حدیث نمبر: 4506
نَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ عَلِيٍّ الْخَوَّاصُ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ نَاصِحٍ ، نَا أَبُو دَاوُدَ ، نَا زَمْعَةُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْبِلادُ بِلادُ اللَّهِ ، وَالْعِبَادُ عِبَادُ اللَّهِ ، وَمَنْ أَحْيَا مِنْ مَوَاتِ الأَرْضِ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ ، وَلَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمام شہر، اللہ کے شہر ہیں، تمام بندے اللہ کے بندے ہیں، جو شخص کسی بنجر زمین کو آباد کرتا ہے وہ اسے مل جائے گی اور کوئی شخص ظلم کے طور پر اس پر قبضہ نہیں کر سکتا۔“
حدیث نمبر: 4507
نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، وَأَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، و أبو علي الصفار ، قَالُوا : نَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ، نَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرَّازِيُّ ، نَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْبَيِّنَةُ عَلَى مَنِ ادَّعَى ، وَالْيَمِينُ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ إِلا فِي الْقَسَامَةِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ثبوت پیش کرنا اس شخص پر لازم ہو گا جو دعویٰ کرتا ہے اور جو اس کا انکار کر دیتا ہے اس پر قسم اٹھانا لازم ہو گا، البتہ قسامت کا حکم مختلف ہے۔“
حدیث نمبر: 4508
نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيُّ ، نَا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الضَّحَّاكِ ، وَمُطَرِّفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالا : نَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ . ح وَنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، وَأَبُو عَلِيٍّ الصَّفَّارُ ، قَالا : نَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا مُطَرِّفٌ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ خَالِدٍ . ح وَنا ابْنُ مَخْلَدٍ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَتِيقُ ، نَا مُطَرِّفٌ ، عَنِ الزَّنْجِيِّ بْنِ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْبَيِّنَةُ عَلَى مَنِ ادَّعَى ، وَالْيَمِينُ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ ، إِلا فِي الْقَسَامَةِ " ، وَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ . وَحَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، مُرْسَلا.
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے، اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دعویٰ کرنے والے شخص پر ثبوت پیش کرنا لازم ہے اور انکار کرنے والے شخص پر قسم اٹھانا لازم ہو گا، البتہ قسامت کا حکم مختلف ہے۔“
حدیث نمبر: 4509
نَا أَبُو حَامِدٍ بْنُ هَارُونَ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ الْهَمْدَانِيُّ . ح وَنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْمَرْوَرُوذِيُّ ، قَالا : نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ ، نَا حَجَّاجٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي ، وَالْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دعویٰ کرنے والے شخص پر ثبوت پیش کرنا لازم ہے، اور جس شخص کے خلاف دعویٰ کیا گیا ہو، اس پر قسم اٹھانا لازم ہے۔“
حدیث نمبر: 4510
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ رَبِيعَةَ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ خَالِدٍ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، نَا أَبُو حَنِيفَةَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ شُرَيْحٍ ، عَنْ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي ، وَالْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ”جو شخص دعویٰ کرتا ہے اس پر ثبوت پیش کرنا لازم ہے اور جس شخص کے خلاف دعویٰ کیا گیا ہو، اس پر صرف قسم اٹھانا لازم ہو گا۔“
حدیث نمبر: 4511
نَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ هَيَّاجٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَرْحَبِيُّ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدَةُ بْنُ الأَسْوَدِ ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ سِنَانِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمُدَّعَى عَلَيْهِ أَوْلَى بِالْيَمِينِ ، إِلا أَنْ تَقُومَ بَيِّنَةٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ جس شخص کے خلاف دعویٰ کیا گیا ہو، وہ اس بات کا حق دار ہو گا کہ صرف قسم اٹھا لے، البتہ اگر ثبوت پیش ہو جائے (تو حکم مختلف ہو گا)۔
حدیث نمبر: 4512
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ خُرَيْنِقَ بِنْتِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، قَالَ : " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاهِدَيْنِ عَلَى الْمُدَّعِي ، وَالْيَمِينِ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعویٰ کرنے والے کو حکم دیا تھا کہ وہ دو گواہ پیش کرے اور جس شخص کے خلاف دعویٰ کیا گیا تھا اسے قسم اٹھانے کی ہدایت کی تھی۔
حدیث نمبر: 4513
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا الرَّمَادِيُّ ، نَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ، نَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلالٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مَنْ طَلَبَ عِنْدَ أَخِيهِ طَلْبَةً بِغَيْرِ شُهَدَاءَ ، فَالْمَطْلُوبُ أَوْلَى بِالْيَمِينِ " .
