حدیث نمبر: 4503
حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ ابْنِ ابْنَةِ مَنِيعٍ ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ ، نَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي سَمِينَةَ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، نَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَجُلٌ لَهُ امْرَأَةٌ وَلَدَتْ مِنْهُ وَلَدَيْنِ ، قَالَ : " فَكَانَتْ تُؤْذِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْهَاهَا فَلا تَنْتَهِي وَيَزْجُرُهَا فَلا تَنْزَجِرُ ، قَالَ : فَذَكَرَتْهُ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَامَ إِلَيْهَا بِمِعْوَلٍ فَوَضَعَهُ فِي بَطْنِهَا ، ثُمَّ اتَّكَأَ عَلَيْهَا حَتَّى أَنْفَذَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلا اشْهَدُوا أَنَّ دَمَهَا هَدَرٌ " ،.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کی بیوی جس نے اس شخص کے دو بچوں کو جنم دیا تھا، وہ عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا پہنچایا کرتی تھی۔ وہ شخص اس عورت کو منع کرتا تھا لیکن وہ عورت باز نہیں آتی تھی۔ اس نے اس عورت کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی، وہ ڈری بھی نہیں۔ ایک دن اس عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نامناسب بات کی تو اس کے شوہر نے کدال لی اور اس کے پیٹ پر رکھ کر وزن ڈالا، یہاں تک کہ وہ کدال اس کے جسم سے پار ہو گئی (اور وہ عورت مر گئی)۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ گواہ رہنا! اس عورت کا خون رائیگاں گیا ہے۔“
حدیث نمبر: 4504
نَا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّرْبِيُّ ، نَا ابْنُ كَرَامَةَ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
یہ روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔
حدیث نمبر: 4505
نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، نَا أَبُو دَاوُدَ ، نَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، نَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِهَذَا وَقَالَ : " فَلَمَّا كَانَ الْبَارِحَةَ جَعَلَتْ تَشْتُمُكَ ، وَتَقَعُ فِيكَ فَقَتَلْتُهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلا اشْهَدُوا أَنَّ دَمَهَا هَدَرٌ " ، قَالَ الشَّيْخُ الدَّارَقُطْنِيُّ : فِيهِ سُنَّةٌ فِي الأَصْلِ فِي إِشْهَادِ الْحَاكِمِ عَلَى نَفْسِهِ بِإِنْفَاذِ الْقَضَاءِ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہی بات منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: اس شخص نے عرض کی: گزشتہ دن اس عورت نے آپ کو برا کہنا شروع کیا اور آپ کی شان میں گستاخی کی تو میں نے اسے قتل کر دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ گواہ رہنا کہ اس عورت کا خون رائیگاں گیا ہے۔“ امام دارقطنی نے یہ بات بیان کی ہے کہ اس سے یہ سنت ثابت ہوتی ہے، کوئی فیصلہ دیتے ہوئے حاکم لوگوں کو اپنی ذات کے بارے میں گواہ بنا سکتا ہے۔