حدیث نمبر: 4428
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، نَا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ ، نَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمِائَةَ سَهْمٍ الَّتِي لِي بِخَيْبَرَ لَمْ أُصِبْ مَالا قَطُّ هُوَ أَعْجَبُ إِلَيَّ مِنْهَا ، وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " احْبِسْ أَصْلَهَا ، وَسَبِّلْ ثَمَرَتَهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: ”مجھے خیبر میں سو حصے ملے تھے، مجھے اس سے زیادہ پسندیدہ مال کبھی نہیں ملا، میں یہ چاہتا ہوں کہ اسے صدقہ کر دوں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اصل زمین کو اپنے پاس رکھو اور اس کے پھل کو اللہ کی راہ میں دے دو۔“
حدیث نمبر: 4429
نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالا : نَا بِشْرُ بْنُ مَطَرٍ ، نَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ كَانَ مَلَكَ مِائَةَ سَهْمٍ مِنْ خَيْبَرَ ، وَاشْتَرَاهَا حَتَّى اسْتَجْمَعَهَا ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنِّي قَدْ أَصَبْتُ مَالا لَمْ أُصِبْ مِثْلَهُ ، وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَتَقَرَّبَ بِهِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى ، فَقَالَ : احْبِسِ الأَصْلَ وَسَبِّلِ الثَّمَرَ " ،.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہ خیبر میں سو حصوں کے مالک بنے تھے، انہوں نے کچھ اور زمین بھی خرید کر اسے اکٹھا کر لیا، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بولے: ”مجھے ایسی زمین ملی ہے کہ اس طرح کی زمین پہلے کبھی نہیں ملی، میں یہ چاہتا ہوں کہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قرب حاصل کروں (یعنی اس کو صدقہ کر دوں)۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اصل زمین اپنے پاس رکھو اور اس کے پھل کو اللہ کی راہ میں دو۔“
حدیث نمبر: 4430
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَرْزُوقٍ ، قَالا : نَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ عُمَر ُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مثل قَوْلِ الزُّبَيْرِ بْنِ بَكَّارٍ سَوَاءً.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی، اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے۔
حدیث نمبر: 4431
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : جَاءَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " إِنِّي أَصَبْتُ مَالا لَمْ أُصِبْ مِثْلَهُ قَطُّ ، وَكَانَ لَهُ مِائَةُ رَأْسٍ فَاشْتَرَيْتُ بِهَا مِائَةَ سَهْمٍ مِنْ خَيْبَرَ مِنْ أَهْلِهَا ، وَإِنِّي قَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَتَقَرَّبَ بِهَا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، قَالَ : فَاحْبِسْ أَصْلَهَا وَسَبِّلِ الثَّمَرَ " ، وَرَوَاهُ غَيْرُ شَيْخِنَا ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! مجھے ایسی زمین ملی ہے کہ اس طرح کی زمین مجھے کبھی نہیں ملی۔“ (راوی کہتے ہیں:) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ایک سو حصے ملے تھے۔ وہ کہتے ہیں: میں نے اس کے ذریعے خیبر میں ایک سو حصے اس کے مالکان سے خریدے (یعنی اتنی زمین خرید لی)، میں یہ چاہتا ہوں کہ میں اس کے ذریعے اللہ کی بارگاہ میں قرب حاصل کروں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اصل زمین کو روکے رہو، اس کے پھل کو اللہ کی راہ میں دو۔“
حدیث نمبر: 4432
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخَلَنْجِيُّ ، بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ ، نَا سُفْيَانُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى بْنِ بُهْلُولٍ ، نَا بَقِيَّةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَالِمٍ الْمَكِّيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنْ أَرْضٍ مِنْ ثَمْغٍ ، فَقَالَ : احْبِسْ أَصْلَهَا وَسَبِّلْ ثَمَرَهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شمغ میں موجود زمین کے بارے میں دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم زمین اپنے پاس رکھو اور پھل اللہ کی راہ میں دو۔“