محمد محی الدین
سیدنا زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جو شخص ثبوت کے بغیر اپنے بھائی سے کچھ حاصل کرتا ہے، تو جس شخص کے خلاف مقدمہ ہے، اس شخص کے لیے قسم اٹھانا ضروری ہو گا۔
حدیث نمبر: 4514
نَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ ، نَا رَوْحُ بْنُ صَلاحٍ ، نَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لا تَجُوزُ شَهَادَةُ بَدَوِيٍّ عَلَى صَاحِبِ قَرْيَةٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا: ”کسی بھی دیہاتی شخص کی گواہی شہر میں رہنے والے شخص کے خلاف درست نہیں ہو گی۔“
حدیث نمبر: 4515
نَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرِ الدَّقَّاقُ ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَنَافِعُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا تُقْبَلُ شَهَادَةُ الْبَدَوِيِّ عَلَى الْقَرَوِيِّ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کہ ”شہری شخص کے خلاف کسی دیہاتی شخص کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔“
حدیث نمبر: 4516
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا خَلادُ بْنُ أَسْلَمَ ، نَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي صِدِّيقُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا تَعْصُبَةَ عَلَى الْمِيرَاثِ إِلا مَا حَمَلَ الْقَسَمَ " .
محمد محی الدین
محمد بن ابوبکر اپنے والد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اسی وراثت کو تقسیم کیا جاتا ہے، جسے تقسیم کیا جا سکتا ہو۔“
حدیث نمبر: 4517
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ صِدِّيقِ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، كَذَا قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا تَعْصُبَةَ عَلَى أَهْلِ الْمِيرَاثِ إِلا مَا حَمَلَ الْقَسَمَ " .
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے والد کے حوالے سے اسی طرح نقل کرتے ہیں جس میں یہ بات منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی وراثت کو تقسیم کیا جا سکتا ہے، جسے تقسیم کیا جا سکے۔“
حدیث نمبر: 4518
نَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، أنا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " وُجِدَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ قَتِيلا فِي دَالِيَةِ نَاسٍ مِنَ الْيَهُودِ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ فَأَخَذَ مِنْهُمْ خَمْسِينَ رَجُلا مِنْ خِيَارِهِمْ فَاسْتَحْلَفَ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ بِاللَّهِ مَا قَتَلْتُ وَلا عَلِمْتُ قَاتِلا ، ثُمَّ جَعَلَ الدِّيَةَ عَلَيْهِمْ ، قَالُوا : لَقَدْ قَضَى بِمَا فِي نَامُوسِ مُوسَى الْكَلْبِيُّ " مَتْرُوكٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک انصاری خیبر میں یہودیوں کے کنویں کے پاس مقتول پایا گیا، ان لوگوں نے اس بات کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو پیغام بھجوایا کہ وہ لوگ 50 افراد کو لیں، جن میں سے ہر ایک شخص کا نام لے کر قسم اٹھائے کہ ”میں نے اسے قتل نہیں کیا، نہ ہی میں قاتل کے بارے میں کچھ جانتا ہوں۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر دیت کی ادائیگی لازم قرار دی۔ تو انہوں نے کہا: ان صاحب نے وہی فیصلہ دیا ہے جو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی شریعت میں تھا۔
حدیث نمبر: 4519
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُلَيْلٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، نَا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ، نَا أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَنا عُثْمَانُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْدَلانِيُّ ، وَهِبَةُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُقْرِئُ ، قَالا : نَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ مُوسَى الْمُقْرِئُ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، نَا يَحْيَى بْنُ أَبِي الْخَصِيبِ ، نَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَرِيمُ الْبِئْرِ الْبَدِيِّ خَمْسَةٌ وَعِشْرُونَ ذِرَاعًا ، وَحَرِيمُ الْبِئْرِ الْعَادِيَّةِ خَمْسُونَ ذِرَاعًا ، وَحَرِيمُ الْعَيْنِ السَّائِحَةِ ثَلاثُمِائَةٍ ذِرَاعٍ ، وَحَرِيمُ عَيْنِ الزَّرْعِ سَتُّمِائَةِ ذِرَاعٍ " ، لَفْظُهُمَا سَوَاءٌ الصَّحِيحُ مِنَ الْحَدِيثِ أَنَّهُ مُرْسَلٌ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ ، وَمَنْ أَسْنَدَهُ فَقَدْ وَهِمَ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنگل میں موجود کنویں کے آس پاس 25 ہاتھ تک کی جگہ حفاظتی ہوتی ہے اور آبادی میں موجود کنویں کے آس پاس کے 50 ہاتھ تک کی جگہ حفاظتی ہوتی ہے، کھلی جگہ پر بہنے والے چشمے کے آس پاس تین سو ہاتھ تک کی جگہ حفاظتی ہوتی ہے، جبکہ کھیتی باڑی کے پاس بہنے والے چشمے کی چھ سو ہاتھ کی جگہ حفاظتی ہوتی ہے۔“
