کسی سے قرض واپس بھی لینا ہو، تو جو ادائیگی اس کے ذمے لازم ہے وہ فوری طور پر ادا کرنا ہو گی اور جو قرض اس نے لینا ہے وہ اپنے طے شدہ وقت پر وصول کیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 4555
نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي حَامِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ سَيَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " إِنَّمَا جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، الشُّفْعَةَ فِي كُلِّ مَا لَمْ يُقْسَمْ ، فَإِذَا قُسِمَ وَوَقَعَتِ الْحُدُودُ وَصُرِّفَتِ الطُّرُقُ ، فَلا شُفْعَةَ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”شفعہ“ کا حق ہر اس چیز کے بارے میں مقرر کیا ہے، جو تقسیم نہ کی گئی ہو، جس کو تقسیم کر دیا گیا ہو اور اس میں حدود کا تعین کر لیا گیا ہو، راستے الگ ہو چکے ہوں تو اس میں شفعہ نہ ہو گا۔
حدیث نمبر: 4556
نَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، وَعُمَرُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالا : نَا أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ مُسَاوِرٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَعْمَرٍ ، هُوَ ابْنُ أَخِي أَبِي مَعْمَرٍ الْقَطِيعِيِّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْوَاسِطِيُّ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجَازَ شَهَادَةَ الْقَابِلَةِ " ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنَ الأَعْمَشِ ، بَيْنَهُمَا رَجُلٌ مَجْهُولٌ.
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (بچے کی پیدائش کے وقت موجود) دائی کی گواہی کو برقرار رکھا تھا۔
حدیث نمبر: 4557
نَا عُمَرُ بْنُ الْحَسَنِ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْفَضْلِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَطَرٍ ، قَالا : نَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَدَائِنِيِّ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجَازَ شَهَادَةَ الْقَابِلَةِ " .
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (بچے کی پیدائش کے وقت موجود) دائی کی گواہی کو برقرار رکھا تھا۔
حدیث نمبر: 4558
نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّوَّافُ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَيْمُونٍ ، نَا عَائِذُ بْنُ حَبِيبٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : " شَهَادَةُ الْقَابِلَةِ جَائِزَةٌ عَلَى الاسْتِهْلالِ " .
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں: بچے کی پیدائش کے بارے میں دائی کی گواہی قبول کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 4559
ثنا عُمَرُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْبَلَدِيُّ ، نَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، نَا بَقِيَّةُ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَأَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " أَجَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، شَهَادَةَ رَجُلٍ وَامْرَأَتَيْنِ فِي النِّكَاحِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح میں ایک مرد اور دو خواتین کی گواہی کو قبول کیا تھا۔
حدیث نمبر: 4560
نَا نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْعَطَّارُ بِالْبَصْرَةِ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، نَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ خَلِيفَةَ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَأَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ خِلاسٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " أَنَّهُ فَرَضَ لامْرَأَةٍ وَخَادِمِهَا اثْنَا عَشَرَ دِرْهَمًا ، لِلْمَرْأَةِ ثَمَانِيَةٌ ، وَلِلْخَادِمِ أَرْبَعَةٌ ، وَدِرْهَمَانِ مِنَ الثَّمَانِيَةِ لِلْقُطْنِ وَالْكَتَّانِ " .
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے بارہ درہم کی ادائیگی (شوہر پر) لازم قرار دی تھی۔ عورت کو (خرچ کے طور پر شوہر کی طرف سے) آٹھ درہم ملیں گے اور خادم کو چار درہم ملیں گے (عورت کے) آٹھ میں سے دو درہم روئی اور ریشم کے لیے ہوں گے۔
حدیث نمبر: 4561
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وَأَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، وَقَتَادَةَ ، وَحُمَيْدٍ ، وَسِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، " أَنَّ رَجُلا أَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ ، فَأَقْرَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَرَدَّ أَرْبَعَةً فِي الرِّقِّ ".
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے مرتے وقت چھ غلام آزاد کر دیے، اس شخص کے پاس ان غلاموں کے علاوہ کوئی مال نہیں تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان غلاموں کی قرعہ اندازی کی، ان میں سے دو غلاموں کو آزاد کر دیا اور باقی چار کو غلامی میں برقرار رکھا۔
حدیث نمبر: 4562
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ أَبِي نَصْرٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، نَا اللَّيْثُ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، وَعَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : " تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَتَرَكَ سِتَّةً أَعْبُدٍ لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ فَأَعْتَقَهُمْ جَمِيعًا عِنْدَ مَوْتِهِ ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَزَّأَهُمْ ثَلاثَةَ أَجْزَاءٍ ، ثُمَّ أَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ الثُّلُثَ ، وَأَرَقَّ الثُّلُثَيْنِ " ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنِ الْحَسَنِ . وَلا أَعْلَمُهُ إِلا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، مثل ذَلِكَ.
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص فوت ہو گیا، اس نے ترکہ میں چھ غلام چھوڑے، اس شخص کے پاس ان غلاموں کے علاوہ کوئی مال نہیں تھا۔ اس شخص نے مرتے وقت ان تمام غلاموں کو آزاد کر دیا۔ یہ مقدمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تین حصوں میں تقسیم کیا، ان کے درمیان قرعہ اندازی کی، ایک تہائی حصے کو آزاد قرار دیا اور دو تہائی کو غلام رہنے دیا (یعنی دو کو آزاد کر دیا اور چار کو غلام رہنے دیا)۔
حدیث نمبر: 4563
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمْدَوَيْهِ الْمَرْوَزِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَمَّادِ الأَيْلِيُّ ، نَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، نَا اللَّيْثُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ تَوْبَةَ بْنِ نَمِرٍ ، عَنْ جَعْفَرٍ الدِّمَشْقِيِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ : " أَعْتَقَ رَجُلٌ سِتَّةَ أَرْؤُسٍ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَسْهَمَ عَلَيْهِمْ فَأَخْرَجَ ثُلُثَهُمْ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے چھ غلام آزاد کر دیے، اس کے پاس ان غلاموں کے علاوہ کوئی مال نہیں تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں اطلاع ملی تو آپ اس پر شدید ناراض ہوئے، پھر آپ نے ان کے حصے کر کے ان کو ایک تہائی دیا (یعنی دو غلاموں کو آزاد کر دیا)۔
حدیث نمبر: 4564
نَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَالِكِيُّ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمِيمِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ . ح وَنا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَنَّاطُ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَاللَّفْظُ لأَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالا : نَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : جَاءَتْ هِنْدُ بِنْتُ عُتْبَةَ امْرَأَةُ أَبِي سُفْيَانَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ ، وَإِنَّهُ لا يُعْطِينِي مَا يَكْفِينِي وَيَكْفِي بَنِيَّ إِلا أَنْ آخُذَ وَهُوَ لا يَعْلَمُ ، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ فِي ذَلِكَ ؟ ، قَالَ : خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَيَكْفِي أَوْلادَكِ ، بِالْمَعْرُوفِ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہند بنت عتبہ جو ابوسفیان کی اہلیہ تھیں، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ابوسفیان ایک کنجوس آدمی ہیں، وہ مجھے اتنا خرچ نہیں دیتے ہیں جو میرے یا میرے بچوں کے لیے کافی ہو، تو مجھے ان کی لاعلمی میں نکالنا پڑتا ہے، کیا اس بارے میں مجھ پر گناہ ہو گا؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اتنا حاصل کر لیا کرو جو تمہارے اور تمہاری اولاد کے لیے مناسب طریقے سے کافی ہو۔“
…