حدیث نمبر: 4433
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْبَزَّازُ أَبُو جَعْفَرٍ الْكُوفِيُّ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " إِنَّ لِي مَالا بِثَمْغٍ أَكْرَهُ أَنْ يُبَاعَ بَعْدِي ، قَالَ : فَاحْبِسْهُ وَسَبِّلْ ثَمَرَهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! مجھے شمغ میں زمین ملی ہے، میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ اسے میرے بعد فروخت کر دیا جائے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اسے روکے رکھو اور اس کا پھل اللہ کی راہ میں دو۔“
حدیث نمبر: 4434
نَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ ، نَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ ، نَا أَبُو بَكْرٍ الأَثْرَمُ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ دُبَيْسٍ الْكِنْدِيُّ ، نَا صَالِحُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، أَصَابَ أَرْضًا بِخَيْبَرَ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ مَا أَصَبْتُ مَالا هُوَ أَنْفَسُ عِنْدِي مِنْهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا ، وَتَصَدَّقْتَ بِهَا ، فَقَالَ : فَحَبَسَ عُمَرُ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقَ بِهَا ، لا تُبَاعُ ، وَلا تُوهَبُ ، وَلا تُورَثُ ، فِي الْفُقَرَاءِ ، وَذَوِي الْقُرْبَى ، وَالرِّقَابِ ، وَالضَّيْفِ ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَابْنِ السَّبِيلِ ، وَلا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ بِالْمَعْرُوفِ وَيُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ مِنْهُ مَالا " ، قَالَ الأَثْرَمُ : أَفَادَنا ابْنُ نُمَيْرٍ هَذَا الشَّيْخَ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خیبر میں زمین ملی، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: ”مجھے خیبر میں زمین ملی ہے، مجھے کبھی ایسی زمین نہیں ملی، جو میرے نزدیک اس زمین سے زیادہ بہترین ہو۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم چاہو، تو اصل زمین کو اپنے پاس رکھو اور اس کی پیداوار کو صدقہ کر دو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اصل زمین کو اپنے پاس رکھا اور اس کی پیداوار کو صدقہ کر دیا، اس طرح کہ اس زمین کو فروخت نہیں کیا جا سکے گا، ہبہ نہیں کیا جا سکے گا، اسے وراثت میں تقسیم نہیں کیا جا سکے گا، اس کی پیداوار غریبوں، قریبی رشتے داروں، مہمانوں، مجاہدین اور مسافروں میں تقسیم ہو گی۔ جو شخص اس کا نگران ہو گا، اسے کوئی گناہ نہیں ہو گا، اگر وہ مناسب طریقے سے اس میں سے کھا لیتا ہے، یا اپنے دوست کو کھلا دیتا ہے، جبکہ وہ مال جمع کرنے والا نہ ہو۔
حدیث نمبر: 4435
نَا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ، نَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى ، نَا أَبُو مُسْلِمٍ الْمُسْتَمْلِي . ح وَنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الصَّبَّاحِ ، قَالا : نَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ كَانَ مَلَكَ مِائَةَ سَهْمٍ مِنْ خَيْبَرَ فَاشْتَرَاهَا حَتَّى اسْتَخْلَصَهَا فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " قَدْ أَصَبْتُ شَيْئًا لَمْ أُصِبْ مِثْلَهُ ، وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَتَقَرَّبَ بِهِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، قَالَ : فَاحْتَبِسِ الأَصْلَ وَسَبِّلِ الثَّمَرَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہیں خیبر میں ایک سو حصے ملے تھے، انہوں نے اس کے ذریعے زمین خرید لی اور ان کو اکٹھا کر لیا، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: ”مجھے ایسی چیز ملی ہے کہ اس طرح کی چیز کبھی نہیں ملی، میں یہ چاہتا ہوں کہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قرب حاصل کروں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اصل زمین کو اپنے پاس رہنے دو اور اس کے پھل کو اللہ کی راہ میں دے دو۔“