حدیث نمبر: 4520
حَدَّثَنِي أَبِي ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي عُمَرَ ، نَا فَرَجُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ ، حَدَّثَنِي عَمِّي ثَابِتُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ ، حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِيهِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ ، أَنَّهُ " اسْتَقْطَعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِلْحَ الَّذِي يُقَالُ لَهُ : مِلْحُ شَذَّا بِمَأْرِبَ فَقَطَعَهُ لَهُ ، ثُمَّ إِنَّ الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ التَّمِيمِيَّ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي قَدْ وَرَدْتُ الْمِلْحَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، وَهُوَ بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا مَاءٌ ، وَمَنْ وَرَدَهُ أَخَذَهُ وَهُوَ مثل الْمَاءِ الْعِدِّ ، فَاسْتَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْيَضَ بْنَ حَمَّالٍ فِي قَطِيعَتِهِ مِنْهُ ، قَالَ أَبْيَضُ : قَدْ أَقَلْتُكَ مِنْهُ عَلَى أَنْ تَجْعَلَهُ مِنِّي صَدَقَةً ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هُوَ مِنْكَ صَدَقَةٌ ، وَهُوَ مثل الْمَاءِ الْعِدِّ وَمَنْ وَرَدَهُ أَخَذَهُ " ، قَالَ الْفَرَجُ : وَهُوَ الْيَوْمَ عَلَى ذَلِكَ مَنْ وَرَدَهُ أَخَذَهُ ، وَقَطَعَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْضًا وَنَخِيلا بِالْجَوْفِ جَوْفُ مُرَادٍ حِينَ أَقَالَهُ مِنْهُ.
محمد محی الدین
سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ ”مآرب“ کے مقام پر موجود ”ملح شذا“ نام کا (قطعہ اراضی) انہیں عطا کر دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جگہ انہیں عطا کر دی، اس کے بعد اقرع بن حابس تمیمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ! میں زمانہ جاہلیت میں اس مقام تک پہنچ گیا تھا، یہ وہ جگہ تھی جہاں پانی کا نام و نشان نہیں تھا۔ جو شخص وہاں پہنچ جاتا تھا وہ وہاں قبضہ کر لیتا تھا، اس کی مثال بہتے ہوئے پانی کی تھی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابیض بن حمال سے وہ جگہ واپس لے لی۔ تو سیدنا ابیض نے عرض کی کہ میں یہ اس شرط پر واپس کر رہا ہوں کہ یہ میری طرف سے صدقہ شمار ہو گی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تمہاری طرف سے صدقہ شمار ہو گی لیکن اس کی مثال بہتے ہوئے پانی کی سی ہے، جو شخص اس تک پہنچ جائے گا وہ اسے حاصل کر لے گا۔“ فرخ نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے کہ وہ جگہ آج بھی اسی طرح ہے جو شخص وہاں پہنچ جاتا ہے وہ اسے حاصل کر لیتا ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابیض بن حمال کو ”جرف“ کے مقام پر جو ”جرف مراد“ ہے، وہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کھجوروں کا باغ عنایت کیا، یہ اس پہلی زمین کے بدلے میں تھا۔
حدیث نمبر: 4521
حَدَّثَنِي أَبِي ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي سَمِينَةَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ قَيْسٍ الْمَأْرَبِيُّ ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ شَرَاحِيلَ ، عَنْ سُمَيِّ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ شُمَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ ، قَالَ : " وَفَدْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَقْطَعْتُهُ الْمِلْحَ ، فَقَطَعَهُ لِي ، فَلَمَّا وَلَّيْتُ قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَدْرِي مَا أَقْطَعْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا أَقْطَعْتَهُ الْمَاءَ الْعِدَّ ، فَرَجَعَ فِيهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا: میں نے آپ سے ”ملح“ نامی جگہ مانگی، آپ نے وہ مجھے عطا کر دی، جب میں وہاں سے اٹھ کر واپس جانے لگا تو ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا آپ کو پتا ہے کہ آپ نے اس کو کون سی جگہ دی ہے، آپ نے اسے بہتا ہوا پانی دے دیا ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے وہ جگہ واپس لے لی۔
حدیث نمبر: 4522
نَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، نَا عَطَاءٌ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ فَكَانَ مِنْ أَوْثَقِ أَعْمَالِي فِي نَفْسِي ، وَكَانَ لِي أَجِيرٌ فَقَاتَلَ إِنْسَانًا فَعَضَّ أَحَدُهُمَا إِصْبَعَ صَاحِبِهِ ، فَلَقَدْ سَمَّى لِي صَفْوَانُ أَيُّهُمَا عَضَّ فَنَسِيتُهُ ، قَالَ : فَانْتَزَعَ إِصْبَعَهُ فَانْكَسَرَتْ ثَنِيَّتُهُ فَرَفَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَهْدَرَ ثَنِيَّتَهُ ، وَقَالَ : يَدَعُ يَدَهُ فِي فِيكَ تَقْضَمُهَا ، أَحْسَبُهُ قَالَ : كَقَضْمِ الْفَحْلِ " .
محمد محی الدین
سیدنا صفوان بن یعلیٰ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں شریک ہوا، میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ میری سب سے بڑی نیکی تھی۔ میرے ساتھ میرا ایک مزدور بھی تھا، اس کی ایک شخص کے ساتھ لڑائی ہو گئی، ان دونوں میں سے کسی ایک نے دوسرے شخص کی انگلی چبا لی (راوی کہتے ہیں:) سیدنا سفیان نے اس بات کا تذکرہ کیا تھا کہ کس نے کس کی انگلی چبائی تھی، مجھے یہ بات بھول گئی ہے۔ دوسرے شخص نے اپنا ہاتھ کھینچا تو چبانے والے شخص کے سامنے کے دانت ٹوٹ گئے۔ یہ مقدمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش ہوا تو آپ نے ان دانتوں کو رائیگاں قرار دیا اور فرمایا: ”کیا یہ شخص اپنا ہاتھ تمہارے منہ میں رہنے دیتا تا کہ تم اس کا ہاتھ چبا ڈالتے۔“ (راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ روایت میں یہ مثال ہے) ”تم سانڈ کی طرح چبا لیتے۔“
حدیث نمبر: 4523
نَا ابْنُ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ ، عَنْ عَمَّيْهِ يَعْلَى ، وَسَلَمَةَ ابْنِي أُمَيَّةَ ، قَالا : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَمَعَنَا صَاحِبٌ لَنَا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ ، فَقَاتَلَ رَجُلا فَعَضَّ الرَّجُلُ ذِرَاعَهُ فَجَذَبَهَا مِنْ فِيهِ فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتَاهُ ، فَذَهَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ الْعَقْلَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَنْطَلِقُ أَحَدُكُمْ إِلَى أَخِيهِ فَيَعَضُّهُ عَضِيضَ الْفَحْلِ ، ثُمَّ يَأْتِي يَسْأَلُ الْعَقْلَ لا حَقَّ لَكَ ، فَأَطَلَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ،.
محمد محی الدین
سفیان بن عبداللہ اپنے دو چچاؤں سیدنا یعلیٰ اور سیدنا سلمہ کا بیان نقل کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں شریک ہوئے، ہمارے ساتھ مکہ میں رہنے والا ایک شخص بھی تھا، اس کی ایک شخص کے ساتھ لڑائی ہو گئی، اس نے دوسرے کے بازو پر زور سے کاٹا، دوسرے شخص نے اس کے منہ سے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کے سامنے والے دو دانت ٹوٹ گئے۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تا کہ وہ اس کی دیت دلوائیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص اپنے بھائی کی طرف جا کر اسے سانڈ کی طرح کاٹ لیتا ہے اور پھر وہ آ جاتا ہے تا کہ اس بارے میں مطالبہ کرے، تمہیں کوئی حق نہیں ملے گا۔“ راوی کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا۔
حدیث نمبر: 4524
نا الْفَارِسِيُّ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ ، فَقَالَ : " لا عَقْلَ لَهَا " ، فَأَطَلَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، اس میں یہ الفاظ ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی کوئی دیت نہیں ہو گی۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایسے ہی چھوڑ دیا۔